Daily Mashriq

جمہوریت کی وقعت

جمہوریت کی وقعت

میں سینیٹ کے انتخابات حال ہی میں منعقدہوئے۔ جس52سینیٹروں کو مُنتخب کیا گیا یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ سینیٹر 6 سال کی مدت کے لئے مُنتخب کئے جاتے ہیں۔ملک میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے کچھ مقاصد ہیں اور ان مقاصد کی تکمیل اور حصول کے لئے یہ ادارے معرض وجود میں آئے ہیں۔ سینیٹ کا مقصد تمام صوبوں کو برابر اور مساویانہ نمائندگی دینا ہے۔قومی اسمبلی میںتمام صوبوں کی نمائندگی آبادی کے لحا ظ سے ہوتی ہے جبکہ سینیٹ کے ممبران تمام صوبوں کے برابر ہو تے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کے احساس کمتری کو ختم کرنے کے لئے سینیٹ کا قیام وجود میں آیا تھا۔سینیٹ کا کام قومی یک جہتی کا فروغ اور چھوٹے صوبوں کے خد شات کو دور کرنا ہے۔جو ملک کی ترقی کے لئے انتہائی اہم ہوتا ہے۔مگر افسوس کی بات ہے کہ حالیہ سینیٹ الیکشن میں سینیٹر بننے کے لئے پیسے پانی کی طرح بہائے گئے اور جوڑ توڑ ہوئی انتہائی قابل افسوس مقام ہے۔تمام سیاسی پا رٹیاں ایک دوسرے پر الزامات لگا رہی ہیں اور یہ سلسلہ بغیر کسی وقفے کے جاری و ساری ہے ۔ ایک کہتا ہے کہ ممبر 10 کروڑ میں بکا۔ دوسرا کہتا ہے کہ 15 کروڑ میں بکا۔ الغرض جتنی منہ اتنی باتیں۔ ایک دوسرے پر الزامات در الزامات کا سلسلہ جاری ہے۔بہر حال اس الیکشن میں جتنے بھی پیسے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کو بھیڑ بکریوں کی طرح خریدنے کے لئے استعمال کئے گئے وہ کسی سے پوشیدہ اور مخفی نہیں۔ایک سوال ہے کہ اُنہوں نے سینیٹر بننے کے لئے اتنے پیسے کیوں خرچ کئے ۔ دراصل انہوں نے سینیٹر بننے کی غرض سے ایم این اے ، ایم پی اے کو خریدنے کے لئے پانی کی طرح جو پیسے بہائے ہیں یہ پاکستان اور پاکستانی عوام کی خدمت کی خاطر نہیں بلکہ ایک طرح سے اُنہوں نے سرمایہ کاری کی ہے، اب وہ سینیٹ ممبر بن کراس سے منافع کمائیں گے۔ آجکل سیاست نہ سیاست ہے اور نہ عبادت بلکہ سیاست تجارت کی شکل اختیار کر چکی ہے ۔ سر مایہ کار آکر مختلف سیاسی پا رٹیوں میں گھس جاتے ہیں اور دولت کے بل بوتے پرسینیٹر بن جاتے ہیں۔ وہ اس خرید و فروخت سے پاکستان کے 21 کروڑ عوام کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔وہ قوم کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ ہم کسی بھی طریقے سے اُس مقدس ایوان تک پہنچ گئے۔وہ ایوان جسکا کام صوبوں کی غلط فہمیوں کو دور کرنا ملک کو ترقی اور کامرانی کے راستے پر گامزن کرنا تھا۔یہ قانون ساز کس طرح ملک کو احسن طریقے سے چلائیں گے۔اگر ہم غور کریں تو یہی قانون ساز یعنی سینیٹر قانون بنانے والے اداروں میں قانون بنانے کے لئے نہیں آئے بلکہ وہ ان اداروں تک پہنچ کر اپنے کروڑوں کو اربوں میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ملک لیڈر یعنی قیادت بناتے ہیں ۔ دنیا کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ لگزمبر گ کا رقبہ 2400 مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں پر اچھی قیادت اور اس قیادت کے ملک اور قوم کے لئے اچھے فیصلوں کی وجہ سے یہاں کی فی کس آمدنی 64 ہزار ڈالر ہے۔اسی طرح سوئٹزر لینڈ جہاں کا رقبہ 42 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں کی فی کس آمدنی 75 ہزار ڈالر ہے۔اسی طرح ہالینڈ کا رقبہ 41 ہزار مربع کلومیٹر ہے مگر وہاں کی فی کس آمدنی 51 ہزار ڈالر فی کس ہے۔جبکہ افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کا رقبہ 8 لاکھ مربع کلومیٹر ہے اور یہاں کی فی کس آمدنی 1600 ڈالر فی کس ہے اور وہ بھی غریب کے پاس نہیں بلکہ ملک کے چند خاندانوں کے پاس ہیں۔یہ ذہانت اور قابلیت کا دور ہے جن ممالک کی قیادت اور عوام ذہین اور فطین ہوں گے وہ دنیا میں کامیاب ہونگے۔جیسا کہ دنیا کے ذہین ترین لوگ ہانگ کانگ کے ہیں تو وہاں فی کس آمدنی 60 ہزار ڈالر فی کس ہے۔ اسی طرح سنگا پو ر کی 86 ہزار ڈالر فی کس جاپان کی 48 ہزار ڈالر فی کس آمدنی ہے ۔ اور ان تمام ممالک میں ایک بات قابل مُشترک ہے کہ ان ممالک کے عوام اور اُنکی قیادت ذہین ہیں۔آئس لینڈ جو چھوٹا سا ملک ہے وہاں کی فی کس آمدنی 50 ہزار ڈالر ہے۔ جب ہم سینیٹ ، قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلیوں میں نااہل ، کم تعلیم یافتہ ممبر بھیجیں گے تو وہ ملک اور قوم کی کیا خدمت کریں گے ۔ آج کل سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور ہے اور اس دور میں کامیا ب وہ مما لک اور لوگ ہیں جو جدید دور کی تعلیم کی اہمیت سے آگاہ ہوں۔ ملک لوگ اور قیادت بناتے ہیں مگر جب لیڈر اور لوگ اس قابل نہ ہوں کہ وہ مسائل اور اسکا حل سمجھ سکیں تو وہ ملک اور قوم کو کیا ترقی دے سکتے ہیں۔جس جمہوریت اور جمہوری اداروں کی رٹ ہمارے سیاست دان لگاتے ہیں اسکے بارے میں پاکستان کے عوام کیا کہیں گے۔ سینیٹ کے حالیہ الیکشن اور اس میں بڑے پیمانے پر پیسوں کے استعمال سے پاکستان کے عوام کا جمہو ریت پر اعتماد اُٹھ چکا ہے۔ 

متعلقہ خبریں