Daily Mashriq

پاک،بھارت کشیدگی میںکمی لانا،عالمی ذمہ داری

پاک،بھارت کشیدگی میںکمی لانا،عالمی ذمہ داری

اگرچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے آسمان پر منڈلاتے کالے بادلوں میں خطے کے امن کو خطرات اور خدانخواستہ تباہی کی بارش کا نظر آنا کوئی پیش بینی اور بصیرت کا مظہر نہیں بلکہ یہ نوشتہ دیوار ہے جو صاحبان بصیرت اور دوراندیشوں ہی کا خدشہ نہیں بلکہ عوام بھی اس سے بخوبی آگاہ ہیں۔ دونوں حریف جوہری ممالک کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے محدود پیمانے پر استعمال کے امکانات بھی کوئی راز کی بات نہیں خدانخواستہ جنگ کی صورت میں کوئی فریق کب اور کس بناء پر جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ یا غلطی کرتا ہے اس بارے بھی کوئی ضمانت نہیں بلکہ عین ممکن ہے ایک عام خیال یہ رہا ہے کہ اس قسم کی صورتحال میں پہل پاکستان کی طرف سے ہوگی لیکن جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ایک ہی اڑان میں دو جنگی طیارے اورایک ہیلی کاپٹر مارگرائے تو بھارت جیسے بڑے طاقتور ملک کی قیادت نے پاکستان کے پانچ چھ شہروں کو اگلی رات میزائل سے نشانہ بنانے کا خطرناک فیصلہ کیا جس کی اطلاع اگر بروقت نہ ملتی اور پاکستان جوابی وار کیلئے پوری طرح تیاری کی حالات میں ہو کر عالمی سطح پر پیغام نہ دیتا تو نجانے اس رات کیا ہوتا یہ وہ سارا پس منظر تھا جس کی روشنی میںامریکی اخبار نے پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خطرات کی موجودگی کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ خطرات اس وقت تک موجود رہیں گے جب تک دونوں ممالک مسئلہ کشمیر کو حل نہیں کرتے ہیں۔نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلواما میں حملے کے بعد دونوں ایٹمی صلاحیت کے حامل ہمسایہ ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی میں کمی آئی ہے لیکن مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں تک ایک اور خطرناک کشیدگی کے خطرات کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔اخبار کا کہنا ہے کہ مسئلے کے ساتھ مذہبی اور قومی پہلو جڑے ہوئے ہیں جس کا حل بھارت، پاکستان اور مقبوضہ کشمیر کے عوام کے درمیان مذاکرات سے ہونا چاہیے، یہ ایک طویل عمل ہے جس کے لیے مرکزی فریقین نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ اگر پاکستان کی جانب سے بھارتی پائلٹ ابھی نندن کوامن کی خاطر خیر سگالی کے طور پر گرفتاری کے دو روز بعد ہی رہا نہیں کیا جاتا تو تنازع قابو سے باہر ہوسکتا تھا۔گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نندن کو رہا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے پارلیمنٹ میں اپنے خطاب میں کہا تھا یہ فیصلہ خطے میں امن کی خاطر خیر سگالی کے طور کیا گیا ہے۔نیویارک ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے پائلٹ کو بھارت واپس بھیج دیا جس کو خیرسگالی کے جذبے کے طور پر دیکھا گیا اور انہوں نے مذاکرات کا مطالبہ کرتے ہوئے حملے کی تحقیقات کا وعدہ کیامگر اس کے باوجودبھارتی وزیراعظم نریندر مودی آگ برسانے سے باز نہیں آئے اوربھارتی فضائیہ کی ناکامی کے بعدبھارتی بحریہ نے5مارچ کو پاکستانی حدود میں داخلے کی کوشش کی تھی مگر بھارت کو فضائی محاذ کے بعد سمندری محاذ پر بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔بھارت نے روس سے دس سالہ لیز پر تیسری جوہری آبدوز کے حصول کے لیے3ارب ڈالر کامعاہدہ کر کے روایتی حریف پاکستان اور چین کے خلاف بحیرہ ہند میں اپنی طاقت میں اضافہ کرلیا۔ان سارے حالات کے تناظر میں پاکستان کے پاس اپنے دفاع کیلئے مزید اقدامات کرنے کے سوا کوئی چارہ نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی معیشت اس بوجھ کی متحمل ہوسکتی ہے یا نہیں یہ الگ سوال ہے ۔ بھارت اپنی ایئر فورس کو بھی پاکستان کے مقابلے میں مزید مضبوط کرنے کے جتن کرسکتا ہے۔ اس ساری صورتحال میں خطے میں سوائے کشیدگی میں اضافے اور جنگی جنون کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔ پاکستان کے خلاف حالیہ جارحیت میں امریکہ، اسرائیل اور انڈیاگٹھ جوڑ اور ایک اسرائیلی پائلٹ کی بھی پاکستان کے خلاف جارحیت میں شرکت اور مبینہ طور پر جہاز کی تباہی کے بعد پکڑے جانے کی بھی نیم مصدقہ اطلاعات ہیں ۔اس تناظر میں تو خطرات میں اضافہ ہی نہیں بلکہ پاکستان کے دوست اور حلیف قوتوں کی اپنی پیشگی دفاع میں پاکستان کی ہر ممکن مدد اور اس دفاعی حصار کی حفاظت کیلئے عملی اقدامات فطری امر ہوں گے جس سے خدانخواستہ عالمی جنگ چھیڑ جانے کا خطرہ ہے۔ یہ ایک خیال بھی ہوسکتا ہے اور اس کے حقیقت بننے کے امکانات بھی غیر واضح نہیں۔ اس صورتحال سے بچنے کا واحد راستہ مسئلہ کشمیر کاحل اور پاک بھارت مذاکرات ہیں مودی کے لب ولہجے سے تو خون کی بو آتی ہے ان کے منہ سے تو خون ٹپکتا ہے جسے بھارتی عوام کی حمایت حاصل نہیں اور نہ ہی وہ جنگی جنون پیدا کر کے بی جے پی کی انتخابی کامیابی کی حکمت عملی کو کامیاب ہونے دیں گے۔ اس صورتحال سے بچنے کیلئے عالمی برادری کی کوششیںامید کی کرن ہیں کہ عالمی برادری دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی اور مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں جس کے بعد ہی خطے سے جنگ کے بادل چھٹ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں