Daily Mashriq

خواتین کو محفوظ ماحول کی فراہمی کا دعویٰ

خواتین کو محفوظ ماحول کی فراہمی کا دعویٰ

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ ''ہم خواتین کو قومی ترقی میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے لیے محفوظ اور بہتر ماحول فراہم کرنے کے وعدے کی دوبارہ یقین دہانی کراتے ہیں''۔ وزیراعظم عمران خان نے مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو قائد اعظم کی پاکستان کے لیے جدو جہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑے رہنے پر خراج تحسین بھی پیش کیا۔کہنے کی حد تک ہمارے معاشرے میں خواتین کو مردوں کے برابر حقوق حاصل ہیں لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ،حقیقت یہ ہے کہ عورت آج بھی اپنے حقوق کیلئے ترس رہی ہے ،مردوں کے اس معاشرے میں عورت آج بھی حقوق سے محروم ہے کیونکہ وہ عورت ہے ،کیونکہ وہ کمزور ہے ۔

قوم کو بنانے کے لئے صرف ماں ہی اپنا کردار ادا نہیں کرتی بلکہ بیٹی ، بہن اور بیوی جیسے رشتوں میں ڈھل کر بھی اس کا کردار وہی ہوتا ہے جو قدرت اور فطرت نے اسے عطا کیا ہے۔ عورت اپنے ہر رنگ اور ہر رشتے میں صبر ، برداشت ، قربانی ، محبت اور پرورش کی ضامن ہوتی ہے۔

پاکستان کی خواتین نامساعد حالات کے باوجود تعلیم سمیت ہر شعبے میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہیں ۔ موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ تمام خواتین بھی اپنی تعلیم اور صلاحیت سے معاشرے کو فائدہ پہنچائیں۔بہت سے شعبہ ہائے زندگی ایسے ہیں جو صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہیں۔ اس کے علاوہ بوقت ضرورت خواتین ہرشعبے میں کام کر سکتی ہیں۔میڈیکل کے شعبے میں عورتوں کی سخت ضرورت ہے۔بہت سے لوگ عورتوں کی تعلیم کے مخالف ہیں مگرجب اپنی عورتوں کا علاج کرانا ہو تو کسی خاتون ڈاکٹر کی تلاش میں مارے مارے پھرتے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں پاکستان کی خواتین میں تعلیم کے حصول کا شعور کافی حد تک اجاگر ہوا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کے ان علاقوں میں بھی تعلیم کی اہمیت کا شعور اجاگر ہونے لگا ہے جہاں والدین لڑکی کی پیدائش سے ہی زر اور زیور جمع کرنے کی فکر میں گھلنا شروع ہو جاتے تھے کیونکہ انہیں اپنی بیٹی کو بیاہنے کا بندوبست کرنا اپنا اولین فریضہ لگتا تھا جبکہ اب ایسا نہیں ہے، شہروں کے ساتھ ساتھ دیہاتوں میں بھی خواتین کی تعلیم پر خاصی توجہ دی جارہی ہے۔

ہمارے معاشرے میں سماجی ترقی کے اعتبار سے حیران کن تضادات نظر آتے ہیں، شہری علاقوں میں لوگوں کو تعلیم اور صحت سے لے کر کئی دیگر شعبوں میں بھی کافی زیادہ سہولتیں اور مواقع حاصل ہیں، چھوٹے شہروں اور قصبوں میں یہ سہولتیں کافی کم ہیں، دیہی علاقوں میں یہ سہولتیں نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ قبائلی علاقے ابھی تک گویا قرونِ وسطیٰ کے دور ہی سے باہر نہیں نکلے۔اس وسیع تر تقسیم پر مردانہ حاکمیت اور ایسے طے شدہ سماجی کرداروں کی چھاپ ہے، جس میں خواتین کی اپنی انفرادی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں ماؤں، بیویوں، بیٹیوں اور بہنوں ہی کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ مردوں کے غلبے والے معاشرے کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

روزگار کے حوالے سے اگر پاکستان کے اندر خواتین کی حصہ داری پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان کی آبادی کی دو تہائی جو دیہاتوں میں رہتی ہے، وہاں خواتین محنت کے ہر شعبے میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور گھریلو کاموں کے ساتھ ساتھ دستکاری اور زراعت میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے مگر ان کے اس کردار کے باوجود معاشرتی روایات کی خاطر ان کو کبھی وہ سماجی حیثیت نہیں دی جاتی جس کی وہ حق دار ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عورت کا پاکستانی معیشت میں اہم کردار ہے اور وقت کے ساتھ ان کے اس شاندار کردار میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نے خواتین کو قومی ترقی میں مثبت کردار ادا کرنے کیلئے جس بہتر ماحول کی فراہمی کے عزم کا اظہار کیا ہے اس پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد کی ضرورت ہے،خواتین کی خودمختاری اور معاشرے میں ان کا بھر پور کردارپی ٹی آئی کا انتخابی نعرہ بھی تھا ،وزیراعظم کے پاس آج وقت ہے کہ خواتین کے حقوق کی پاسداری کر کے اپنے اس انتخابی نعرے کو ایفاء کریں۔

خواتین کے عالمی دن کے موقع پر صرف مذمتی الفاظ، ریلیوں اور سیمیناروں سے کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ معاشرے میں خواتین کے مقام کی اہمیت کو کھلے دل اور کھلے ذہن سے تسلیم کرنا ہو گا۔ ان ہاتھوں کو روکنا ہوگا، جو خواتین پر تشدد کرتے ہیں، ان جاہلانہ رسم و رواج کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہو گا، جن سے نہ صرف نظام عدل پر انگلی اٹھتی ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی ملک کی ساکھ خراب ہو رہی ہے۔ حکومت کو سنجیدگی سے اس حوالے سے مزید قانونی سازی کرنا ہو گی اور خواتین کے تحفظ کو ہر حال میں یقینی بنانا ہو گا۔

متعلقہ خبریں