Daily Mashriq

میرا جسم میری مرضی کا فلسفہ

میرا جسم میری مرضی کا فلسفہ

میرا جسم میری مرضی' کھانا میں گرم کرلوں گی بستر تم خود گرم کرلو' قسم کے پوسٹروں اور اتنڑ ڈانس کرتی مائیاں' عورتیں اور لڑکیاں کیا کہہ رہی ہیں اور کیا چاہ رہی ہیں اسے سمجھنے کے لئے مردوں کے عقل پر تو پتھر پڑے ہیں اور اچھا ہی ہے کہ یہ پتھر نہ صرف پڑے رہیں بلکہ بھاری ہوتے جائیں تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ میرا عضو میری مرضی بستر گرم کرنے کے لئے اب مشینیں آگئی ہیں' کھانا گرم کرنے کی کیا ضرورت ہے آرڈر پر لڑکا دروازے پر دے جاتا ہے۔ باپ کے گھر پڑی رہو جوڑے کی کیا ضرورت ہے وغیرہ وغیرہ۔ عورتوں کے حقوق کی بات کرنا اور اپنی حیثیت منوانے اپنے وجود کا احساس دلانے کے لئے نکلنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن موضوع اور مطالبات جسم مرضی اور گرم بستر کو نہ بنایا جائے بلکہ یہ پوچھا جائے کہ آخر تم مردوں کو غیرت کب آئے گی جو تم ہمارے ماں باپ سے بیٹی کا رشتہ مانگنے کے نام پر جہیز کی لالچ رکھتے ہو' تم کیسے مرد ہو کہ پڑھی لکھی پلی پلائی خوبصورت جواں بیٹی سے رشتہ پرخوش ہونے کی بجائے کوٹھی کار مانگتے ہو' گھریلو سامان کی تمہیں لالچ ہے تم کو یہ چیزیں چاہئیں تو مرد ہونے اور غیرت کا دعویٰ کیوں کرتے ہو' جہیز مانگنے والی مائیں بھی عورتیں ہیں جو اپنے بیٹے کی جوانی کی قیمت مانگتی ہیں ' ان کو دوسروں کی پلی پلائی بیٹی نظر نہیں آتی ان ماں باپ کا ان کو ذرا احساس نہیں جنہوں نے دوسری بیٹیاں بھی بیاہنی ہیں اور تنگ دست ہیں یہ جسم کی مرضی کرنے والیاں وراثت میں عورت کا حق کیوں نہیں مانگتیں۔ عالمی یوم نسواں کے موقع پر جو خواتین نکلی ہیں عام عورت ان سے بات کرنا بھی گوارا نہ کرے کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ ان کا باپ ان کا سب سے بڑا محافظ ہے ' ان کا بھائی ان کا ویر ہے' ان کا شوہر ان کا لباس ہے' ان کے بیٹے ان کی امید اور ارمان ہیں وہ ان سارے مردوں کے ساتھ ہی خوش رہتی ہے اور یہی مرد ان کے جنازے کو کندھا دیتے ہیں اور سپرد خاک کرآتے ہیں۔ کوئی بیوی کوئی بیٹی کوئی ماں ان کی موجودگی میں کیسے اپنے جسم کی مرضی کا نعرہ لگا سکتی ہے۔ کوئی حیادار عورت کیسے بستر گرم کرنے کا انتظام خود کرنے کا مشورہ دے سکتی ہے۔ عورت عورت رہے تو عزت عورت نہ رہے تو کٹی پتنگ جسے لوٹنے کے لئے چھوٹے بڑے لنگر پھینکنے دوڑتے ہیں۔ عورت ماں ہے' بہن ہے' بیٹی ہے' عورت نہیں عورت اس کی صنف ہے باقی عورت کا نام رشتہ ہے رشتے سے بندھی آتی ہے اور رشتوں سے بندھی رخصت ہوجاتی ہے۔ رشتہ نہ ہو تو عورت اسی طرح سڑکوں پر رد عمل دکھاتی ہے۔ جیسا کہ یوم نسواں پر کل دیکھا اور اب سال بھر کے بعد پھر چہرے پر جھریاں چھپانے کے لئے بھاری میک اپ کے ساتھ دوبارہ پوسٹر لئے نظر آئیں گی۔میرا جسم میری مرضی کا فلسفہ للچانے والوں کیلئے کشش کا باعث ضرور ہے لیکن کیا یہ خود اپنے نعرہ لگانے والیوں کیلئے باعث شرم نہیں ؟۔

متعلقہ خبریں