Daily Mashriq


بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

بول کہ لب آزاد ہیں تیرے

لگتا ہے سیاسی غلاموں کے اندر بھی بیداری اور آزادی کی لہر چل پڑی ہے۔ اگرچہ ابھی یہ اپنی انتہائی ابتدائی شکل میں ہے اور وقت کے ساتھ اسے توانا ہونا ہے۔ اور وہ جو فیض احمد فیض نے کہا تھا کہ بول کہ لب آزاد ہیں تیرے۔ شاید اس کی ابتداء ہوگئی ہے اور سیاست کے متعفن تالاب میں ایک طویل عرصے کی خاموشی کے بعد پہلا کنکر پھینک کر فرحت اللہ بابر نے ارتعاش پیدا کردیا ہے۔ تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ اب بارش کے پہلے قطرے کے بعد بارش کا یہ سلسلہ تیز ہو کر موسلادھار شکل اختیار کرتا ہے یا پھر بے حسی اور سیاسی گھٹن کی یہ فضا اسی طرح برقرار رہتی ہے اور فرحت اللہ بابر کے ساتھ ساتھ میاں رضا ربانی کی آوازیں باز گشت کی شکل واپس آکر انہیں گہری تنہائی کا احساس دلاتی ہیں۔ کیونکہ ہمارا سیاسی ماحول اس نقار خانے کی مانند ہے جہاں توتی کی صدا کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ ان دونوں کو بھی کوئی اہمیت دینے کو تیار نہیں۔ دوسروں کی تو بات ہی کیا خود اپنی جماعت کے اندر ان کی حمایت میں ایک آواز تک نہیں اٹھ سکی۔ یوں ایک کو میاں نواز شریف کی جانب سے دوبارہ چیئر مین سینیٹ کے لئے نامزدگی کی تجویز کو پارٹی کے رہنما آصف زرداری نے رد کیا تو فرحت اللہ بابر کو ان کے ’’باغیانہ‘‘ خیالات کی وجہ سے پارٹی کی ترجمانی سے فارغ کرنے کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔ اور اب شاید دونوں رہنما بقول مظفر وارثی کہنے پر مجبور ہو رہے ہوں کہ

یہ فیصلہ تو بہت غیر منصفانہ لگا

ہمارا سچ بھی عدالت کو باغیانہ لگا

جسٹس کیانی مرحوم بھی اسی قسم کے باغیانہ خیالات کے لئے بہت مشہور تھے۔ ایوبی آمریت کے دور میں ان کی تقاریر کا بڑا چرچا رہا ہے۔ تاہم وہ اس کمال مہارت سے الفاظ کا چنائو کرتے تھے کہ ان پر گرفت مشکل ہو جاتی تھی۔ وہ بین السطور ایسی ایسی باتیں کر جاتے تھے کہ ان کے اثرات دور تک مرتب ہوتے تھے اور جاننے والے جان جاتے تھے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ لیکن ان کا انداز بیان اس قدر شگفتہ ہوتا کہ ان کے کاٹ دار جملوں سے حاضرین محظوظ ہونے کے ساتھ ان جملوں کے اندر پوشیدہ پیغام کو بھی آسانی سے سمجھتے اور قہقہے لگانے پر مجبور ہوتے۔ ایک بار انہوں نے پشاور میں اس دور کے سی ایس پی افسران سے خطاب کرتے ہوئے بڑی خوبصورت بات کہی۔ انگریزی زبان میں خطاب کرتے ہوئے جسٹس کیانی نے کہا کہ لوگ سول سروس آف پاکستان کے افسروں کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ معاشرے کی کریم ہوتے ہیں ( یاد رہے کہ جسٹس کیانی خود بھی سول سروس کے آدمی تھے) اور لوگ کچھ غلط بھی نہیں کہتے یقینا آپ لوگ معاشرے کی کریم ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ آپ لوگ ایک انتہائی غلیظ معاشرے کی کریم ہیں یعنی کیچڑ کی مانند ہیں۔ جسٹس کیانی کے الفاظ پر غور کیا جائے تو انہوں نے پاکستانی معاشرے کی ایک حقیقی تصویر پیش کی تھی۔ پاکستانی معاشرہ اپنی خاصیت کے حوالے سے ایک دلدل سے کم نہیں ہے اور دلدل تو صرف کیچڑ کا ایک ایسا تالاب ہوتا ہے جس میں ہر چیز داخل ہو کر کیچڑ زدہ ہو جاتی ہے۔ ہماری سیاست بھی خود غرضیوں‘ ذاتی مفادات‘ کرپشن اور کئی دوسری برائیوں کی غلاظتوں کے دلدل میں دھنسی ہوئی ہے۔ ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی سب جماعتیں سیاسی اور جمہوری اقدار کی نفی کا مرقع ہیں۔ موروثیت کا عفریت انہیں نگل رہا ہے۔ جن سیاسی خانوادوں کا ان جماعتوں پر قبضہ ہے ان کی حیثیت ان جماعتوں کے بادشاہوں کی سی ہے اور بادشاہ سلامت کی مرضی کے خلاف کوئی ایک لفظ تک منہ سے نہیں نکال سکتا۔ ان جماعتوں کے اکابرین پر نظر ڈالئے تو یہ سربراہ یا اس کے سیاسی جانشینوں کے حضور شاہی درباریوں کی طرح سینے پر ہاتھ دھرے مودب کھڑے رہتے ہیں۔ ان کے خیالات کو لے کر ہر فورم پر اپنی تقریروں میں دہراتے چلے جاتے ہیں۔ اگر چہ ان کی اپنی حیثیت ’’ شاہی حکمرانوں اور ان کے جانشینوں‘‘ کے مقابلے میں کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوتی ہے‘ علمی اور فکری لحاظ سے یہ پارٹی ’’مالکان‘‘ سے کہیں زیادہ عقلمند اور زیرک ہوتے ہیں لیکن پھر بھی ’’سیاسی حکمرانوں‘‘ کے سامنے بھیگی بلی بنے ہوتے ہیں۔ اور ان کی ہدایات پر مختلف ٹی وی چینلز کے ٹاک شوز میں انہی کے خیالات کو آگے بڑھانے پر مجبور ہوتے ہیں۔ سیاسی غلامی ان کی گھٹی میں ڈال دی جاتی ہے اور یہ اتنے بڑے ذہن شاہ دولا کے چوہے بننے پر بھی فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ یہ اپنے اپنے ’’سیاسی مالکان‘‘ کی ہر کڑوی کسیلی بات کو بھی خندہ پیشانی سے یوں برداشت کرتے ہیں کہ جیسے ایک شخص خوش خوش گھر آیا تو بیوی نے پوچھا ‘ کیا بات ہے آج تو بہت خوش نظر آرہے ہو‘ کہیں خزانہ ہاتھ لگ گیا ہے کیا؟ شوہر نے مونچھوں کو تائو دیتے ہوئے جواب دیا‘ نیک بخت‘ آج خان نے خوش ہو کر مجھے گالی دی۔ کچھ ایسا ہی حال ان بظاہر پڑھے لکھے اور ذہین لوگوں کاہے‘ اب یہی دیکھ لیجئے‘ میاں رضا ربانی اور فرحت اللہ بابر جیسے نا بغہ لوگ جب تک پارٹی کے ’’فکری وفادار‘‘ رہے اور پارٹی پالیسی پر چلتے رہے‘ ان کی پذیرائی ہوتی رہی لیکن جیسے ہی انہوں نے پارٹی پالیسی سے انحراف کیا اور زمینی حقائق کے حوالے سے اپنے اوریجنل خیالات کا اظہار کردیا ان کو راندئہ درگاہ بنانے کی ابتداء کردی گئی۔ یہ صورتحال صرف ایک پارٹی تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر پارٹی میں یہی صورتحال ہے۔ بہر حال ایسا لگتا ہے کہ اب حالات میں بدلائو آنے کے امکانات روشن ہورہے ہیں اور جلد ہی ایسا وقت آنے والا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے اندر آزاد خیالی کے جراثیم سرایت کر جائیں گے۔ سیاسی خاندانی اجارہ داریوں کاخاتمہ ہوگا اور پارٹیوں کے اندر بھی جمہوریت پنپنے لگے گی جس کے بعد ملک میں بھی حقیقی جمہوریت کا صحیح معنوں میں آغاز ہو جائے گا۔

تندیٔ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے

متعلقہ خبریں