Daily Mashriq


سیاست میں شائستگی کی ضرورت

سیاست میں شائستگی کی ضرورت

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کرک میں ایک اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج جو باتیں عدالت اور میڈیا میں ہوتی ہیں ان کی کوئی حیثیت نہیں۔ حیثیت عوام کی ہے جو اگلے الیکشن میں ووٹ کی طاقت کے ذریعے اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوام ترقی کو ووٹ دینا چاہیں گے یا گالیاں دینے والوں کو‘ اس بات کا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔ کسی نے کیا کام کیا سب کے سامنے ہے۔ جہاں تک وزیر اعظم کے خیالات کا تعلق ہے اصولی طور پر ان خیالات کے ساتھ اتفاق کئے بنا کوئی چارہ نہیں ہے مگر بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست کو خود سیاستدانوں نے جس قدر بے حرمت کیا اس کی مثال تک کہیں نظر نہیں آتی۔ یہاں ہارنے والوں نے انتخابی نتائج کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور اب تک صرف 1970ء کے انتخابات کے بارے میں متفقہ طور پر نہ صرف سیاسی حلقے بلکہ سماجی اور صحافتی حلقے بھی غیر جانبدارانہ اور آزادانہ تسلیم کرتے ہوئے باقی کے تمام انتخابات کو حقیقی معنوں میں آلودگی سے پاک قرار دینے کو تیار نہیں ہیں۔ تاہم اس سے زیادہ بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ ہر انتخابی عمل کے بعد بر سر اقتدار آنے والی جماعت کے آگے اس قدر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی راہ اختیار کی گئی کہ ملک ترقی کی راہ پر تو گامزن کیا ہوتا الٹا ترقی معکوس نے سب کچھ تلپٹ کرکے رکھ دیا۔ تاہم بات اس حد تک رہتی تو پھر بھی کوئی مسئلہ نہ ہوتا جبکہ 2013ء کے انتخابات کے بعد سیاسی سطح پر مخالفین پر کرپشن کے الزامات لگا کر گالم گلوچ کا بازار گرم کیاجا رہا ہے۔ سیاسی مسائل کو شائستگی اور خوش اسلوبی سے حل کرنے کے بجائے ذاتیات پر رکیک حملوں سے سیاسی فضا کو اس قدر زہر ناک کردیا ہے کہ عوام حیران و پریشان ہو کر اس صورتحال پر یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ آخر کس قسم کی قوم ہیں جس میں احترام آدمیت کا کوئی شائبہ تک نظر نہیں آتا۔ اس صورتحال میں سوشل میڈیا نے انتہائی شرمناک کردار ادا کیاہے جہاں لگ بھگ ہر سیاسی جماعت کے ایکٹوسٹ مغلظات سے بھرپور پوسٹوں کے ساتھ نہ صرف مخالف سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں بلکہ ان پوسٹوں پر تبصرہ کرنے والوں پر بھی تبرہ بولنے میں پیش پیش ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ آنے والے انتخابات میں بھی جاری و ساری رہے گا جس پر تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ضابطہ بنا کر اس سے احتراز کی کوئی صورت پیدا کرنی چاہئے۔

اور اب ٹائون ون کے ٹیکس

مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ٹیکسوں کی پہلے ہی کوئی کمی نہیں تھی بلکہ وفاقی حکومت تو ہر پندرہ روز بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کرنے کی جو پالیسی اختیار کرچکی ہے اس نے عوام کو جس مشکل سے دو چار کر رکھا ہے وہ تو مسلسل عذاب ہے ہی جبکہ اب ٹائون ون کی جانب سے بھی مختلف ٹیکسوں میں پانچ سو سے دس ہزار روپے تک اضافے کی تجاویز سامنے آئی ہیں اور نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکسوں کا بوجھ بظاہر تو تاجروں پر عائد کیا جا رہا ہے تاہم ان ٹیکسوں سے عوام ہی متاثر ہوں گے۔ ان تجاویز کے مطابق بیت الخلاء فیس دو روپے سے بڑھا کر دس روپے‘ چترالی ٹوپی اور واسکٹ بنانے والوں پر فیس ڈیڑھ ہزار سے بڑھا کر پانچ ہزار روپے‘ کباب تکہ فروشوں پر بھی پندرہ سو سے پانچ ہزار‘ دودھ فروشوں پر ایک ہزار سے پانچ ہزار‘ مسالہ مرچنٹ 1500 سے دس ہزار روپے‘ صراف پر دس ہزار سے 30ہزار‘ میوزک سینٹر‘ انٹرنیٹ کیفے پر دو ہزار سے پانچ ہزار‘ مٹی کے برتن بنانے والوں پر6سو سے تین ہزار‘ مرغی فروش پر ایک ہزار سے تین ہزار‘ پرائیویٹ کالجز پر مختلف کیٹیگریوں پر30ہزار روپے تک‘ قصاب ‘مچھلی فروش پر ایک ہزار سے پانچ ہزار تک‘ شہد کی دکان پر ایک ہزار سے دس ہزار‘ درزی پر ٹیکس پندرہ سو سے دو ہزار‘ سبزی فروش پر ایک ہزار‘ فاسٹ فوڈز والوں پر ایک ہزار کا نیا ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح دیگر تجارتی سرگرمیوں پر بھی یا تو نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں یا ان میں اضافہ کیا جا رہا ہے جو ہمارے ہاں رائج دستور کے مطابق یقینا عام صارفین کو منتقل ہو جائیں گے کیونکہ بد قسمتی سے جو اصل ٹیکس دہندگان ہیں وہ مختلف طریقوں اور حیلوں بہانوں سے خود کو تو ہر قسم کے ٹیکسوں سے خود کو بچانے کی فکر کرتے ہیںجبکہ حکومت کی جانب سے جو ٹیکس عائد کئے جاتے ہیں ایک جانب وہ عام لوگوں کو قیمتوں میں اضافہ کرکے منتقل کردئیے جاتے ہیں تو دوسری جانب ٹیکس ری بیٹ کے ذریعے وہ واپس بھی وصول کرکے اپنی تجوریاں بھرلیتے ہیں۔ٹائون ون نے ٹیکسوں میں جس شرح سے اضافے کی تجاویز مرتب کی ہیں ان میں کوئی تناسب نظر نہیں آتا۔ یعنی بعض طبقوں پر انتہائی زیادہ ٹیکس لگانے یا پھر ان میں اضافے سے مہنگائی کی جو شدید لہر آنے والی ہے اس پر عوام کی چیخیں نکل جائیں گی۔ خصوصاً اشیائے خوردونوش پر بے دریغ ٹیکس اضافے سے ان کی قیمتیں رمضان سے پہلے ہی آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی اور رمضان میں مزید خود ساختہ اضافہ مزید مشکلات پیدا کرے گا۔ اس لئے ان تجاویز پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں