Daily Mashriq


ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ

ترجمان دفتر خارجہ کی بریفنگ

دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ افغانستان میں داعش کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے تحفظات ہیں۔ افغانستان میں امن و استحکام پاکستان اور امریکہ کا مشترکہ مقصد ہے۔ پاکستان افغان صدر اشرف غنی کے امن وژن کا خیر مقدم کرتا ہے۔ جمعرات کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران صحافیوں کے مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کی غرض سے تمام کثیر الجہتی فورمز میں تسلسل کے ساتھ شرکت کر رہا ہے کیونکہ افغانستان میں امن پاکستان کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی سب سے بڑی درآمدی منڈی ہے۔ افغان تاجروں کو سہولتوں کی فراہمی پاکستان کی اولین ترجیح ہے۔ پاکستان نے تجارت میں اضافے کی غرض سے افغانستان کے ساتھ کراسنگ پوائنٹس میں اضافہ کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ مقبوضہ وادی میں بھارت کے مظالم جاری ہیں۔ معصوم کشمیریوں کی شہادت اور یاسین ملک کی غیر قانونی حراست کی مذمت کرتے ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ پاکستان اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ امن و آشتی کے ساتھ رہنے پر یقین رکھتا ہے تاہم بد قسمتی سے خطے میں گزشتہ تقریباً تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کے دوران بعض اہم تبدیلیوں کی وجہ سے اس وقت تمام علاقہ ایک فلیش پوائنٹ میں تبدیل ہوچکا ہے۔ خصوصاً نائن الیون کے بعد اس خطے میں دہشت گردی کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں نے عالمی امن کے لئے خطرے کی جو گھنٹیاں بجانی شروع کی ہیں ان سے ابتدائی طور پر افغانستان سمیت پاکستان کے سرحدی علاقے متاثر ہوئے اور عالمی دہشت گردوں اور افغان سر زمین پر امن کے نام پر عسکری ذمہ داریاں سنبھالنے والی امریکی اور نیٹو فورسز کے مابین جس طرح پراکسی وار لڑی گئی اس میں بعض دیگر قوتوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا اور ان تمام سر گرمیوں کا مقصد در اصل واحد اسلامی ایٹمی قوت پاکستان کے جہوری اثاثوں پر حریصانہ نظریں ڈالتے ہوئے پاکستان کو ان اثاثوں سے در پردہ محروم کرنے کی سازشیں ہیں۔ اس ضمن میں امریکی آشیر باد سے بھارت جیسے پاکستان دشمن ملک کو کھل کھیلنے کے مواقع فراہم کرنا تھے جس نے ایران کے علاقے چاہ بہار میں ایک جاسوسی نیٹ ورک قائم کرکے اس کی مدد سے بلوچستان میں دہشت گرد کارروائیوں اور علیحدگی پسند قوتوں کی ہر طرح سے معاونت کے ذریعے پاکستان کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ اس دوران افغانستان میں تحریک طالبان کے ساتھ ساتھ داعش کا ابھرنا بھی ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ آج تحریک طالبان اس قدر مضبوط ہوچکی ہے کہ بعض اطلاعات کے مطابق وہ افغانستان کے بیشتر علاقوں پر عملی طور پر قابض ہو چکی ہے اور حال ہی میں افغان صدر نے تحریک طالبان کو کابل میں اپنا دفتر تک کھولنے کی دعوت دے دی ہے جبکہ امریکہ بھی اس کے ساتھ مذاکرات کی پیشکش کر رہا ہے۔ مگر تحریک طالبان نے ان پیشکشوں کو ٹھکرا کر امریکی افواج کے افغانستان سے مکمل انخلا تک مذاکرات سے انکار کردیا ہے جبکہ بعض عالمی ابلاغی ذرائع یہ دعویٰ بھی کرتے آرہے ہیں کہ داعش کو افغان سر زمین پر پہنچانے اور ان کو عسکری امداد دینے میں خود امریکہ کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب بھارت اور ایران کے ما بین بڑھتے ہوئے تعلقات کے نتیجے میں نہ صرف بھارت نے چاہ بہار بندر گاہ کو فعال کردیا ہے بلکہ اب افغانستان کے لئے تجارتی سرگرمیاں بھی وہیں سے آپریٹ ہو رہی ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ افغانستان کی تجارت پر شدید منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور خیبر پختونخوا کے صنعتی اور تجارتی حلقوں کے تحفظات کے باوجود پاک افغان تجارت کے لئے دی جانے والی مراعات میں کمی سے ہمارے صوبے کی تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ رہی ہیں مگر پاکستان کے حکام اس بارے میں زیادہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے دکھائی نہیں دیتے۔ حال ہی میں پاک افغان بارڈر پر سامان سے بھرے ہوئے سینکڑوں ٹرکوں کے قافلے کلیئرنگ کے لئے کئی کئی روز تک کھڑے رہے مگر دونوں طرف کے حکام کی نا مناسب پالیسیوں کی وجہ سے حالات درست سمت اختیار کرنے میں مشکلات کاشکار رہے۔ یوں پاک افغان بارڈر پر کراسنگ پوائنٹس میں اضافے کاعملی طور پر کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ چاہ بہار بندر گاہ کو فعال بنانے کی وجہ سے اس وقت افغانستان کی تجارت ایران کے راستے ہونے سے آنے والے وقت میں پاک افغان تجارت کے معدوم ہو جانے کی نشاندہی کر رہی ہے۔ اس لئے صرف باتیں بنانے سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے نہ ہی کراسنگ پوائنٹس کی تعداد میں اضافے کا کوئی فائدہ ہے بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین تجارت کے لئے باہمی مشاورت سے آسانیاں بہم پہنچانے کی راہ اختیار کرکے مسئلے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کیا جائے تاکہ خیبر پختونخوا میں تجارتی سرگرمیوں پر پڑنے والے منفی اثرات کاخاتمہ ممکن ہوسکے۔

متعلقہ خبریں