Daily Mashriq

83 برس کا بانکا جوان

83 برس کا بانکا جوان

ریڈیو پاکستان پشاور 83 برس کا ہوگیا۔ یہ بات 6مارچ 2018 کو دن کے 12 سے 2 بجے تک پشاور براڈکاسٹنگ ہاؤس سے براہ راست نشر ہونے والی سالگرہ سپیشل ٹرانسمیشن ’دستک ‘کے میزبان شکیل ارشد اور روبینہ صدیقی نے پروگرام کے ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے بتائی۔

جنگل میں منگل تیرے ہی دم سے

سب نے شور مچایا ہے، سالگرہ کا دن آیا ہے

خطہ پشاور کے سکہ بند صدا کار ابن مہا صداکار عشرت عباس ،لبوں پر خاموشیوں کی مسکان سجائے رکھنے والے ماسٹر بشیر اور راقم السطوراس پروگرام میں مہمان بن کر میزبانوں کی مدد کے لئے آئے ہوئے تھے ۔ ہم مل کر آنے والی نسلوں کے ذہن و شعور پر دستک دے دے کر ان کو ریڈیو پاکستان پشاور کے درخشندہ ماضی، اور اس کے تابناک مستقبل کے متعلق بتارہے تھے ۔ اور ہمارے سامنے ان ہی موضوعات کے عنوانات نوشتہ دیوار بنے بینر پر ریڈیو پاکستان پشاور کی فلک بوس عمارت کی پرشکوہ تصویر کے ہمراہ آوایزاں تھے، بینر پر جلی حروف میں نشریات کے 83سال اور سالگرہ مبارک کے الفاظ بھی درج تھے ، میزبانوں اور مہمانوں کے اس ٹولے میں چند ساعتیں گزارنے اور ریڈیو پاکستان سے وابستہ یادوں کو دہرانے کے لئے آواز دنیا کے نامور سپوت حمیداللہ جان بسمل بھی تشریف لائے ، نامور ادیب ، شاعر، پر شباب کالم نگار اور کہنہ مشق براڈ کاسٹر مشتاق شباب بھی ٹیلیفونک کال کے ذریعے پروگرام میں شریک ہوئے، 2گھنٹے دورانیہ پر مبنی اس پروگرام میں ہمیں موسیقی بھی سننے کو ملی اور ہندکو کے منتخب ڈراموں کے چنک بھی سنوائے گئے، لیکن سچ پوچھیں توہم اس وقت دل کی دھڑکنوں کی دستک سننے لگے ، جب پروگرام کے نگران اعلیٰ سٹیشن ڈائریکٹر لائق زادہ لائق، نگران امیر نواز مروت اور طفیل احمد کے علاوہ پروگرام کے پیش کار اکرام اللہ مروت اور اعزاز علی خان گوہر کے ہمراہ پشاور کے نامور خانوادے کی چشم وچراغ محترمہ طاہرہ بخاری ایم این اے مہمان خصوصی بن کر اس تاریخ ساز ریڈیائی سالگرہ کی تقریب رونق افروز ہوئیں ، پروگرام کے میزبانوں نے ان کودل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہنے کے علاوہ ریڈیو پاکستان پشاور کے حوالے سے ان کے تاثرات ہوا کے دوش پر اچھالنا شروع کردئیے۔ریڈیو پاکستان پشاور سے براہ راست نشر ہونے والے اس پروگرام کی مہمان خصوصی نے ریڈیو پاکستان پشاور کی انتظامیہ ، اراکین اور اس سے وابستہ عوام اور خواص کے ہر طبقہ فکر کو دلی مبارک باد دی اور اپنے پیغام میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ترجمان ریڈیو پاکستان سے وفا نبھانے کی تلقین کی۔ مہمان خصوصی اتنا کہنے کے بعد سالگرہ سپیشل کے نگران اعلیٰ لائق زادہ لائق اور انتظامیہ کے دیگر افراد کے ہمراہ سالگرہ کا کیک کاٹنے چلی گئیں ، اورہم ہوا کے دوش پر سوار اپنے سننے والوں کے ذہن و شعور کے در اور دریچوں پر دستک دینے کی رسم وفا نبھانے کے مرحلے طے کرنے لگے، آواز کی دنیا کے زندہ امین حمید اللہ جان بسمل کل اور آج کے ریڈیو پاکستان پشاور کا موازنہ کررہے تھے کہ ایسے میں ریڈیو پاکستان کے جواں کار پروڈیو سر سردار اعظم خان کی آواز ہوا کے دوش پر گونجنے لگی‘ اور ہم سٹوڈیو میں بیٹھے اپنے سننے والوں کے ذوق سماعت پر

مبارک خوشی کے یہ لمحے سہانے

جو بخشے ہیں ہم کو ہمارے خدا نے

کے مصداق تالیوں کی گونج میں مبارک بادوں کے پھول نچھاور کررہے تھے، ریڈیو پاکستان پشاور اپنی83ویں سالگرہ کے اس یادگار موقع پر83سالہ بقاء اور ارتقاء کے ترانے فضا ؤں میں اچھال رہا تھا کہ ایسے میں ہمیں گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کا پیغام ملا۔’’ریڈیو پاکستان پشاورنے علم وآگہی کو فروغ دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے ۔ نامور ادبی اور ثقافتی شخصیات کو متعارف کرانے کا سہرا ریڈیو پاکستان پشاور ہی کے سر ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں اس موقع پر خیبر پختونخوا کے عوام، اس ادارے کے جملہ کارکن اور سٹیشن ڈائریکٹر کو مبارک باد دیتا ہوں اور توقع رکھتا ہوں کہ یہ ادارہ پوری لگن اور محبت کے ساتھ اپنی قومی ذمہ داریاں پوری کرتا رہے گا‘‘۔ ریڈیو پاکستان پشاورکی 83 ویںسالگرہ کی سپیشل ٹرانسمیشن کا اختتام ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل شفقت جلیل کے پیغام پر ہوا جس میں انہوں نے ریڈیو پاکستان پشاور کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’ اس کا شما ر ان ریڈیو سٹیشنز میں ہوتا ہے جو 14اگست 1947کو پاکستان بنتے وقت ہواکے دوش پر نشریات دے رہے تھے ، ریڈیو پاکستان پشاور نے نہ صرف عوام کو معلومات تعلیم اورتفریح مہیا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے بلکہ اس نے دوسرے سٹیشنوں کے قیام کے لئے ایک مدر سٹیشن اور نرسری کا کردار بھی نبھایا۔اس سے پہلے کہ ہم 83سالہ بانکے جوان کی خوشیاں سمیٹ کر گھر کی راہ ناپتے ہمیں غلام محمد شہاب ، صدر ریڈیو ٹی وی آرٹسٹ یونین نے روک کر شکووں ،شکایتوں اور مطالبات کی پٹاری کھول دی ، ہمیں یوں لگا جیسے کہہ رہے

شکوہ سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھو

اپنی ہستی سے ہوں بیزار کہوں یا نہ کہوں

جس کے جواب میں ہم صرف اتنا ہی عرض کرسکے کہ

خوشی، خوشی کو نہ کہہ، غم کو غم نہ جان اسدؔ

قرار داخل اجزائے کائنات نہیں

متعلقہ خبریں