Daily Mashriq


پیسہ اور سیاست

پیسہ اور سیاست

ذرائع ابلاغ میں کی جانے والی چہ میگوئیوں، خدشات اور تحفظات کے باوجود آخر کار سینیٹ کے الیکشن کامیابی سے منعقد ہو گئے لیکن سینیٹ کے انتخابات کے بعد صوبائی اور قومی سطح کے اراکین ِ اسمبلی کے ووٹوں کو پیسوں سے خریدنے کی باتیں زبان زدِ عام ہو چکی ہیں۔ اگرچہ میڈیا میں آنے والی ان خبروں کے بارے میں کوئی ثبوت پیش نہیں کئے گئے لیکن کسی ایک اسمبلی میںسیاسی جماعتوں کے اراکین کی تعداد کے مطابق الیکشن کے نتائج کا نہ آنا ان الزامات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔مثال کے طور پر پاکستان پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی سے دو اضافی نشستیںحاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے کچھ ایم پی ایز نے اپنی پارٹی کی بجائے پاکستان پیپلز پارٹی کو ووٹ دیا ہے۔ اسی طرح خیبرپختونخوا اسمبلی میں بھی اپنے اراکین کی قلیل تعداد کے باوجود پاکستان پیپلز پارٹی دو نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے ۔ پاکستان تحریکِ انصاف پنجاب اسمبلی سے سینیٹ کی ایک نشست حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے لیکن یہ کامیابی کسی دوسری سیاسی جماعت کے ووٹوں کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔ یہاں پر قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اگرچہ صوبائی اسمبلیوں کے تمام اراکین اپنی سیاسی جماعت کے امیدوار کو ہی ووٹ دیتے ہیں لیکن قانونی طور پر دیکھا جائے تو وہ ایسا کرنے کی پابند نہیں ہیں۔ قانون کے مطابق قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے تمام اراکین خفیہ بیلٹنگ کے ذریعے سینیٹ کے اراکین کے انتخاب کے لئے ووٹ ڈالتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اپنی سیاسی جماعت کے علاوہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے امیدوار کو ووٹ دینااپنی سیاسی جماعت سے غداری کے مترادف نہیں سمجھا جاتا۔حتیٰ کہ بھارت میں، جہاں راجیہ سبھا کے انتخابات کے لئے اوپن بیلٹنگ ہوتی ہے اور تمام اسمبلیوں کے اراکین کو اپنے ہاتھ کھڑے کرکے ووٹ دینا ہوتے ہیں، بھی اپنی سیاسی جماعت کے امیدوار کے علاوہ کسی دوسری جماعت کو ووٹ دینا اپنی پارٹی سے انحراف یا غداری تصور نہیں کیا جاتا۔سینیٹ الیکشن کے حوالے سے قانون سازوں نے قانون سازی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا ہے کہ کسی بھی رُکنِ اسمبلی کو اپنی سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کا پابند نہ بنایا جائے بلکہ اراکینِ اسمبلی اپنے ضمیر کی آواز کے مطابق ووٹ ڈال سکیں۔اس وجہ سے اگر کوئی رکنِ اسمبلی اپنی پارٹی کے امیدوار کوووٹ نہیں دیتا تو فوراً یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس نے اپنا ووٹ بیچ دیا ہے ۔ دوسری جانب، کچھ کیسز میں یہ واضح نظر آرہا ہے کہ پیسوں کی لالچ میں آکر کچھ لوگوں نے اپنے ووٹ ضرور بیچا ہے۔ سینیٹ کے الیکشن میں ہارس ٹریڈنگ کے الزامات اتنے سخت تھے کہ وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی اور چیئرمین تحریکِ انصاف کو سینیٹ الیکشن کے طریقہِ کار کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کرنا پڑا۔بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں اس نظام کو بدلا جاسکے گالیکن سینیٹ کے حالیہ انتخابات کے بعدہارس ٹریڈنگ اور پیسوں سے ووٹ خریدنے کے مکروہ عمل کو قومی بیانیے میں جگہ ضرور مل گئی ہے جس کے بعد اس کی روک تھام کی امید پیدا ہوچلی ہے۔سیاست میں پیسے کا استعمال وہ مسئلہ ہے جس پر زیادہ بات کی جانے چاہیے اور اس کی روک تھام کے لئے مناسب اقدامات بھی کئے جانے چاہئیں لیکن بدقسمتی سے الیکشن ایکٹ2017ء میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے اپنی انتخابی مہم پر خرچ کی جانے والی رقم پر بھی قدغن نہیں لگائی گئی۔ اگرچہ ہمارے روایتی انتخابی قوانین میں کسی ایک امیدوار کی انتخابی مہم پر خرچ کی جانے والی رقم کی حد تو مقرر کی کی گئی تھی ،اور نئے قانون میں بھی اس کو مزید بہتر کیا گیا ہے، لیکن سیاسی جماعتوں پر ایسی کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی۔ماضی میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے خرچ کی جانے والی رقم اتنا بڑا مسئلہ نہیں تھی کیونکہ انتخابات پر زیادہ تر رقم امیدواروں کی جانب سے خرچ کی جاتی تھی لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ حالات تبدیل ہو گئے ہیں ۔ موجودہ دور میں سیاسی جماعتیں اور ان کی فنڈنگ کسی بھی الیکشن کے نتیجے پر پہلے سے زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں۔ پاکستان میں انتخابات کے حوالے سے کئے جانے والے بہت سے سروے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ امیدوار کی بجائے سیاسی جماعت کو ووٹ دینے کے رجحان میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی خرچ کئے جانے والے فنڈز میں2002ء کے بعد نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ یہ وہ سال ہے جب پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا سیاسی اکھاڑے میں ایک بڑے کھلاڑی کی حیثیت سے داخل ہوا تھا۔اس وقت سے لے کر آج تک سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی ایجنڈے کی تشہیر کے لئے الیکٹرانک میڈیا کا استعمال کررہی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر کی جانے والی یہ تشہیر کسی ایک انتخابی حلقے کے متعلق نہیں ہوتی اس لئے قانونی لحاظ سے اس تشہیر پر خرچ کی جانے والی رقم پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔الیکٹرانک میڈیا کی آزادی کے بعد سیاسی جماعتوں کی طرف سے اشتہارات پر خرچ کی جانے والی رقم میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ہے اور الیکشن ایکٹ 2017ء کے ابتدائی ڈرافٹ میں اس رقم کو 200 ملین روپے تک محدود کرنے کی بات کی گئی تھی لیکن بدقسمتی سے فائنل ڈرافٹ میں اس شق کو نکال دیا گیا۔سیاسی جماعتوں کو رقم خرچ کرنے کی آزادی سے دراصل پیسے کو سیاست میں آنے کا موقع فراہم کیا گیا۔ پارٹی اخراجات پر پابندی نہ ہونے کی وجہ سے سیاسی جماعتیں فنڈنگ کے ایسے ذرائع بھی تلاش کرسکتی ہیں جنہیں قانونی اور اخلاقی لحاظ سے درست نہیں سمجھا جاتا۔سیاسی جماعتوں کے اخراجات پر روک ٹوک نہ ہونا ہماری انتخابی نظام کی ایک بہت بڑی خامی ہے اور عام انتخابات سے پہلے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے ایک موثر پولیٹیکل فنانس مانیٹرنگ سسٹم کا رائج کیا جانا انتہائی ضروری ہے ۔

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں