سی پیک پر اٹھتے نئے سوال

سی پیک پر اٹھتے نئے سوال

نئی دہلی سے آمدہ اطلاعات نے پاکستان اور چین کے باہمی تعاون سے تعمیر کی جانے والی اقتصادی راہداری سی پیک پر کچھ نئے سوال اس وقت اٹھا دئیے جب بھارت میں چینی سفیر نے بھارتی میڈیا کے مطابق سی پیک پر بھارتی تحفظات دور کرنے اور منصوبے کا نام تبدیل کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ میڈیا کے مطابق دہلی میں چینی سفیر لوژوہوئی نے بھارت سے تعلقات کے تناظر میں کہا ہے کہ چین سی پیک منصوبے کے ذریعے اقتصادی تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ سی پیک سے علاقائی خود مختاری کے معاملات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا لیکن اس کے باوجود اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ یہ منصوبہ اس کے علاقائی خود مختاری پر اثر انداز ہوسکتاہے تو وہ اس پر بھارتی تحفظات دور کرنے کے لئے تیار ہے اور اس منصوبے کا نام بھی تبدیل کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ ادھر اس حوالے سے یہ خبر بھی آئی ہے کہ پاکستان نے اسلام آباد میں چینی سفارتخانے سے بھارت میں چینی سفیر کی جانب سے سی پیک کا نام تبدیل کرنے کے مبینہ بیان دینے پر وضاحت طلب کرلی ہے اور چینی سفارتخانے کو بھارت میں چینی سفیر کے بیان کی وضاحت کے لئے خط لکھ دیا ہے ۔اس صورتحال پر وضاحت کے لئے چینی سفارتخانے کی وضاحت کا انتظار ہے۔ جب سے پاکستان اور چین کے مابین سی پیک منصوبے کا آغاز ہوا ہے اور گوادر بند ر گاہ کو توسیع دینے اور اسے مستقبل میں مغربی دنیا سے تجارت کے فروغ کے لئے استعمال کئے جانے کی اطلاعات آرہی ہیں بھارت کے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ پہلے اس نے ایران کے چاہ بہار بند ر گاہ کو ترقی دینے کے لئے سرمایہ کاری کرکے اسے گوادر کے مقابلے میں لانے کی کوشش کی مگر نہ صرف ایران بلکہ پاکستان کی جانب سے چاہ بہار اور گوادر کو ایک دوسرے کے تعاون کے لئے اہم قرار دینے کی بات کی گئی تو بھارت کسی نہ کسی طور سی پیک منصوبے کو ناکام بنانے کے حربوں پر اتر آیا ہے جبکہ علاقے کے دوسرے بہت سے ممالک کی جانب سے اس منصوبے میں شمولیت کی خواہش اور اعلانات نے بھارت کی نیندیں اڑا دی ہیں اور وہ کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا کہ کسی نہ کسی طور اس منصوبے کو متنازعہ بنا کر ناکامی سے دو چار کیا جائے۔ اس نے گلگت بلتستان کو متنازعہ قرار دے کر چین کو اس منصوبے سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے۔ بہر حال جہاں تک منصوبے کے نام کی تبدیلی کا تعلق ہے اس حوالے سے چین کے سفارتخانے کی وضاحت کا انتظار کرلینا ہی دانشمندی ہوگی تاکہ دوسرا نکتہ نظر سامنے آنے کے بعد ہی کسی موقف کا اظہار ممکن ہوسکے۔
اربوں ٹیکس اور عوام
اخباری اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں عوام پر مزید ٹیکسوں کابوجھ لادنے کی تیاری کرلی ہے اور 350 ارب روپے کا ریو نیو حاصل کرنے کے لئے ایک ہزار سے زائد اشیاء مہنگی کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال 2016-17ء کے 3621 ارب کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً 400 ارب روپے کا اضافہ کیاجاسکتا ہے اور ہدف 4ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہوسکتا ہے۔ اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو اپوزیشن رہنمائوں کی جانب سے یہ جو الزامات لگائے جا رہے ہیں کہ حکومت آئی ایم ایف کے کہنے پر ٹیکسوں میں اضافہ کرنے جا رہی ہے واقعی الزامات سے آگے کی بات ہے خبر میں جن اشیاء پر ٹیکسوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں ان میں شاید ایک آدھ کو چھوڑ کر باقی تمام روز مرہ استعمال کی چیزیں ہیں جبکہ اب تو فریج' فریزر وغیرہ بھی روز مرہ کے عام لوگوں کے زیر استعمال آنے والی انتہائی ضروری مصنوعات ہیں اور ان سے عام آدمی ہی استفادہ کرنے پر مجبور ہے۔ اس لئے اگر ان پر ٹیکسوں میں اضافہ ہوا تو اس سے ہر طبقہ خصوصاً درمیانے درجے اور غریب لوگ بھی بری طرح متاثر ہوں گے جبکہ جن چیزوں کو اشیائے تعیش کے زمرے میں شامل کیا جا رہا ہے یعنی شیونگ فومز' ٹوتھ پیسٹ' شیمپو' کریم' پائوڈر' منرل واٹر' کیچپ' جوسز وغیرہ یہ بھی اب اشیائے تعیش میں نہیں آتے اور ہر گھر کی ضرورت ہے۔ اس لئے ان پر ٹیکسوں میں اضافے سے عام آدمی بری طرح متاثر ہوگا۔بہر حال یہ بجٹ ایک ایسے ماحول میں پیش کیا جا رہا ہے جب حکومت اپنی مدت کے اختتام کی جانب بڑھ رہی ہے ا س لئے عوام بجا طور پر یہ توقع لگائے بیٹھے ہیں کہ امسال ان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈال کرایک طرف انہیں ہراساں نہیں کرے گی تو دوسری جانب اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے اور آنے والے انتخابات میں اپنے لئے مسائل پیدا کرنے کی غلطی نہیں کرے گی۔ کیونکہ اپوزیشن اس صورتحال سے بھرپور فائدہ اٹھا کر حکمران جماعت کو ٹف ٹائم دینے میں کامیاب ہوسکتی ہے۔

اداریہ