ایران کی پاکستان کو دھمکی

ایران کی پاکستان کو دھمکی

پاکستان کے ارد گرد موجود ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے اگر یہ کہا جائے کہ سب اچھا نہیں ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ بھارت شروع دن سے ہی پاکستان کے وجود کو مٹانے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ وہ نہ صرف بلوچستان کے اندر پراکسی وار میں الجھا ہوا ہے بلکہ افغانستان کی سرزمین پر ایسے کیمپ چلا رہا ہے جہاں تربیت پانے والوں کو بلوچستان کے اندر حملوں کے لئے بھیج کر علیحدگی پسندی کو ہوا دے رہا ہے۔ اسی طرح افغانستان کی سرزمین سے پاکستان کے دیگر علاقوں میں حملے کرائے جاتے ہیں بلکہ پاکستان سے بھاگے ہوئے دہشت گردوں کو پناہ دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں چمن کے علاقے میں مردم شماری ٹیم پر افغانستان سے حملہ کرکے بے گناہ افراد کو شہید اور زخمی کرنے کی کارروائی اور پھر اس کے جوابی اقدام کے طور پر افغانستان کی چار چوکیوں کو تباہ کرکے 50کے قریب افغانی عساکر کو موت کے گھاٹ اتارنے کی کارروائی اور دونوں ملکوں کے مابین تازہ ترین کشیدہ صورتحال سے بھی حالات کی وضاحت ہوتی ہے۔ اگرچہ اسلام آباد میں مقیم افغانستان کے سفیر عمر زاخیلوال نے صرف دو افراد کی موت کی تصدیق کی ہے جس پر فی الحال کچھ کہنا قبل از وقت ہی ہوگا۔ البتہ ایران کے سربراہ افواج جنرل محمد حسین باقری نے جو تازہ دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائی کرسکتے ہیں۔ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ختم کرے' حملے جاری رہے تو انہیں ایران سے نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ دوسری جانب ایران کے وزیر دفاع حسین دہقان نے دھمکی دی ہے کہ اگر سعودی عرب نے ایران کے خلاف کوئی بے وقوفی کی تو ہماری فوج مکہ اور مدینہ کے سوا پورا سعودی عرب تباہ کردے گی۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ پاک ایران سرحد کے قریب جنگجوئوں نے دس ایرانی سرحدی محافظوں کو ہلاک کردیا تھا۔ ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ حملہ جیش العدل نامی گروہ کے ارکان نے پاکستان سے کیا تھا۔امر واقعہ یہ ہے کہ ایران اور پاکستان کے مابین ہمیشہ دوستانہ تعلقات رہے ہیں بلکہ قیام پاکستان کے بعد جب بھارتی ایماء پر افغانستان نے اقوام متحدہ کی رکنیت کے حوالے سے پاکستان کی شمولیت کے خلاف آواز بلند کی تو ایران وہ پہلا مسلمان ملک تھا جس نے پاکستان کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے پاکستان کی اقوام متحدہ میں شمولیت کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار اداکیا' تب سے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات قابل رشک حد تک خوشگوار رہے ہیں۔ بعد میں آر سی ڈی جیسی تنظیم میں ایران' ترکی اور پاکستان ایک دوسرے کے مزید نزدیک آگئے تھے مگر گزشتہ چند سالوں سے دونوں کے مابین تعلقات پر تحفظات کی گرد آلود فضا چھا جانے کی اطلاعات موصول ہوتی رہی ہیں۔ خصوصاً پاکستان میں مسلکی بنیادوں پر سامنے آنے والی صورتحال اور بعض فرقہ پرست تنظیموں کی مبینہ منفی سرگرمیوں کی وجہ سے ایران میں تحفظات کا اظہار اکثر و بیشتر کیا جاتا رہا ہے جبکہ دونوں ملکوں کے سرحدی علاقوں میں ایک تو انسانی سمگلنگ کی بڑھتی ہوئی وارداتوں اور بقول ایران بعض جنگجوئوں کی جانب سے ایرانی محافظوں پر جان لیوا حملوں سے بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ حالیہ برسوں میں پاکستان کے ان زائرین پر جو ایران' شام اور عراق میں مقدس زیارت کے لئے سفر اختیار کرتے رہے ہیں ان پر بھی دہشت گردانہ حملوں کے ساتھ ساتھ کوئٹہ کی ہزارہ کمیونٹی پر متعدد حملوں میں سینکڑوں افراد بشمول خواتین' بچوں اور بزرگوں کی قیمتی جانوں کو نقصان پہنچانے سے بھی یہ تعلقات کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔ تاہم کلبھوشن یادیو اور اس کے نیٹ ورک کی ایرانی سرزمین پر موجودگی اور اس کے بلوچستان میں کارروائیوں سے بھی دونوں ملکوں کے مابین صورتحال کو کشیدہ کرنے ' جبکہ عزیر بلوچ کی بھی ایران کے پاسپورٹ پر منفی سرگرمیوں سے بھی بعض سوال اٹھتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایرانی دھمکیوں پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے مشیر وزارت خارجہ سرتاج عزیز نے گزشتہ روز اسلام آباد میں نجی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحدی مسائل کے حل کے لئے ہاٹ لائن بحال جبکہ بارڈر کے بارے میں شکایات کے ازالے کے لئے کمیشن قائم کردیاگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی طرف سے دہشت گردوں کے تعاقب کے بیان آتے رہتے ہیں۔ ایران معلومات دے تو شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ خفیہ معلومات کے زیادہ سے زیادہ تبادلے کے لئے سیاسی و عسکری کمیٹیاں قائم کی جا رہی ہیں۔ پاکستان اور ایران مل کر شدت پسندی کے رجحان کا سد باب کریں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان مسائل کا یہی بہترین حل ہے کہ دونوں ملک مل کر باہمی مشاورت سے ایک دوسرے کے تحفظات دور کرنے کی کوشش کریں۔ پاکستانی متعلقہ حکام کو ایران کی شکایات کا جائزہ لے کر اور ایران کی طرف سے ٹھوس شواہد پیش کئے جانے پر مبینہ جنگجوئوں کے خلاف بھرپور کارروائی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہئے اور اگر حقائق اس کے برعکس ہوں تو ایران کی تشفی کرانے کے لئے دوستانہ ماحول میں مناسب اقدام اٹھانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑنی چاہئے تاکہ دونوں برادر ملکوں کے مابین مزید تلخیوں کے ابھرنے کی راہ مسدود کی جاسکے۔

اداریہ