Daily Mashriq

لفظ کتنے ہیں اور تیر کتنے ہیں

لفظ کتنے ہیں اور تیر کتنے ہیں

کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ دنیا میں جہاں مادی ترقی ہورہی ہے وہاں مسائل بھی بڑھ رہے ہیں انسان انسان سے نالاں ہے رشتے ناطے کمزور سے کمزور پڑتے چلے جارہے ہیں نفسانفسی اور بے حسی کا یہ عالم ہے کہ بھائی بھائی کے ہاتھوں دکھی ہے اگر کوئی زمانے کی دوڑ میں پیچھے رہ جائے تو اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں ہے جو کامیاب ہے وسائل رکھتا ہے خوش و خرم ہے تو سب اس کے ساتھ ہیں اور جو کسی بھی وجہ سے ناکامی سے دو چار ہے وہ تنہا ہے کہتے ہیں ہنسنے والے کے ساتھ سب ہنستے ہیں اور رونے والے کو اکیلا رونا پڑتا ہے۔ ہار ہمیشہ یتیم ہوتی ہے اور جیت کے کئی باپ ہوتے ہیںروحانی حوالے کمزور پڑتے چلے جارہے ہیں رشتوں کا احترام مٹتا جارہا ہے اس صورتحال نے آج کے انسان کو دکھی کردیا ہے اس کے لیے اب وہ کاندھا نہیں رہا جس پر سر رکھ لوگ رویا کرتے تھے! زندگی کے سفر میں انسان کو بہت سے نشیب و فراز دیکھنے پڑتے ہیں کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں! وقت ایک جیسا نہیں رہتا آج خوشی تو کل غم۔ یہی انسان کے نصیب کا لکھا ہے مرنا یقینا آسان ہے اور جینا مشکل ! ساری مصیبتیں زندہ انسان کے لیے ہیں اسے زندگی کے تلخ حقائق کا سامنا کرنا پڑتا ہے: اپنے لہجے پہ غور کرکے بتا

لفظ کتنے ہیں اور تیر کتنے ہیں

ویسے زندگی کی کہانی رشتوں سے عبارت ہے رشتے سکھ بھی دیتے ہیں اور رشتے دکھی بھی کرتے ہیںغم ہمیشہ اپنوں سے ہی ملتے ہیں اور جب اپنے بیگانے ہوجائیں تو زندگی کی کہانی بہت بڑی ٹریجڈی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہوتا ہے جب آنکھوں سے آنسو بھی خشک ہوجاتے ہیں بندہ رونا بھول جاتا ہے ۔ سیانے کہتے ہیں رونا بہت ضروری ہے۔ یہ اندر کا میل کچیل باہر نکال کر انسان کو تھوڑی دیر کے لیے مطمئن کردیتا ہے۔ لیکن اب اس کا کیا علاج کہ رونا بھی مشکل ہوجائے! جب کٹھور دنیا انسان کو ٹھکرا دے تو پھر وہ رونا بھی بھول جاتا ہے کسی کا کوئی پیارا فوت ہوجائے اور اسے غم سے سکتہ ہوجائے اس کی پلکیں جھپکنا بھول جائیں تو پھر اسے زبردستی رلایا جاتا ہے۔ بڑے بوڑھے اس کے چہرے پر زور سے تھپڑ مار کر اسے رونے پر مجبور کرتے ہیں۔ جب آنکھوں سے آنسو سیلاب کی صورت بہہ نکلیں تو اس کی بچت ہوجاتی ہے ورنہ وہ اپنی جان عزیز سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ بات رونے کی ہورہی ہے تو لگے ہاتھوں یہ بھی پڑھ لیں کہ انڈ ین شہر سورت میں ایک کلب قائم کیا گیا ہے جہاں لوگ دل ہلکا کرنے کے لیے جاتے ہیںاور آنسوئوں کے ساتھ اپنا ذہنی دبائو بھی دھو ڈالتے ہیںاسے healthy crying club کا نام دیا گیا ہے۔ crying club اسی وقت بنتا ہے جب رونے کے لیے کوئی مقام ہی نہ ہو بندہ گھر میں نہ رو سکے دفتر میں اس کے آنسو پونچھنے والا کوئی نہ ہو دوست رشتہ دار اسے چھوڑ دیں آنسو اس وقت نکلتے ہیں جب کوئی سینے سے لگا کر محبت کا اظہار کرتا ہے جہاں آنسوئوں کی قدر کرنے والا کوئی نہ ہو جہاں آپ کے دکھ درد کو سمجھنے والا محسوس کرنے والا کوئی نہ ہو وہاں رونا اپنی معنویت کھو دیتا ہے پھر وہاں کیسا رونا ؟ ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ جب اہل خانہ سے اپنا دکھ چھپایا جائے تو ذہنی دبائو بڑھ جاتا ہے ۔ مگر کیسے اہل خانہ ؟ کہاں کے اہل خانہ ؟جب اپنے ہی گھر میں ایک ساتھ رہنے والے ایک دوسرے سے دور ہو جائیں کوئی کسی کا سر اپنے کاندھے پر رکھ کر اسے رونے کا موقع نہ دے کوئی اپنوں کا دکھ بانٹنے کے لیے تیار نہ ہو گھر کے لوگ زخم پر مرہم نہ رکھ سکیں بے حسی کا دور دورہ ہو تو پھر crying club کا ممبر بنے بغیر بات کہاں بنتی ہے!اپنا دکھ درد بیان کرنے سے دبائو کم ہوتا ہے دوسروں کی کہانیاں سن کر دوسروں کا دکھ سن کر انسان اپنا غم بھول جاتا ہے وہ اس بات کو سمجھ جاتا ہے کہ دنیا میں وہ اکیلا غمگین نہیں ہے۔انسان کا رونے کے ساتھ تعلق بہت پرانا ہے وہ اس دنیا میں آنے کے بعد سب سے پہلا کام یہی کرتا ہے آنکھیں کھولنے سے پہلے رونا شروع کردیتا ہے !بڑی بوڑھیوں کا کہنا ہے کہ شیر خوار بچوں کا رونا ان کے پھیپھڑوں کے لیے بہت مفید ہوتا ہے۔ 1970میں اس بات پر تحقیق کے بعد جو بات سامنے آئی وہ یہ تھی کہ تھوڑا بہت رونا تو جذبات کے اظہار کے لیے مفید ہے لیکن زیادہ رونے سے خون میں آکسیجن کا لیول کم ہوجاتا ہے جن بچوں کو جلدی چپ کروا دیا جاتا ہے ان کی صحت رونے والے بچوں کے مقابلے میں بہتر ہوتی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ بچوں کی خوراک کا خیال رکھا جائے بجائے اس کے کہ وہ ہر وقت روتے رہیں!لیکن ہمارا موضوع تو بڑوں کے رونے کے حوالے سے ہے اب تو مغر ب میں ایسے بہت سے ادارے کام کررہے ہیں جو اپنے فون نمبرز اخبارات میں دیتے رہتے ہیںکہ اگر مسائل کی وجہ سے آپ کا دبائو بڑھ گیا ہے تو ہمیں فون کیجیے وہ آپ کی بات پوری تفصیل کے ساتھ سنتے ہیں۔ پھر آپ کو مفید مشورے بھی دیتے ہیں ان کے اشتہارات میں اس قسم کے فقرے لکھے ہوتے ہیں : اگر آپ کے مسائل کی وجہ سے آپ کا دبائو بڑھ گیا ہے تو خاموش رہنے کی بجائے ہمیں فون کیجیے ہم آپ کی بات سنیں گے۔ مفید مشورے دے کر آپ کو زندگی کے دھارے میں پھر سے شامل کردیں گے !اس کا سیدھا ساد ا سا مطلب یہ ہے کہ آج کا انسان تنہا ہے اسے ایک کاندھے کی ضرورت ہے جس پر سر رکھ کر رویا جاسکے !

متعلقہ خبریں