Daily Mashriq


اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

ضروری نہیں کوئی بیکار سمجھی جانے والی شے کسی ضرورت مند کے لئے بھی بے کار ہو۔ میری اس بات کا کڑوا سچ جاننے کے لئے کسی کچرے کے ڈھیر میں اپنا رزق تلاش کرنے والے چیتھڑے پہنے بچوں پر ایک نظر ڈال لیجئے گا۔ پلاسٹک کی بوتلیں گتوں کے ڈبے، روٹی کے ٹکڑے، ٹوٹی پھوٹی یا بیکار سمجھ کر پھینک دی جانے والی بہت سی اشیاء غربت مارے فاقہ زدہ لوگ کچروں کے ڈھیروں میں تلاش کرتے ہیں اور انہیں چن چن کر گلی گلی لگی کباڑیوں کی دکان پر چند ٹکوں کے عوض بیچ کر اپنے پیٹ کی آگ بجھانے یا زندہ رہنے کی قیمت ادا کرنے کے لئے کے کام میں لاتے ہیں ۔کوڑا کباڑ یا کچرہ ان جگہوں پر وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جہاں لوگوں کا جم غفیر کسی میلے ٹھیلے یا سیر سپاٹے کی غرض سے جمع ہوجاتا ہے ، جیسے گرمیوں کے سیزن میں ملکہ کوہسار مری ، نتھیا گلی یا اس قبیل کے دیگر پر فضا مقامات کی سیر کے لئے آنے والے ٹیکنی کلر لبادوں میں لپٹے کھاتے پیتے گھرانوں کے لوگوں کی بھیڑ ، میں اس بات کا چشم دید گواہ ہوں کہ ایسے لوگ رات بھر بزعم خود پاکستان کے پر فضا مقامات کی سیر کرنے کے بہانے موج مستیاں کرتے اور چٹخارے دار اشیاء کھاپی کر ہوٹلوں کے کمروں میں جاکر استراحت کرنے لگتے ہیں ، لیکن صبح دم جب صفائی کرنے والا عملہ جھاڑو لگا نے آتا ہے تو اس کو منوں کے حساب سے وہ کچرہ اٹھا کر ٹھکانے لگانا پڑتا ہے جو ڈسپوزیبل ڈبوں، پلاسٹک کی بوتلوں ، اور پیکٹوں کے علاوہ چھلکوں اور گٹھلیوں کی صورت سر راہ گرا دی جاتی ہیں ، ضروری نہیں کہ آلائشیں ، باقیات یا بے کار اشیاء کو پھینک دینے کی روش میلوں ٹھیلوں یا سیر سپاٹے کے مقامات پر اپنائی گئی ہو، حضرت انسان جہاں بھی بود و باش کرتا ہے ، وہاں صفائی ستھرائی کرنے کے بہانے

اٹھا کر پھینک دو باہر گلی میں

نئی تہذیب کے انڈے ہیں گندے

کے بہانے گھر کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے گلی کوچوں کو پرا گندہ کرتے رہتے ہیں ، گلی کوچوں بازاروں اور سڑکوںکو صاف ستھرا رکھنے کے لئے بلدیاتی اداروں کا عملہ صفائی اپنے حصہ کا کردار ادا کرتا ہے ، چونکہ بلدیاتی ادار وں کی گاڑی عوام کے منتخب نمائندوں کی سر براہی میں چلتی ہے اس لئے صفائی ستھرائی کا خیال رکھنا عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کی ذمہ داری بن جاتی ہے ، جس وقت پشاور کی آبادی بہت کم تھی اس وقت صفائی ستھرائی کے کام کو بحسن و خوبی بروئے کار لانے کے لئے پنجاب سے آکر پشاور میں بود و باش اختیار کرنے والے مسیحی برادری کے لوگ انجام دیتے تھے ، وہ اس کام کو عین عبادت سمجھتے تھے ، مجھے یاد پڑتا ہے بلدیہ پشاور کے عملہ صفائی اور مزدور یونین کی ایک خاتون رہنماء آنجہانی ودھیا سرکار مزدور یونین کے ایک پر ہجوم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ '' ماں کے پیروں کے نیچے جنت اس لئے ہے کہ وہ بچے کی آلائش صاف کرتی ہے ، لیکن عملہ صفائی کے مزدور اس لئے جنت کے حقدار ہیں کہ وہ بچوں بوڑھوں اور جوانوں کی آلائشوں اور ان کی پھینکی ہوئی باقیات کو صاف ستھر ا کرکے ان کو ٹھکانے لگانے کا ثواب کماتے ہیں ، ضروری نہیں کہ ہم ودھیا سرکار کے اس نظریے سے اتفاق کریں ، لیکن اس حقیقت سے انکار بھی ممکن نہیں کہ کل تک پشاور کو صاف ستھرا رکھنا جتنا مشکل تھا آج اس مشکل میں اس سے کئی گنا اضافہ ہوچکا ہے ، پشاور کی آبادی کم وبیش 20لاکھ نفوس پرپہنچ چکی ہے ، ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ کے مطابق پشاور دنیا کے بیس آلودہ ترین شہروں میں چھٹے پوزیشن پر ہے ۔ انسان کو آپ لاکھ اشرف المخلوقات کہہ لیں ، یہ سماجی جانور کہلاتا ہے ، اور جانور بہت کم لگے بندھے اصولوں کی پاسداری کرتے ہیں ۔ گھر کو صاف ستھرا رکھنے کے لئے گلی کوچوں میں کوڑا پھینکنا ان کی مجبوری ہے ، گلی کوچوں ، سڑکوں اور بازاروں کو صاف ستھرا رکھنے کی ذمہ داری بلدیہ پشاو ر کے زیر اہتمام کام کرنے والے ادارے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور کی ہے ، جس نے حال ہی میں پشاور کے رہائشیوں کو گلی کوچوں میں کوڑا پھینکنے سے روکنے کے لئے شہر بھر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا عندیہ دے کر ایسے لوگوں کے خلاف تادیبی کارروائی کا ارادہ کیا ہے جو اپنا کوڑا گلیوں اور بازاروں میں پھینکنے کے عادی ہیں ، ہمیں شہر بھر میں کیمرے نصب کرنے کا منصوبے کے بارے میں جان کر بھولے باچھا نامی بلدیاتی انتخابات کے اس امیدوارکی وہ تقریر یاد آگئی جس میں اس نے عوامی رابطہ مہم کے دوران کہا تھا کہ وہ شہر کو صاف ستھرا دیکھنے کے لئے ہر مکان سے وہ کھڑکی اور دروازہ سیل کروادیں گے جس کے مکین گلی میں کوڑا پھینکتے ہیں ، وہ ہر گھر میں نصب نکاسی آب کے نلکے اکھڑوا دیں گے تاکہ نہ رہے گا کوئی پرنالہ اور نہ ہی ان میں بہہ کر نکلنے والا آلودہ پانی اور فاضل مواد ہمارے گلی کوچوں میں گندگی پھیلا سکیں گے ، واٹر اور سینی ٹیشن سروسز نے شہر بھر میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا عندیہ اس لئے دیا ہے کہ شہری گھر یا دکان کا کوڑا گلیوں میں نہ پھینکیں ورنہ وہ موٹر سوار کمیٹیوں والوں کے ہتھے چڑھ کر اپنے کئے کی سزا بھگتنے لگیں گے ، سائنس کا ایک عام سے اصول کے مطابق نہ تو مادہ فنا ہوتا ہے اور نہ پید ا کیا جاسکتا ہے ، یہ ٹھوس مائع گیس کی صورت اپنی شکلیں بدل سکتا ہے ، اب تو شنید ہے کہ گلیوں میں پھینکے جانے والے کچرے کو جلا کر اس سے بجلی بھی بنائی جاسکتی ہے ، لیکن ہمارے کرسی نشین ایسا کوئی قدم اٹھانے کی بجائے جانے کیوں عوام کو جرمانہ کرنے کے اذیت ناک شوق کو پورا کرنا چاہتے ہیں ۔

تخلیق کائنات کے دلچسپ جرم پر

ہنستا تو ہوگا آپ بھی ، یزداں کبھی کبھی

متعلقہ خبریں