Daily Mashriq


مزید اتحاد و اتفاق کی ضرورت

مزید اتحاد و اتفاق کی ضرورت

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی اب بھی ختم نہیں ہوئی کیونکہ مودی یہ سب کچھ الیکشن جیتنے کے لئے کر رہے ہیں اور بھارت میں الیکشن اپریل یا مئی میں ہونے والا ہے۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان یہ تلخی اپریل اور مئی تک رہے گی۔ امریکہ اسرائیل ، افغانستان کی یہ کو شش ہے کہ مو دی الیکشن جیت لے۔ اسی طرح ان طاقتوں کی یہ بھی خواہش ہے کہ اسکے بعد اسرائیل کے نیتن یاہو اور افغانستان کے اشرف غنی بھی الیکشن جیت جائیں۔ اب جب کہ مودی کو موجودہ جاری جنگ میں پے درپے ناکامیوں کا سا منا کرنا پڑ رہا ہے۔ نریندر مودی ہر صورت چاہتے ہیں کہ وہ الیکشن جیتے۔ اسی طرح عالمی مقتدرقوتوں کی بھی یہ خواہش ہے کہ نریندر مو دی الیکشن جیت کر اُنکے مفادات کے لئے کام کریں۔ سی پیک ناکام بنادیں۔ چین کی تیزرفتار اقتصادی ترقی کو روکا جائے، پاکستان کے جغرافیائی محل وقوع پر قبضہ کیاجائے۔ اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے وسائل پر قبضہ کیا جائے اور پاکستان کا جو ہری پروگرام کسی طریقے سے رول بیک کیا جائے اور اسی طرح قومی اہمیت کے اہم منصوبے ناکام بنادیئے جائیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جا ری کشمکش میں جس طرح پاکستانی عوا م اور سیاست دانوں نے با ہمی اتفاق اور اتحاد بر قراررکھا جس طرح فوج کی پشت پر رہے یہ پاکستان کی تاریخ میں سُنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔موجودہ حکومت نے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بُلایا اور اس میں پاکستان کے تمام سیاست دانوں نے مسلح افواج کے ساتھ اخوت اور یک جہتی کا مظاہرہ کیا۔اگر عوام اور سیاست دونوںکا یہی اخوت اور یک جہتی کا جذبہ بر قرار رہا تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو شکست نہیں دے سکتی۔موجودہ حکومت نے پا رلیمان کا مشترکہ اجلاس بُلا کر ایک نہایت اچھا اقدام کیا مگر کیا اچھا ہوتا کہ اگر وزیر اعظم عمران خان آل پا رٹیز کانفرنس بُلاتے اور اس میں وہ قومی رہنماء بھی شامل ہوتے جو 2018 کے عام انتخابات تو ہارے ہیں مگر اُ ن کو اب بھی عوام کی تائید حا صل ہے۔ان راہنمائوں میں عوامی نیشنل پا رٹی کے اسفندیارولی، حاجی غلام احمد بلور، قومی وطن پا رٹی کے آفتاب احمد خان شیر پائو، اُنکے فر زند سکندر حیات شیر پائو، سابق وزیر اعظم خا قان عباسی، جمعیت العلمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمان ، سابق وزیر دا خلہ چو دھری نثا ر علی خان، ایم کیو ایم کے فاروق ستار ، پاک سر زمین پا رٹی کے مصطفی کمال، جمعیت علمائے اسلام کے حافظ حسین احمد اور ان کے علاوہ بُہت سارے ایسے سیاست دان شامل ہیں جو 2018 کے عام انتخابات تو ہارے ہیں مگر عوام میں انکی مقبولیت برقرارہے۔ اگر مسلح افواج کے ساتھ عوام اور انکی لیڈر شپ نہ ہو تو وہ فوج خواہ کتنی زیادہ طاقت ورکیوں نہ ہوں جنگ جیت نہیں سکتی۔ علاوہ ازیں وزیر اعظم کو چاہئے کہ وہ فوراً ایک تھنک ٹینک تشکیل دیں جس میں ساری سیاسی پا رٹیوں کے رہنماء اور مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہوں۔ آئی ایس پی آر کی طرح ملکی سطح پر ایک ترجمان ادارہ بنائیں جو عوام کو تا زہ صورت حال سے آگاہ کرتا رہے کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ کئی وفاقی اور صوبائی وزراء بے کار قسم کے بیانات دیتے ہیں جس سے ملک میں مختلف طبقوں کے درمیان اتفاق اور اتحاد کو ٹھیس پہنچتا ہے۔ اور عوام کے درمیان بد گما نیاں جنم لیتی ہیں۔ میں وزیر اعظم عمران خان سے بھی استد عا کرتا ہوں کہ بے شک فی البدیہہ تقریر کریں مگر ساتھ ضروری پوائنٹس لے کر جائیں تاکہ غلطیوں کا احتمال کم ہو۔کیونکہ دیکھنے میں آیاہے کہ وزیر اعظم عمران خان سے کسی وقت غلطیاں ہو جاتی ہیں جو وزیر اعظم کے عہدے کے شایان شان نہیں ۔ا س وقت ملک اور قوم کو اتحاد اور اتفا ق کی ضرورت ہے اور ہماری چھو ٹی چھوٹی غلطیاں حکومت، مسلح افواج اور عوام کے لئے بڑے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔حکومت کو چاہئے کہ وہ احتساب کے نام پر کسی کو نشانہ نہ بنائے۔ کیونکہ دیکھنے میں آیا ہے کہ اس وقت ملک میں ایک سلیکٹڈ احتساب ہو رہا ہے۔ جو یقیناً عوام اور قومی لیڈر شپ کے در میان بد گمانیا ں پیدا کر رہا ہے اور اس وقت اتحاد اور اتفاق کو نُقصان پہنچا سکتا ہے۔کو شش کرنی چاہئے کہ کھرا اور سچا احتساب ہو اور کسی کو انتقامی احتساب کا نشا نہ نہ بنایا جائے۔مسلح افواج ، پاکستان ایئر فورس، پاکستان نیوی اور خفیہ اداروں کے اہل کاروں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے کس بہادری مستقل مزاجی اور تحمل سے چار طاقتوں کی افواج کو ناکوں چنے چبوادیئے۔ مگر ابھی بھی ملک اور قوم کوچیلنجز درپیش ہیں اور ہمیں اتحاد اور اتفاق کی ضرورت ہے۔کیونکہ جنگ ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔ بھارت اور مودی کے الیکشن میں ابھی وقت ہے۔وزیر اعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ بھارت کو ایک ڈوزئر بھیجتے کہ دہشت گرد بھارت ہے کیونکہ اقوام متحدہ نے کشمیریوں کواستصواب رائے کا حق دیا ہوا ہے اور کشمیریوں کو پورا پورا حق ہے کہ وہ انتخاب کرے کہ بھارت کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان کے ساتھ یا وہ خود وہ اپنے لئے ایک علیحدہ ریاست بنانا چاہتے ہیں۔اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں پر بے تحاشا ظلم نہ کرتا تو بھارت کے خلاف کبھی بھی تحریک اتنا زور نہ پکڑتی اور نہ بھارت کے قبضہ سے آزادی کے لئے کشمیری جانوں کے نذرانے دیتے۔کشمیر میں دہشت گردی نہیں ہو رہی ہے بلکہ وہ اپنے حق خود ارادیت کے لئے جان و مال کے نذرانے پیش کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں