Daily Mashriq

باسی عید

باسی عید

یہ ان دنوں کی بات ہے جب ہم ساٹھ برس کی عمر کو نہیں پہنچے تھے۔ پھر یوں ہوا کہ بڑے بزرگوں کی دعائیں کام آئیں اور ہم ساٹھ برس کے ہوگئے۔ ہم اپنے لڑکپن، بچپن یا عہد جوانی میں کسی بڑے بزرگ کی دلجوئی کرتے یا ان کا کوئی بھی کام کر دیتے تو ان کے منہ سے بے اختیار ’’وڈا بڈھا ہوویں‘‘ کا دعائیہ جملہ نکلتا۔ جس کے معنی جا تو بڑا بوڑھا ہوجائے ہوتی۔ اسی جملہ کا متبادل لوئے شے کے دعائیہ جملہ کی صورت ہمیں پشتو بولنے والے بڑے بزرگوں کی جانب سے سعادت مند لڑکوں بالوں کو انعام ہوتا۔ پھر یوں بھی ہوا کہ ہم اپنے بڑے بزرگوں کی دعاؤں کے طفیل سچ مچ بڑے بزرگ بننے کیلئے ساٹھ سال کی عمر کی جانب بڑھنے لگے اور آج سے9 برس پہلے ہم اپنی عمر رفتہ کی وہ حدیں پار کرنے لگے جن کے متعلق عجیب عجیب باتیں محاورے یا ضرب الامثال ہمارے معاشرے میں گردش کرتی رہتی ہیں۔ مثلاً چہ د شپیتو شی نو د وشتو شی۔ یعنی جو بندہ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جائے وہ گولی سے اڑا دینے کے قابل ہوجاتا ہے۔ کتنا دہشت ناک جملہ ہے یہ، یقینا ایسا جملہ پشتو بولنے والے پشاوریوں کی اختراع نہیں ہوسکتی کیونکہ یہاں60سالہ یا اس سے زائد عمر کے بزرگوں کی جتنی عزت اور احترام کیا جاتا ہے وہ ہم نے ملک کے کسی گوشے میں نہیں دیکھا۔ اگر آپ سفید ریش بزرگ ہیں اور پشاور کی سڑکوں پر دوڑتی کسی اومنی بس میں سفر کرنے کی غرض سے سوار ہوگئے ہیں تو آپ کو اس بس کے اندر سیٹ پر بیٹھے نوجوان دیکھتے ہی اپنی سیٹ چھوڑ کر کھڑے ہو جائیں گے اور آپ کو اس سیٹ پر بیٹھ کر سفر کرنے کی دعوت دیں گے۔ بس پر چڑھتے یا اس سے اترتے وقت وہ آپ کو دھکم پیل یا چکرا کر گرنے سے بچانے کی کوشش کریں گے اور یوں آپ کا جی ان کی سعادت مندی دیکھ کر بے اختیار وڈا بڈھا ہوویں یا لوئے شہ بچیہ کا دعائیہ جملہ کہنے لگے گا۔ جب ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا میں بزرگوں کی عزت واحترام کرنے کی یہ قابل تقلید روش موجود ہے تو پھر60سالہ بزرگ کو گولی سے اُڑانے کا طنز طعنہ دھمکی یا بے معنی اور بدتمیز ہوائی کیوں اُڑائی جاتی ہے۔ یہ بات میں نے پشتو شعر وسخن کے نامور سپوت اور پشتو ادب کے اُستاد پروفیسر اسیر منگل سے پوچھی تو وہ مسکرا کر بولے کہ اصل میں یہ جملہ چہ شپیتو شی نو د جرگو شی یعنی اگر کوئی ساٹھ سال کا ہو جائے تو وہ پختون تہذیب وثقافت کے مطابق اتنا قابل احترام ہوجاتا ہے کہ لوگ اسے جرگے میں بلا کر فیصلہ کرنیکا مجاز سمجھنے لگتے ہیں۔ ہماری اس ہی بات کی وضاحت کرتے ہوئے ہمارے ایک دوسرے دوست نے بتایا کہ اصل میں یہ جملہ چہ د شپیتو شی نو پہ دعا وونوں شی یعنی60برس کی عمر کے لوگ دعائیں دینے کے قابل ہوجاتے ہیں کہ اس عمر کے لوگوں کی دعائیں فوراً مستجاب ہوجاتی ہیں۔ ہم کہنا چاہتے تھے کہ جب ہم ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ کر اپنی نوکری سے باعزت بری نہیں ہوئے تھے ان دنوں جب ہم عید گزار کر اپنے دفتر پہنچتے تو اپنے ملنے والوں سے یوں بغل گیر ہوکر ان کو عید سعید کی مبارک باد دیتے جیسے آج عید کا پہلا دن ہو یا جن سے ہم بغل گیر ہوکر عید کی مبارک باد کا تبادلہ کر رہے ہیں وہی عید کا چاند بن کر زمین پر اترا ہو۔ عید کے فوراً بعد دفتروں میں حاضری کا پہلا دن دفتری عید بن کر طلوع ہوتا ہے۔ ورکنگ ڈے سٹارٹ ہونے سے چھٹی کے اوقات تک

عید کا دن ہے گلے ہم سے لگا کر ملئے

رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے

کے مصداق دفتر والے تمام ضروری کام طاق پر رکھ کر ایک دوسرے سے بغل گیر ہونے اور گزشتہ سے پیوستہ عید مبارک کا تبادلہ کرنے میں گزار دیتے ہیں۔ یہی عالم سرکاری ونیم سرکاری اداروں کے علاوہ کاروباری مراکز میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے جبکہ دوسری طرف عید کے تین دن گزرنے کے فوراً بعد پشاور اور مضافات میں پھیلی درگاہوں پر بھی میلے ٹھیلے لگنا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہم جب چھوٹے تھے تو اخوند پنجو بابا اور سوکنو بابا کے میلوں میں شرکت کیلئے جایا کرتے تھے۔ چپل کباب، جلیبیاں، مٹھائیاں اور بچوں کے کھلونوں کے سٹال لگے ہوتے اور ہم عید کے بعد آنے والی اس عید سے خوب لطف اندوز ہوتے۔ ان میلوں ٹھیلوں کو آپ عرس کا نام بھی دے سکتے ہیں۔ ہر سال6شوال کو جی ٹی روڈ پر پشاور گارڈن سے منسلک خواجہ شکور ملنگ بابا کا عرس منایا جاتا ہے۔ ان کی درگاہ کو برقی قمقموں سے بقعہ نور بنایا جاتا ہے ملک کے گوشہ گوشہ سے زائرین اس عرس میں شریک ہونے کیلئے آتے ہیں۔ جن لوگوں کی قسمت میں ان محفلوں میں شرکت کرنا نہیں لکھا ہوتا وہ عید کے فوراً بعد کی عید منانے کیلئے پشاور کے قرب وجوار میں موجود تفریح گاہوں کی طرف نکل جاتے ہیں اور رخصت ہونے والی عید کے رنگوں کو ہلا گلا اور موج مستی سے دوبالا کر دیتے ہیں۔ باغ ناران، کنڈ پارک، سردریاب اور ایسے بہت سے مقامات پر لوگ گروہوں یا ٹولیوں کی صورت پہنچتے ہیں اور بعض اوقات تو انہیں موج مستی کی بہت بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے جس کا اندازہ اگلے روز شائع ہونے والی خبروں سے ہوتا ہے جن میں ون ویلنگ کرتے ہوئے دریا میں نہاتے ہوئے بہت سے جوان یا سیر سپاٹے پر نکلے ہوئے خاندانوں کے افراد موج مستی کرانے والی دیوی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ عید نام ہے لوٹ لوٹ کر آنے والی خوشی کا۔ تھوڑے دنوں کیلئے آتی ہے عید ہمارے غموں کو غلط کرنے کیلئے لیکن دکھ درد اور غم بھلا کب ختم ہوتے ہیں۔ بقول اسداللہ خان غالب

قید حیات وبند غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

متعلقہ خبریں