Daily Mashriq


مشر قیات

مشر قیات

ایک شخص نے غصے میں آکر اپنی بیوی سے کہہ دیا۔ ’’خدا کی قسم جب تک تو مجھ سے نہیں بولے گی‘ میں تجھ سے بات نہیں کروں گا۔ ‘‘ عورت بھی غصے میں تھی۔ بولی’’ خدا کی قسم! جب تک تم مجھ سے نہ بولو گے ‘ میں بھی تم سے کلام نہیں کروں گی۔‘‘

اس وقت تو دونوں نے غصے میں قسمیں کھالیں۔ لیکن بعد میں سخت پریشان ہوئے۔ کیونکہ جو بھی بولتا اس کی قسم ٹوٹتی اور بھاری کفارہ لازم آتا اور نہ بولیں تو گزر کیسے ہو؟ حضرت سفیان ثوریؒ سے مسئلہ پوچھا۔ انہوں نے واقعہ معلوم کرکے فتویٰ دیا کہ اگر تم بیوی سے بولوگے تو تمہیں قسم کا کفارہ دینا پڑے گا۔ اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں اور اگر وہ بولے گی تو اسے کفارہ دینا پڑے گا۔

غریب آدمی تھا۔ وہ پریشان ہو کر امام اعظم ابو حنیفہؒ کے پاس آیا اور واقعہ بتا کر مسئلہ پوچھا۔ امام اعظمؒ نے اس شخص سے کہا جائو۔ شوق سے باتیں کرو۔ کسی پر کفارہ نہیں ہے۔

جب حضرت سفیان ثوریؒ کو معلوم ہوا تو سخت ناراض ہوئے اور امام اعظمؒ کے پاس جا کر کہا’’ آپ لوگوں کو غلط مسئلے بتاتے ہیں۔‘‘

امام ابو حنیفہؒ نے اس شخص کو بلوایا اور فرمایا: اپنا واقعہ دوبارہ بیان کرو۔ اس نے واقعہ بیان کیا۔

امام ابو حنیفہؒ: اس مسئلے کا جو جواب میں نے پہلے دیا تھا۔ میرا جواب اب بھی وہی ہے۔

سفیان ثوریؒ: کس دلیل سے؟

امام ابو حنیفہؒ: عورت نے شوہر کی قسم کے بعد اس سے مخاطب ہو کر اپنی قسم کھائی۔ وہ بھی تو بولنا ہی تھا۔ شوہر کی قسم یہی تو تھی کہ اگر تم مجھ سے نہیں بولے گی تو میں تجھ سے بات نہیں کروں گا۔ عورت بول دی تو اس کی قسم کہاں باقی رہی؟

حضرت سفیان ثوریؒ : (حیرت زدہ ہو کر) واقعی جو بات وقت پر آپ سوچ لیتے ہیں وہاں ہمارا خیال بھی نہیں جاتا۔

(تاریخ کے دریچوں سے۔ از مفتی محمد رفیع عثمانی)

سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کی فوج کاایک سپاہی ایک دفعہ کسی دشمن کادودھ پیتا بچہ اٹھا لایا۔ اس کی ماں بے قرار ہوگئی اور اپنے گائوں کے سردار سے فریادی ہوئی‘ اس نے کہا: ’’ سلطان صلاح الدین ایک سچا مسلمان ہے‘ اس کی خدمت میں جاکر عرض کرو۔‘‘ وہ سلطان کی خدمت میں آئی اور ساری کہانی سنائی۔ سلطان یہ باتیں سنتا جا رہا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی لڑی رواں تھی۔

عورت اپنی کہانی سنا چکی تو سلطان غصے سے اٹھا اور فوج میں تلاش شروع کردی‘ معلوم ہوا کہ بچہ بیچ دیاگیا ہے‘ اس کے دام ادا کرکے بچہ واپس منگوایا اور اس کی ماں کے حوالے کردیا‘ ماں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا‘ اس نے سلطان کا شکریہ ادا کیا اور اٹھ کر اپنے گھر کو واپس چلی گئی‘ سلطان نے اس پر عورت سے کہا کہ تمہیں میرے ایک سپاہی کی وجہ سے تکلیف پہنچی‘ میں اس کی تم سے معافی چاہتا ہوں۔

متعلقہ خبریں