دشمنوں میں گھرا پاکستان اور ہمارا میڈیا

دشمنوں میں گھرا پاکستان اور ہمارا میڈیا

ابھی ڈیڑھ عشرہ پہلے پاکستان اور افغانستان کے ریاستی تعلقات اس قدر پرجوش تھے کہ طالبان کو پاکستان کی پہلی دفاعی لائن کہا جاتا تھا۔ عوامی سطح کے تعلقات کا یہ عالم تھا کہ پاکستانی افغانستان جائیں یا افغان پاکستان آئیںکوئی مسئلہ نہیں تھا۔افغانستان پاکستانیوں کا دوسرا گھر تھاتو پاکستان افغانوں کے لئے ایک پرسکون مسکن جہاں انہیں کوئی خوف کوئی ڈر نہیں تھا لیکن آج پندرہ سال بعد دونوں ملکوں کی فوجیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں،مورچہ بند ہیں۔توپیں آگ اگل رہی ہیں اور بے گناہ مارے جا رہے ہیں اور مجھ جیسا امن پسند شخص یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ وہ کون سی طاقتیں ہیں جو دونوں ملکوں کو لڑا کر مذموم مقاصد کی تکمیل کر رہی ہیں؟ وہ کون شیطان ہے جس نے افغانوں کے دلوں میں ہمارے لئے اتنی نفرت بھر دی ہے کہ وہ ہم پر گولے اور گولیاں برسا رہے ہیں ؟

بالعموم دنیا یہ سمجھتی ہے کہ امریکہ دفاعی لحاظ سے بڑا مضبوط ہے اور سپر پاور ہے لیکن اس کا یہ روپ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ سازش تیار کرنے اور آگ لگانے میں بے انتہا مہارت رکھتا ہے۔ ہر مہم جوئی کے لئے اسے ایک شتونگڑے کی ضرورت ہوتی ہے اور جیسے ہی اسے یہ چیلا میسر آتا ہے وہ آگ لگانے کا مکروہ کھیل شروع کر دیتا ہے۔افغانستان کے کھیل میں اسے یہ چیلا بھارت کی شکل میں ملا جس نے افغانوں کو بھڑکا بھڑکا کر پاکستان کے خلاف ان کے دلوں میں اتنی نفرت بھر دی کہ وہ پاکستان پر حملے کر رہے ہیں ۔
صاف نظر آتا ہے کہ جونہی سی پیک پر معاملات آگے بڑھیں گے بھارت اور افغانستان ہمارے ہاں امن و امان کے مسائل پیدا کرنے میں آخری حد تک جائیں گے کیونکہ شیطان بزرگ جانتا ہے کہ اگر سی پیک پراجیکٹ مکمل ہو گیا تو بھارت اور افغانستان بہت سارے معاملات میں پاکستان کے محتاج ہوں گے اور معاشی طور پر انتہائی مضبوط پاکستان بھارت کو بہت پیچھے چھوڑ دے گا۔امریکیوں کے شیطانی دماغ اس بات کو بھی خوب سمجھ چکے ہیں کہ چین اور پاکستان مل کر دنیا پر اس کی اجارہ داری کا حصار توڑ دیں گے اس لئے وہ پاکستان کے لئے سنجیدہ مسائل پیدا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کریں گے۔
میں حیران ہوں کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت اس جانب متوجہ کیوں نہیں اور اگر ہے تو یہ تنائو کا ماحول کیوں بننے دیا جا رہا ہے؟ ڈان لیکس کے معاملے میں ایک صفحے پر کیوں نظر نہیں آرہے؟
میرے خیال میں حکومت سے وابستہ کچھ لوگوں نے اگر غلطی کی ہے اور وزیراعظم اس میں شامل نہیں تو درگزر سے کام لینا چاہئے اور یہ تاثر ہرگز قائم نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان کی ملٹری اور سیاسی قیادت ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ ایک مشاق اور قابل جرنیل ہیں۔پچھلے پندرہ سالوں میں واحد جرنیل جنہوں نے معاملے کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے ضرب عضب سے آگے نکل کر رد الفساد شروع کیا جس سے پاکستانی عوام اور اقوام عالم کے ذہنوں سے یہ بات صاف ہوئی کہ شاید پاکستان کی عسکری قیادت اب بھی اچھے اور برے طالبان جیسے مخمصے میں پھنسی ہوئی ہے۔یہ رد الفساد صرف ایک آپریشن ہی نہیں بلکہ ایک تبدیل شدہ ریاستی پالیسی بھی ہے اور اس بات کا واضح اعلان بھی کہ پاکستان میں اب جو کوئی بھی ہتھیار اٹھائے گا یا ریاست کی رٹ کو چیلنج کرے گا اس کا مقدر گولی ہوگی یا سُولی۔جنرل قمر جاوید باجوہ کے زیر سایہ یہ فوج اور عوام کا اتنا بڑا فیصلہ ہے کہ جو پاکستان کی تقدیر بدل کر رکھ دے گا مگر افسوس تو یہ بھی ہے کہ پاکستانی میڈیا نے اس شاندار فیصلے کو خراج تحسین پیش کرنے اور قوم کو فساد کے بالمقابل یکسو کرنے کی بجائے کبھی پانامہ پر بیٹھک لگائی ہوتی ہے تو کبھی ڈان لیکس پر۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ اگر پاکستان میں یہ بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے بڑے بڑے نیوز چینلوں کی یلغار نہ ہوتی تو سول اور ملٹری تعلقات بہت بہتر ہوتے۔آپریشن رد الفساد کوئی کھیل تماشہ نہیں۔اس آپریشن کو انجام دینے و الے ہمارے فوجی جوان اور افسر جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔ملک کی بقا اور سا لمیت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔قوم کو پرسکون نیند دے کر رات رات بھر جاگ کر پہرہ دے رہے ہیں لیکن ان کو خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے میڈیا کا بڑا حصہ قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہا ہے کہ فوج اور سیاسی قیادت کے درمیان تنائو ہے۔
ان عظمت کے پہاڑوں کو دینے کے لئے ہمارے میڈیا کے پاس کوئی وقت نہیں جو وطن کی عزت اور وقار کے لئے اپنے بڑھاپے کے سہارے قربان کر رہے ہیں۔ان پاکستانی اور چائنیز انجنیئروں کے لئے بھی کوئی وقت نہیں جو اس قہر کی گرمی میں دن رات سی پیک نامی اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں جس سے پاکستان اور پاکستانیوں کا مستقبل وابستہ ہے۔ان جفاکش مزدوروں کو دینے کے لئے ایک منٹ بھی نہیں جن کا پسینہ بھی اس گارے میں شامل ہے جس سے سی پیک کی چنائی ہو رہی ہے۔ اس میڈیا کو آخر تعمیر و ترقی دکھانے کی بجائے ابلتے گٹر دکھانے ہی کی عادت کیوں پڑ گئی ہے۔ پاکستان کا ایک روشن چہرہ بھی تو ہے اس چہرے کو کیوں چھپایا جاتا ہے۔خدارا اگر الیکشن پر اصرار ہے تو جن حکمرانوں کو کروڑوں لوگ مل کر منتخب کرتے ہیں انہیںپانچ سال تک حکومت کرنے دیجئے۔آئی ایس پی آر کا ڈی جی اور فوج کا ترجمان ایک ٹویٹ کر کے اپنے ادارے میں پائی جانے والی بے چینی کا اظہار کرتا ہے تو اسے ایشو نہ بنائیے کہ ایک گھر میں اگر چار افراد رہتے ہیں تو ان میں بھی اختلاف اور تکرار ہو جاتی ہے۔فوج ہو، سیاسی اشرافیہ،بیوروکریسی یا پھر عوام پاکستان کا کنبہ ہیں۔انہیں اپنا اپنا کام کرنے دیجئے اور ایسا ماحول پیدا مت کیجئے کہ اداروں کے درمیان شکوک و شبہات پیدا ہوں۔ یہ ملک ہمارا وطن ہے اسے بازیچہ اطفال مت بنائیے۔

اداریہ