Daily Mashriq

یہ دور میری شراب کہن کو ترسے گا

یہ دور میری شراب کہن کو ترسے گا

ڈبلیو ڈبلیو ایف (WWF) کے بارے میں تو آپ جانتے ہوں گے جو دراصل ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن ہوا کرتا تھا‘ تاہم چونکہ اسی نام سے ایک اور عالمی تنظیم یعنی ورلڈ وائلڈ لائف فیڈریشن بھی موجود ہے جو دنیا بھر میں جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے نہ صرف اقدامات کرتی ہے بلکہ جنگلی حیات کیخلاف حضرت انسان کی چیرہ دستیوں کو روکنے میں بھی آگے آگے ہے اور اسی ادارے کے مرتب کردہ اعداد وشمار سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ کس جانور کی نسل کو خطرات درپیش ہیں‘ کس جانور کی کتنی تعداد ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاہم وہ جو ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن کے نام سے ایک امریکی ادارہ عالمی سطح کی کشتیاں لڑا کر یعنی پہلوانی کے مقابلے کرا کر دنیا بھر کے عوام کو کہیں اکھاڑوں میں لائیو اور باقی دنیا میں بذریعہ ٹی وی نشریات‘ تفریح کے مواقع فراہم کرتی ہے اس نے اپنا نام ڈبلیو ڈبلیو ایف سے تبدیل کرکے اب اسے ڈبلیو ڈبلیو ای (WWE) کر دیا ہے اور صرف نام ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ اپنے نئے نام کے حوالے سے اپنا کام بھی تبدیل کر دیا ہے یعنی جب تک یہ ورلڈ ریسلنگ فیڈریشن ہوا کرتا تھا اس میں کام کرنے والے ریسلر ( پہلوان) زیادہ تر حقیقی کشتیاں لڑتے تھے اور وہ جو برصغیر میں ایک لفظ نوراکشتی مشہور ہے وہ کم کم ہی دیکھنے کو ملتی تھی‘ نوراکشتی دراصل پہلے سے طے شدہ ہوتی تھی اور عام طور پر کسی اور شہر کیساتھ تعلق رکھنے والا کوئی طاقتور مگر ’’خطرناک‘‘ پہلوان دوسرے پہلوان کو مقابلے کا چیلنج دیتا تھا تو ہزیمت سے بچنے کیلئے اندر ہی اندر آپس میں فیصلہ کیا جاتا اور پھر اسی کے مطابق چیلنج کرنے والا ہار جاتا۔ یوں چیلنج کئے جانے والے پہلوان کی ’’عزت سادات‘‘ محفوظ رہ جاتی۔ یوں جب سے ڈبلیو ڈبلیو ایف کا نام ڈبلیو ڈبلیو ای یعنی ورلڈ ریسلنگ انٹرٹینمنٹ کر دیا گیا ہے اس میں ہر مقابلے کا ’’سکرپٹ‘‘ پہلے سے طے ہوتا ہے یعنی کس نے ہارنا ہے‘ کس کی جیت ہوگی۔ یہاں تک کہ یہ جو رنگ کی رسیوں کے اوپر کسی ایک کونے پر چڑھ کر نیچے لیٹے ہوئے پہلوان پر چھلانگ کا مظاہرہ کیا جاتا ہے یا پھر اس کے سر پر مکا رسید کیا جاتا ہے یہ بھی سب ڈرامے بازی ہے اور اس تمام کا مقصد تماشائیوں کو انٹرٹین یعنی محظوظ کرنا ہوتا ہے‘ ساتھ ہی اصل سکرپٹ کے مطابق تماشائیوں کی جیبوں پر بالکل اسی طرح ڈاکہ ڈالا جاتا ہے جس طرح ریس کے گھوڑوں پر شرطیں لگانے والوں کی جیبیں خالی کرائی جاتی ہیں یعنی ہوتا یہ ہے کہ جس پہلوان پر شرط لگانے کے بدلے جیت کی صورت میں زیادہ رقم ملنے کی توقع ہوتی ہے اس پر لوگ بڑھ چڑھ کر رقم لگاتے ہیں جبکہ نسبتاً کمزور پر کم رقم لگائی جاتی ہے تو ایسی صورت میں عموماً کمزور نظر آنے والا پہلوان جیت جاتا ہے اور کمپنی کو زیادہ رقم بٹور کر کم منافع واپس کرنا پڑتی ہے۔ البتہ جہاں دونوں پہلوان برابر کی ٹکر کے ہوں تو ایک اور ڈرامہ رچایا جاتا ہے یعنی آخر میں کچھ اور پہلوان درمیان میں کود پڑتے ہیں اور مقابلہ بغیر کسی نتیجے کے ختم ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں شرطیں بھرنے والوں کو پوری رقم واپس نہیں ملتی۔ یعنی کمپنی پھر بھی گھاٹے میں نہیں رہتی جبکہ دونوں پہلوانوں کا موقف قیصر وجدی کے الفاظ میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ

ابھی تیشہ سلامت ہے‘ ابھی تو سنگ باقی ہے

ابھی ہارا کہاں ہوں میں‘ ابھی تو جنگ باقی ہے

ڈبلیو ڈبلیو ای کی یاد اس لئے آگئی کہ ان دنوں ہماری سیاست میں بھی ڈرامہ بازی کچھ زیادہ ہی ہوگئی ہے۔ کہیں انڈے لڑانے کی ڈرامہ بازی سامنے آرہی ہے تو کہیں رویت ہلال پر ڈرامے رچائے جا رہے ہیں اور اب تازہ ترین ڈرامہ ہمارے فاروق ستار بھائی نے رچایا ہے اور بالکل ڈبلیو ڈبلیو ایف سے ڈبلیو ڈبلیو ای کے نام میں پناہ لینے والوں کی طرح ایک بار پھر نئے نام کیساتھ مارکیٹ میں اترنے کا عندیہ دیدیا ہے۔ مہاجر سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے جو سفر بھائیوں نے شروع کیا تھا اور جو مہاجر قومی موومنٹ سے ہوتا ہوا متحدہ قومی موومنٹ میں ڈھل کر برسوں تک کراچی کی سیاست میں جادو جگاتا رہا اور پھر آفاق بھائی کی علیحدگی کے بعد اس کے دامن پر خون کے چھینٹوں میں اضافے کا باعث بنتے ہوئے بالآخر گزشتہ ایک ڈیڑھ سال کے دوران کئی دھڑوں میں بٹ گیا تھا اور فاروق ستار بھائی کو بوجوہ اپنی صفوں سے باہر نکالنے میں کامیابی کے بعد بھی اپنے نام میں لفظ متحدہ کی لاج نہیں رکھ سکا یعنی ہنوز دھڑے بندی کا شکار ہے۔ تو اب فاروق ستار بھائی نے ایک نیا نسخہ سامنے لا کر اس کا علاج تجویزکرنے کی کوشش کی ہے اور نہ صرف متحدہ کے مختلف دھڑوں بلکہ دیگر سٹیک ہولڈروں کو بھی ایک پلیٹ فارم پر بٹھانے کیلئے تازہ بیان میں کہا ہے کہ کیوں نہ ’’متحدہ قومی فورم‘‘ تشکیل دے کر نیا سفر آغاز کر دیا جائے۔ اب خدا جانے اس پر اپنے الطاف بھائی کا ردعمل کیا ہوگا کہ بے چارے پر عدالت عالیہ کی جانب سے زبان بندی کے اطلاق کے بعد ان کے خیالات کم کم ہی سامنے آتے ہیں پھر بھی اگرچہ سوشل میڈیا پر کبھی کبھی ان کا کوئی نہ کوئی بیان سامنے آہی جاتا ہے جس میں وہ حسب عادت کسی نہ کسی کو تڑیاں لگاتے دکھائی دیتے ہیں اس لئے ممکن ہے کہ وہ فاروق ستار بھائی کو مخاطب کرکے ناصر کاظمی کا یہ شعر دہرا دیں کہ

نئے پیالے سہی تیرے دور میں ساقی

یہ دور میری شراب کہن کو ترسے گا

دراصل جب سے (ظاہری طور پر) فاروق ستار بھائی نے الطاف بھائی سے ’’بغاوت‘‘ کا ڈرامہ رچا کر اصلی بھائی سے گلوخلاصی متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے نام میں پناہ لینے کی ’’غلطی‘‘ کی ہے تب سے متحدہ کے لوگوں نے خود ان کو راندہ درگاہ بنا دیا ہے اور وہ بے چارہ ’’ون مین آرمی‘‘ بن کر دربدر گھوم رہا ہے یعنی پھرتے ہیں میر خوار کوئی پوچھتا نہیں والی کیفیت سے دوچار ہیں۔ ایسے میں وہ ’’متحدہ‘‘ ہی کے لفظ کے تنکے کا سہارا لینے کی کوشش کرکے اپنے ہونے کا احساس دلانے میں مصروف ہیں مگر لگتا ہے کہ اب ’’متحدہ‘‘ والے ان کے جھانسے میں آنے والے نہیں ہیں۔ دیکھیں بے چارے کی توبہ کب قبول ہوتی ہے اور متحدہ والے انہیں دوبارہ اپنی صفوں میں کہیں دروازے کے قریب پڑی جوتیوں میں جگہ دینے پر تیار ہوتے ہیں؟

رعونت تاج کی مٹی میں آخر مل گئی ساری

مکافات عمل ہونا تھا عبرت کی کہانی میں

متعلقہ خبریں