Daily Mashriq


20ارب روپے اجراء پر عوام کی مایوسی بے سبب نہیں

20ارب روپے اجراء پر عوام کی مایوسی بے سبب نہیں

وفاقی حکومت کا پن بجلی منافع اور بقایاجات کی مد میں خیبر پختونخوا حکومت کو 20ارب روپے کا اجراء صوبے کو اس کا حق دینے کا ایک خوش آئند قدم ضرور ہے لیکن یہ کافی نہیں۔خیبر پختونخوا کو پن بجلی منافع اور بقایا جات کے 65ارب روپے میں سے20ارب روپے کا اجراء اس شرط پر کردیا گیا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران پن بجلی منافع اور بقایاجات کی مد میں مزید فنڈ جاری نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب فنانس ڈیپارٹمنٹ نے 45ارب روپے کے بقایاجات کے حصول کیلئے نیا کیس تیار کرنے پر مشاورت شروع کردی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ رواں مالی سال کے دوران مزید رقم کے اجراء سے انکار صوبے کو اس کا حق دینا نہیں بلکہ صوبے سے اس کا حق چھیننا ہے۔ جب تک آئندہ مالی سال کے بجٹ کا اجراء ہوگا اور صوبے کو نجانے کب دوسرا چیک ملے گا اس وقت تک صوبے کے مزید بقایاجات وفاق کے ذمے واجب الادا ہوں گے۔ یوں وفاق صوبے کا مستقل مقروض رہے گا اور صوبے کو اس کے حصے کی رقم نہ ملنے سے کوئی بڑا منصوبہ نہ تو بنایا جا سکے گا اور نہ ہی جاری منصوبوں کیلئے فنڈز کی فراہمی ممکن بنا کر ان کی بروقت تکمیل ممکن ہوگی۔ اس وقت صوبائی حکومت نہایت ضروری اور عوامی مفاد کے شعبوں سے رقم کی کٹوتی کر کے بعض منصوبوں کی تکمیل کی جدوجہد میں مصروف ہے۔ اس ساری صورتحال میں وفاقی حکومت کا اقدام اونٹ کے منہ میںزیرہ کے مصداق ہی سمجھا جائے گا۔ اگرایسا نہیں بھی ہے تب بھی یہ وفاق کی جانب سے صوبے کے ساتھ مہربانی کا رویہ نہیں بلکہ صوبے کے حق کی نصف رقم کی بھی ادائیگی سے احتراز سراسرناانصافی اور صوبے کو محروم کرنے کے مترادف ہے جس پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا، صوبائی کابینہ اور پوری اسمبلی کواکٹھے ہو کر احتجاج کرنا چاہیئے۔خاص طور پر حزب اختلا ف کے رہنمائوں اور صوبے کی وہ سینئر سیاسی قیادت جو اسمبلی سے باہر ہے ان سب کو مشترکہ لائحہ عمل مرتب کر کے احتجاج کرنا چاہیئے۔ خیبرپختونخوا کے عوام کو صوبائی حکومت سے بڑی توقعات ہیں لیکن اگر صوبے کو اس کے حصے کی رقم ہی نہ دی جائے تو اس کیلئے عوام کی امنگوں پر پورا نہ اترنا فطری امر ہوگا۔خیبرپختونخوا کے عوام کی مرکزی حکومت سے توقعات کی وابستگی اور امیدیں بھی بلاوجہ نہیں لیکن جو حکومت صوبے کے عوام کو اس کا جائز حق نہ دے اس سے مزید توقعات کا اظہار عبث ہوگا۔بیس ارب روپے کی رقم صوبائی خزانے میں آنے سے صوبائی حکومت کوئی ایسی منصوبہ بندی نہیں کرسکتی جو عوام کیلئے اطمینان کا باعث ہو۔ اس رقم کا زیادہ تر حصہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں ہی پر خرچ ہوگا اور عوام محروم ہی رہیں گے۔

دواضلاع کے مشترکہ ہسپتال کی حالت زار

چترال کے دو اضلاع کے مشترکہ مرکز علاج ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال میں ڈاکٹروں کی125آسامیوں کا خالی ہوناہسپتال کی خالی عمارت کے موجود ہونے سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا ۔ہسپتال میں ڈاکٹرموجود نہ ہوں علاج معالجے کی دیگر سہولتوں او ر بستروں کی کمی ہو تو اس کے قیام کا جواز ہی باقی نہیں رہتا۔ نام کے ڈی ایچ کیو سے عوام کو علاج کی کیا سہولت میسر ہوگی۔ ہمارے نمائندے کے مطابق ضلع کے طول وعرض میں قائم بیسک ہیلتھ یونٹس، رورل ہیلتھ سنٹر اور دروش، بونی اور گرم چشمہ میں تحصیل ہیڈ کوارٹرز ہسپتالوں میں بھی ڈاکٹروں اور دوسری سہولیات کا فقدان ہے جس کی وجہ سے اس ہسپتال پر بوجھ مزید بڑھ جاتا ہے۔اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ چترال کے دونوں اضلاع خاص طور پر اپر چترال اور چترال پائیں کے بھی زیادہ تر علاقے دوردراز اور پسماندہ ہیں جہاں سے مریضوں کی ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقلی ہی ناممکن امر ہے کجا کہ کسی مریض کو علاج کیلئے پشاور لایا جائے۔ مگر حکومتی جبر اور نا انصافی کے باعث عوام ایسا کرنے پر مجبور ہیں۔توقع کی جانی چاہیئے کہ چترال کے دواضلاع کے مشترکہ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرہسپتال میں چترال کے ڈومیسائل پر منتخب ہوکر میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والوں کا وہاں تبادلہ کر کے ڈاکٹروں کی کمی دور کی جائے گی۔ دیگر طبی عملے کا تقرر کیا جائے گا بلڈنگ کی مناسب توسیع ومرمت کی جائے گی ادویات اور تشخیصی آلات کی فراہمی ترجیحی بنیادوں پر کی جائے گی۔

پبلک سروس کمیشن کی کمپیوٹرائزیشن

پبلک سروس کمیشن کے ٹیسٹ کمپیوٹرائزڈ طریقے سے لینے سے جہاں نتائج میں حددرجہ تاخیر کا مسئلہ حل ہوگا وہاں شفافیت میں بھی بہتری آئے گی اورامیدواروں کے شکوک وشبہات کا بھی ازالہ ہوگا۔ اس نظام کو جلد سے جلد رائج کرنے کی ضرورت ہے تاکہ جدید طریقے سے اور تیزی کے ساتھ امتحانات انتظام ممکن ہو اور مربوط طریقے سے ٹیسٹ کا انعقاد ہوسکے۔

متعلقہ خبریں