Daily Mashriq

میں کا گرداب

میں کا گرداب

میں ہمیشہ انسان کو ایک گورکھ دھندے میں مبتلا رکھتی ہے۔ ’میں نے کہا‘ میں نے سنا‘ میں یہ چاہتا ہوں‘ میں سمجھتا ہوں‘ میں نے سمجھا‘ اس ’’میں‘‘ میں عجب گرداب کی سی کیفیت ہے۔ ’’میں کا گرداب‘‘ جس میں ہر ایک کھو جاتا ہے۔ وہ اپنی میں میں‘ تم اپنی میں میں اور میں اپنی میں میں۔ لیکن اس گرداب سے لوگ نکل بھی جایا کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھدار ہو جاتے ہیں‘ آگے بڑھ جاتے ہیں‘ بڑے ہو جاتے ہیں۔ انسان ایک عجیب سی مخلوق ہے۔ وہ جانتا بھی ہے اور مانتا بھی ہے۔ میں کو جان لے تو اس سے آگے بڑھ جاتا ہے کیونکہ مان لیتا ہے کہ میں اندھیارا ہے‘ اندھا پن ہے‘ گورکھ دھندہ ہے۔ اس سے آگے بادل نہیں‘ ہواؤں کا ڈولنا نہیں‘ کوئی جھٹکے‘ کوئی کھنچاوٹ‘ کوئی تگ ودو نہیں۔ اس کے آگے ایک پرسکوں‘ نیلگوں آسمان ہے روشن شفاف‘ کھلا‘ اس میں تیرتے رہو اور اپنے رب کی عنایات کی روشنی میں بھیگ جاؤ‘ بیکراں ہو جاؤ‘ خاموش‘ مطمئن‘ روشن۔ میں نے کئی بار یقین کو روکنے‘ جھپٹنے اور موڑ لینے کی کوشش کی ہوتی ہے لیکن وہ کئی بار کامیاب نہیں ہوتی کیونکہ میں‘ محدود ہے اور وہ جن کو لامحدود ہو جانا ہے انہیں میں کی حد بندی بڑی بے مصرف‘ بڑی محدود‘ بڑی تنگ لگتی ہے۔ممتاز مفتی نے لکھا تھا ’’اگر میں یہ جان بھی لیتا تو شاید ماننے کی نوبت نہ آتی۔ جاننا اور بات ہے اور ماننا اور بات‘‘ ہم بہت سی باتیں جان لیتے ہیں مگر وہ ہمارا جز وایمان نہیں بنتیں۔ جاننا صرف ذہن کو متحرک کرتا ہے‘ دل میں جذبہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔ عمل پر اپنا رنگ نہیں چڑھاتا۔ ایسا جاننا ذہن پر بوجھ کے علاوہ کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ میری طرح بہت سے لوگ ایسے ہیں جو سروں پر جاننے کی بھاری گھٹھڑیاں اُٹھائے پھرتے ہیں لیکن ماننے کی سبک روی سے محروم ہیں۔‘‘ یہ جملے اندر بس جائیں تو میں اپنے آپ ہی ختم ہو جاتی ہے کیونکہ مان لینے میں‘ میں رہتی نہیں اور مان لینے میں ہی اصل حقیقت ہے‘ اصل روشنی‘ اصل جذبہ‘ اصل آزادی۔ لیکن یہ میں تو کچھ اور سامنے آنے ہی نہیں دیتی۔ یہ میں اتنی محصور کر لینے والی ہے کہ رب کریم کی رحمت کو صرف اپنے پلو سے باندھ لینا چاہتی ہے۔ مجھے یہ دے دو مالک‘ میرا یہ کام کردو پروردگار‘ میرا بچہ‘ میری ماں‘ میری دنیا‘ میں کے دھاگے میں ہر ایک بات اُلجھ جاتی ہے۔ میں کے جالے میں اٹکے ہاتھ بس اتنا ہی کھل پاتے ہیں کہ اس میں اپنا آپ سما جائے حالانکہ ہمیں تو بتایا گیا تھا کہ اپنے لئے مانگنے سے اچھی دعا ہے کہ دوسروں کیلئے مانگو‘ دل کھول کر ہاتھ پھیلا کر کہ اس سے اچھا تحفہ خود کو نہیں دے سکتے اور کسی اور کیلئے بھی اس سے زیادہ کیا کہ وہ جو مالک ومختار ہے اس کا کرم‘ اس کا فضل‘ اس کی توجہ مانگی جائے۔ ہماری کنجوسی کی انتہا یہ ہے کہ ہم صرف اپنے لئے ہی دعا مانگتے ہیں‘ یہی میں کا چکر ہے۔ پھر ممتاز مفتی یاد آتے ہیں۔ اسی گنجلتا کی بات کی تھی کہتے ہیں۔ میں تو ایک عام آدمی ہوں۔ میں تو ذاتی تکلیف دور کرنے کیلئے دعا مانگ سکتا ہوں، اپنی بیماری سے چھٹکارا پانے کیلئے منت کر سکتا ہوں۔ مجھے ساری دنیا کے محتاجوں سے کیا تعلق۔ یا اللہ یہ کائنات تیری ہے‘ یہ دنیا تیری ہے‘ ساری دنیا کے بیماروں کو شفا دینا تیرا مسئلہ ہے۔ ساری دنیا کے بے ہدایتوں کو ہدایت دینا تیرا کام ہے‘ ہدایت دے یا نہ دے مجھے اس سے کیا لینا دینا۔ میں تو صرف اپنی ذات کیلئے مانگتا ہوں۔ باری تعالیٰ مجھے ہدایت دے اپنے فضل وکرم سے مجھے کسی کا محتاج نہ کرے‘ میری بیماری دور کر دے۔ تو شفا دینے والاہے۔ جب تک مانگ اپنی ذات سے متعلق نہ ہو اس میں جذبہ کیسے شامل ہو سکتا ہے۔ دل اور روح کیسے ساتھ دے سکتے ہیں۔ بے شک ماں اپنے بچے کیلئے مانگ سکتی ہے‘ بہن بھائی کیلئے مانگ سکتی ہے لیکن ساری دنیا کے بیماروں کیلئے شفا کیسے مانگی جاسکتی ہے۔ ممتاز مفتی نے روح کو جھنجھوڑ کر کہا کہ نکل آؤ اس میں کے گرداب سے لیکن میں کا گرداب بڑا طاقتور ہے اس میں سے نکلنا مشکل ہے۔ حالت یہ ہے کہ دعا مانگنے سے پہلے بھی جتن کرتی ہے۔ میں تدبیر کرلوں‘ میں دعا تک نہ جاؤں اور جب تھک جاتے ہیں تو اسی تھکان سے دعا کرتے ہیں۔ میں سے بھرپور دعا جیسی ممتاز مفتی نے بتائی کیونکہ جاننے اور ماننے کا فرق ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں ہی سے رنگ وروغن ہے لیکن اصل بات کہتے اور ہیں کیونکہ رنگ وروغن کی ضرورت ہی میں کو ہے۔ اس سے اوپر بڑھ جاؤ تو بس سکون ہے‘ شانتی ہے‘ روشنی ہے۔ یہ جاننا تو آسان ہے لیکن ماننے کی سبک روی ملتی ہی نہیں‘ تبھی تو ہم یوں اُلجھے ہوئے ہیں۔ یہ سب میں کا قصور ہے اور اس میں سے آگے‘ سب لامحدود ہے‘ مطمئن ہے‘ روشن ہے۔

متعلقہ خبریں