Daily Mashriq


آہ !مسعود سلمان بھی ہم سے بچھڑ گئے

آہ !مسعود سلمان بھی ہم سے بچھڑ گئے

مسعود سلمان صاحب کی قیمتی تحریریں جو ''مشرق ''کے ادارتی صفحات کی زینت تھیں قارئین اب ان تحریروں سے محروم ہو گئے ہیں ،ان کی آخری تحریر ''گواہوں کو انتباہ''بدھ کو ''مشرق ''کے ادارتی صفحہ پر شائع ہوئی تھی ،مسعود سلمان صاحب کے صحافتی قدکاٹھ کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی تحریریں ہمیشہ نمایاں شائع کی جاتی رہیں،قارئین میںان کی تحریروں کو خاص درجہ حاصل رہا اور بے پناہ فیڈ بیک آتا رہا ، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ان کی تحریر کو ایڈٹ کیا گیا ہو، محتاط انداز سے تحریر کیسے لکھی جاتی ہے ،ملفوف اور شائستہ انداز میں حکام بالا تک اپنی بات کیسے پہنچائی جائے یہ مسعود سلمان صاحب کی تحریروں کا خاصہ تھا ۔اصولوں کے پکے تھے، مجھے یاد نہیں کہ کوئی ان کے طرز عمل یا برتاؤسے ناراض ہوا ہو۔گزشتہ منگل کو کالم مکمل کرنے کے بعد مجھے کہنے لگے کہ میری طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی،آپ مجھے کل کی چھٹی دے دیں ،یہ ان کا تکیہ کلام تھا ورنہ وہ ہمارے استاد محترم تھے، انہیں ہم سے چھٹی لینے کی ضرورت نہ تھی لیکن جب بھی انہیں آفس نہیں آنا ہوتا تھا تو اپنے نہ آنے کی اطلاع دینے کیلئے یہی اسلوب اختیار کرتے کہ آپ مجھے چھٹی دے دیں۔اسلام آباد آفس بھی اطلاع کرتے اور پشاور آفس بھی۔پوری زندگی سیاست پر لکھا ،نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی سیاست پر انہیں خوب دسترس حاصل تھی ،مشرق وسطیٰ بارے ان کا خیال تھا کہ پاکستان اس سے الگ نہیں ہے اس لئے ہمارے میڈیا کو مشرق وسطیٰ کے حالات بارے بھی آگاہی فراہم کرنی چاہئے ۔سیاست میں شخصیات کا بت بنا کر ان کی پوجا شروع کرنے کے سخت خلاف تھے ،ان کی بہت سی باتیںایسی تھیں کہ انہوں نے جو تجزیہ پیش کیا حالات اور وقت نے ان کے تجزیئے کو درست ثابت کیا ۔مثبت تنقید کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا ۔ایک بات کا بڑی شدت سے اظہار کیا کرتے تھے کہ مسلمان مثالی سماج کی تشکیل کیلئے کچھ بھی نہیں کر رہے حالانکہ یہی مقصود ہے ،مدینہ کی ریاست میں مثالی سماج کیلئے کاوشوں کو وہ بطور مثال پیش کیا کرتے تھے وہ مسلمانوں کی مالی اعتبار سے بالا دستی کے حق میں نہیں تھے اور کہا کرتے تھے کہ آج مسلمان جس چیز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں یہ مسلمانوں کا مقصود نہیں ہے۔مسعود سلمان صاحب نے ''مشرق'' میں بھی طویل عرصہ گزارا ہے لیکن وہ اس سے قبل شہید ذوالفقار علی بھٹو کے ساتھ ان کے اخبار ''مساوات'' میں بطور ایڈیٹوریل ایڈیٹر کام کر چکے تھے ، وہ اپنی بڑائی کے قائل نہیںتھے کسی کو اپنی قابلیت بارے نہیں بتایا کرتے تھے لیکن میرے ساتھ ان کا خصوصی لگائو تھا انہوں نے اپنے دکھ سکھ کے ساتھ ساتھ اپنی زندگی کے مختلف واقعات پر گفتگو فر مایا کرتے تھے ،مساوات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جب مساوات میں ،میں ایڈیٹوریل لکھا کرتا تھا تو میرے کمرے کے باہر سرخ بتی جل رہی ہوتی تھی اس دوران کسی کو اندر آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔اداریہ میںموضوع کے انتخاب سے لیکر کیا مؤقف اختیار کرنا ہے ،بھٹو صاحب کے ساتھ براہ راست اس کے پوائنٹ ڈسکس کئے جاتے تھے ۔آج کی صحافت بارے بات کرتے ہوئے ایک دفعہ کہنے لگے کہ اس وقت میرا جو ریسر چر تھا وہ پنجاب یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر تھا۔ روزنامہ ''امروز'' اور دیگر کئی قومی سطح کے اخباروں میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے لیکن کبھی بھی اپنے آپ کو بڑا صحافی یا سینئر صحافی کہلوانا پسند نہیں کیا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو سمیت کئی سینئر سیاست دانوں کے ساتھ رہے، ان کے سگے بھائی سیکرٹری ریٹائر ہوئے لیکن کبھی بھی سفارش سے کام نہیں لیا ،حتیٰ کہ اپنے بچوں کیلئے بھی سفارش نہیں کروائی،ان کے ایک بیٹے کے پاس انجینئرنگ کی ڈگری ہے لیکن اسے بھی ملازمت نہ دلا سکے جو ان کی وفات کے بعد بھی بے روزگار ہے ،انہوں نے پوری زندگی کسمپرسی میں گزاری، آخری وقت تک پبلک ٹرانسپورٹ یا ٹیکسی پر آفس آتے رہے ،عمر کے آخری حصے میں کافی کمزور ہو چکے تھے کمر میں جھکاؤ آنے کی وجہ سے چلنا بھی دشوار تھا لیکن اس کے باوجود آفس آتے ،کام کرتے اور مجھ جیسے جونیئر کی رہنمائی کرتے ،جب ہم آرام کرنے کا کہتے تو بولتے کہ بس زندگی گزر رہی ہے اور زندگی اسی کا ہی نام ہے۔مسعود سلمان صاحب جتنے بڑے انسان تھے اتنی ہی انہوں نے گمنامی کی زندگی گزاری ، رسول کریم ۖ کا ارشاد گرامی ہے کہ ''میرے دوستوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ رشک کرنے کے لائق وہ مومن ہے جو مال اوراولاد سے ہلکاپھلکاہو، صلاة میں جسے راحت ملتی ہو، لوگوں کے درمیان ایسی گمنامی کی زندگی گزار رہاہوکہ انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا، اور اس کا رزق بقدر کفاف ہو پھر بھی اس پر صابررہے، پھرآپ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارااور فرمایا:'' جلدی اس کی موت آئے تاکہ اس پر رونے والیاں تھوڑی ہوں اور اس کی میراث کم ہو''۔میرے نزدیک مسعود سلمان صاحب ایک بڑے مگر گمنام آدمی تھے ،جوشاید صدیوں بعد پیدا ہوتے ہیں ،مسعود سلمان کی اس صفحے سے رخصتی کے بعد صفحہ کے قارئین اور مرتبین اُن کی کمی کو تادیر محسوس کریں گے قارئین سے اُن کے لئے دُعائوں کی خصوصی درخواست ہے اللہ کریم سے دعاہے کہ وہ مرحوم کی بشری لغزشوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کی آخرت کی منزلیں آسان فرمائے اور اُن کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام دے۔ آمین

متعلقہ خبریں