Daily Mashriq

عید پر سیر وسیاحت

عید پر سیر وسیاحت

ہمارے ایک بہت ہی پیارے پروفیسر دوست ہیں، بڑے مزے کی باتیں کرتے ہیں، ذہانت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے اس لئے سوالات بہت زیادہ اُٹھاتے ہیں، دوست احباب انہیں مطمئن کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں لیکن چونکہ وہ بال کی کھال اُتارنے کے ماہر ہیں اس لئے سوال درسوال کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ بڑی مشکل سے مطمئن ہوتے ہیں مگر جب ان کی تسلی ہوجائے تو پھر دوستوں کیساتھ اتفاق کرنے میں ایک سیکنڈ کی دیر بھی نہیں لگاتے! دراصل وہ جاننا چاہتے ہیں، سیکھنا چاہتے ہیں اپنے علم میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں اس لئے بہت زیادہ پوچھتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں انہیں اپنی کم مائیگی کا اعتراف ہے اسی لئے جو بات سمجھ نہیں آتی اسے سمجھنا چاہتے ہیں۔ ایک دن ہم سے کہنے لگے کہ دنبے یا بکرے کا گوشت آپ کے گھر میں کس طرح یعنی کتنے طریقوں سے پکایا جاتا ہے؟ ہم گوشت پکانے کے دو چار طریقوں سے آشنا تھے انہیں بتا دئیے اور ساتھ ہی یہ وضاحت بھی کر دی کہ جناب ہمارے گھر میں دنبے کا گوشت ہر سال صرف عیدالاضحی کے موقع پر پکایا جاتا ہے پھر سارا سال ہم گائے کے گوشت پر ہی اکتفا کرتے ہیں! اسی سے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ وہ ہر کام اچھے طریقے سے کرنا چاہتے ہیں۔ بات تو قابل غور ہے اگر گوشت معیاری ہو لیکن اچھے طریقے سے نہ پکایا جائے تو سارے پیسے ضائع ہوجاتے ہیں اور کھانے کا مزہ بھی کرکرا ہو جاتا ہے! اس چھوٹی عید پر انہوں نے چند دوستوں کیساتھ وادی سوات کی سیر وسیاحت کا پروگرام بنایا تو ہم نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا: پروفیسر صاحب عید پر گھر سے نکلنا تو حماقت ہے یہ تو اپنے بہن بھائیوں، دوستوں، رشتہ داروں سے ملنے کا موقع ہوتا ہے اور پھر عید کے دنوں میں ہر جگہ لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے، ٹریفک اتنی زیادہ ہوتی ہے کہ جگہ جگہ ٹریفک جام کے طویل ترین خوفناک مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں ہماری بات سن کر وہ کہنے لگے کہ عید کے علاوہ ہمارے پاس وقت کہاں ہوتا ہے سرکار کی نوکری ہے، عید کی چھٹیاں غنیمت ہوتی ہیں اور جہاں تک بہن بھائیوں، دوستوں، رشتہ داروں سے ملنے کا تعلق ہے تو اس کیلئے ہم نے عید کا پہلا دن مختص کر رکھا ہے اور دوسرے دن ہم روانہ ہو جاتے ہیں پھر اپنی عادت کے مطابق کہنے لگے کہ جناب ہم نے سیر وسیاحت کے حوالے سے چند اصول طے کر رکھے ہیں تاکہ راستے میں کسی بھی قسم کی بدمزگی بھی نہ ہو اور سیر سے پورا پورا لطف بھی اٹھایا جاسکے! ان کی بات سن کر ہمارے کان کھڑے ہوگئے کہ اب حضرت ہمیں اپنے اقوال زریں سے مستفید فرمائیں گے کیونکہ ان کے سر پر ہمیشہ کچھ نیا کرنے کا بھوت سوار رہتا ہے جب ہم نے ان کے سفر کے حوالے سے ترتیب دئیے ہوئے ضابطے سنے تو ہمیں احساس ہوا کہ ہم لوگ بالکل سامنے کی باتیں فراموش کر دیتے ہیں اور اس طرح اپنے اور دوسروں کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں! ان کا کہنا تھا کہ سیر وسیاحت کیلئے جاتے وقت چند اصولوں کو ہمیشہ ذہن میں رکھنا چاہئے، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ گھر سے نکلنے سے پہلے مکمل ہوم ورک کی ضرورت ہوتی ہے کہ کس وقت سفر شروع کرنا ہے، کہاں قیام کرنا ہے اور کتنے دن قیام ہوگا واپسی کی تاریخ پہلے سے طے کر لینی چاہئے، دوران سفر بحث مباحثے سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ گھر سے نکلنے سے پہلے ہی تمام باتیں طے کر لی جائیں اس منصوبہ بندی میں چونکہ سب کی رائے شامل ہوتی ہے اس لئے اگر راستے میں کوئی رکاوٹ پیش آجائے کسی جگہ روڈ بند ہو یا ٹریفک کے مسائل درپیش ہوں تو کسی ایک ساتھی کو راستے کے انتخاب کے حوالے سے موردالزام نہ ٹھہرایا جائے! دوران سفرگاڑی میں یا کہیں بیٹھ کر خورد ونوش کے وقت کوئی کاغذ، ریپر، شاپر، سبزی یا پھلوں کے چھلکے وغیرہ سڑک، دریا، ندی یا باغ میں مت پھینکیں انہیں کسی شاپر میں ڈال کر محفوظ کرلیں اور جہاں کہیں راستے میں کوڑے دان نظر آئے تو اس میں ڈال دیں! دوران سفر ہمیشہ ٹریفک کے اصولوں کی پاسداری کریں! ٹریفک اہلکار آپ کی خدمت اور رہنمائی کیلئے ہوتے ہیں ان کیساتھ بہت زیادہ تعاون کریں! حدرفتار کا خاص خیال رکھیں اور موڑ کاٹتے وقت احتیاط سے کام لیں اپنی لین سے کبھی بھی باہر نہ نکلیں، سامنے سے آنے والے ڈرائیور اور گاڑی کی بریک کا ہرگز اعتبار نہ کریں! راستے میں جگہ جگہ رک کر موسیقی اور ناچ گانے سے پرہیز کریں، زبردستی کسی کو موسیقی سنانے کی کوشش نہ کریں! صنف نازک کا بہت زیادہ احترام کریں! اچھے اخلاق پر کچھ خرچ نہیں آتا اس سے معاشرے میں باہمی احترام کی فضا بنتی ہے جہاں تک ممکن ہو پولیس، ٹریفک اور دوسرے سیکورٹی اہلکاروں کو سلام میں پہل کریں ان کا شکریہ ادا کریں اور موقع کی مناسبت سے انہیں وش کریں جیسے عید مبارک وغیرہ! لوگ عید کی نماز پڑھ کر عیدگاہ میں عید ملتے ہیں اور ساتھ ہی کھڑے پولیس کانسٹیبل کی طرف دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کرتے حالانکہ انہیں اپنی حفاظت پر مامور کانسٹیبل سے نہ صرف عید ملنا چاہئے بلکہ اس کا شکریہ بھی ادا کرنا چاہئے کہ وہ عید کے دن بھی اپنے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہے، بظاہر یہ بہت چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں لیکن یقینا ان کے نتائج بڑے مفید ثابت ہوتے ہیں! اس مرتبہ بھی عید پر بہت سے لوگ ٹریفک حادثات میں اپنی قیمتی جانیں گنوا بیٹھے! دریا میں ڈوبنے سے بھی بہت سی ہلاکتیں ہوئی ہیں! یہ حادثات ہماری اپنی غفلت کی وجہ سے ہر سال ہوتے ہیں بس احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹے اور جلد بازی سے کام نہ لیا جائے تو ان حادثات سے باآسانی بچا جاسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں