Daily Mashriq

غذائی سپلیمنٹس نوجوانوں کی صحت کے لیے نقصان دہ

غذائی سپلیمنٹس نوجوانوں کی صحت کے لیے نقصان دہ

متعدد افراد جسمانی وزن یا موٹاپے سے نجات اور مسلز بنانے کے لیے غذائی سپلیمنٹس کا استعمال کرتے ہیں، مگر کیا یہ واقعی فائدہ مند ہوتے ہیں؟

درحقیقت مسلز بنانے، موٹاپے سے نجات اور جسمانی توانائی فراہم کرنے کے دعوﺅں کے ساتھ فروخت کیے جانے والے یہ سپلیمنٹس بچوں اور نوجوانوں کو ہسپتال پہنچا سکتے ہیں۔

یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

طبی جریدے جرنل آف Adolescent Health میں شائع تحقیق میں 25 سال یا اس سے کم عمر ایک ہزار افراد میں غذائی سپلیمنٹس کے استعمال کے ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا جو کہ جنوری 2004 سے اپریل 2015 تک کا تھا۔

نتائج سے معلوم ہوا کہ 40 فیصد کو سنگین نوعیت کے امراض کا سامنا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 166 ہسپتال پہنچ گئے جبکہ 22 اموات ہوئیں اور محققین کا کہنا تھا کہ یہ اعدادوشمار تو نہ ہونے کے برابر ہیں، کیونکہ بیشتر کیسز کی رپورٹ نہیں ہوتی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ مخصوص سپلیمنٹس دیگر کے مقابلے میں صحت کے لیے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جیسے جسمانی وزن میں کمی لانے والے، مسلز بنانے والے اور جسمانی توانائی فراہم کرنے والے سپلیمنٹس تین گنا زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔

محققین نے دریافت کیا کہ ان سپلیمنٹس میں کچھ میں ہیوی میٹل، کیڑے مار ادویات اور prescription ادویات کی ملاقاٹ ہوتی ہے۔

ہارورڈ یونیورسٹی کی تحقیق میں کہا گیا کہ ان خطرناک اجزا اور کیمیکلز کی موجودگی ان سپلیمنٹس کو نوجوانوں کے لیے خطرناک بنادیتے ہیں اور ڈاکٹروں کے مشورے کے بغیر ان کا استعمال کرنا نہیں چاہیے۔

متعلقہ خبریں