رونا گانا اور کھانا

رونا گانا اور کھانا

بعض جملے نہ صرف دلچسپ ہوتے ہیں بلکہ ان پر یقین نہ کرنے کی بظاہر کوئی وجہ بھی نظر نہیں آتی مگر اس حوالے سے ہم ہمیشہ اپنے تحفظات محفوظ رکھتے ہیں اور جب کبھی موقع ملتا ہے اس پر خامہ فرسائی کی کوشش بھی کرتے ہیں ایک مشہور و معروف جملہ جو ہم آپ بچپن سے سنتے چلے آرہے ہیں : رونا اور گانا کسے نہیں آتا دل کو لگتا ہے اور سننے میں اچھا بھی لگتا ہے لیکن جب اسی جملے کے بال کی کھال اتاری جائے تو بہت سے نت نئے پہلو سامنے آتے ہیں مثلا یہ جملہ جب کوئی گلوکار سنتا ہے تو وہ غصے سے تلملا اٹھتا ہے یہ کیا مذاق ہے ہم سالہا سال کی ریا ضت کے بعد یہ فن سیکھتے ہیں اور یہاں یہ کہا جارہا ہے کہ گانا تو سب کو آتا ہے ! ہمیں اس حوالے سے گلوکار صاحب سے یقینا ہمدردی ہے ان کی ریاضت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ گلوکار صبح سویرے اٹھ کر مٹی کے مٹکے میں منہ ڈال کر ریاض کرتے ہیں اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہے کہ اپنی آواز کان میں پڑتی ہے سر اور لے کا پتا چلتا ہے اگر کہیں کوئی کجی خامی ہو تو اسے درست کرنے میں آسانی رہتی ہے ویسے ہمارا خیال ہے کہ گلوکار کو ناراض نہیں ہونا چاہیے کیونکہ درج بالا جملے میں صرف گانے کی بات ہورہی ہے ڈھنگ کے گانے کی بات نہیں ہوئی !اس حوالے سے باتھ روم سنگر کی اصطلاح اچھی خاصی مقبول ہے جب جی چاہا گنگنا لیا اور یہ ہر گز ضروری نہیں ہے کہ آپ گنگناتے ہوئے سر تال کا خیال رکھیں ہم نے تو ایسے بے سرے گانے والے بھی دیکھے ہیں کہ جب کوئی بچہ شرارت کرتا ہے تو اسے یہ کہہ کر ڈرایا جاتا ہے کہ بیٹا آرام سے بیٹھ جائو ورنہ ابھی انکل گانا شروع کردیں گے ہمارے ایک مہربان جنھیں گلو کاری کا بہت شوق ہے گھر میں بچوں کے سامنے اپنے فن کا مظا ہر ہ بھی کرتے رہتے ہیں ایک مرتبہ چند بے سرے الاپ لگانے کے بعد اپنے بیٹے سے پوچھا کہ بیٹا ہمارا گانا اچھا لگا ؟ فرمانبردار بیٹے نے باپ کی ناراضی کا خیال کرتے ہوئے کہا کہ بابا آپ ہر گانا ایک ہی سر میں گاتے ہیں! باپ نے فلک شگاف قہقہہ لگاتے ہوئے کہا بیٹا تم بڑے ہوکر بہت بڑے سیاستدان بنو گے !اب آتے ہیں اس جملے کے پہلے حصے کی طرف جس میں رونے کی بات کی گئی ہے ہمیں اس سے بھی اتفاق نہیں ہے کہ رونا سب کو آتا ہے ! ہم نے ایسے بے ڈھنگے رونے والے بھی دیکھے ہیں کہ انھیں روتا دیکھ کر آپ کے لیے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہوجاتا ہے دراصل بات شائستگی کی ہے رونا ہو یا گانا شائستہ انداز میں ہونا چاہیے تو طبع نازک پہ گراں نہیں گزرتا ہم تو یہ بھی کہتے ہیں کہ کھانے میں بھی شائستگی کا بدرجہ اولیٰ خیال رکھنا چاہیے ہمارے ایک دوست کھانے کے دوران بہت چھوٹے چھوٹے لقمے لیتے ہیں ہمیں ان کی یہ عادت بہت اچھی لگتی ہے چھوٹا لقمہ منہ میں ڈالنادیکھنے میں بھی اچھا لگتا ہے اور اس کے بہت سے طبی فوائد بھی ہیں چھوٹے نوالے کو چبانا بھی آسان ہوتا ہے اور معدے کے لیے اسے ہضم کرنا بھی آسان ہوتا ہے ساتھ ساتھ تہذیب کے تقاضے بھی پورے ہوجاتے ہیں یقینا موٹے موٹے لقمے منہ میں ڈالنا بڑی بد تہذیبی کی بات ہے بڑا لقمہ جس طرف ڈالا جاتا ہے اس طرف کی گال پھول جاتی ہے دیکھنے والے کو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے منہ میں پنگ پانگ کا بال ڈال رکھا ہے اور پھر ذوق سلیم پر ناگوار گزرنے والی بات یہ ہے کہ دیکھنے والے کو یہ خیال گزرتا ہے کہ یہ شخص شاید پہلی بار کھانا کھا رہا ہے یا پھر اسے کئی دنوں بعد آج کھانا نصیب ہوا ہے یا یہ اس کی زندگی کا آخری کھانا ہے !ہمارا تو یہ خیال ہے کہ کھانے سے لطف اندوز ہونا چاہیے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ اپنی مرضی اور سہولت سے کھانا کھائیں۔کھانا کھانے اور لقمے منہ میں ڈالنے کے فرق سے صاحب ذوق خوب آشنا ہیںہم اسی لیے ہر ہمہ شمہ دعوت کو قبول نہیں کرتے کہ وہاں کھانا کھاتے ہوئے تکلفات برتے جاتے ہیں جبکہ اپنے گھر میں پھٹی ہوئی بنیان پہن کر کھانے کا لطف بیان سے باہر ہے گھر کے کھانے کی قدر اس وقت آتی ہے جب کسی دعوت ولیمہ میں آپ کے ساتھ کوئی شوگر کا مریض بیٹھ جائے ابھی خوانچہ نہیں پہنچا ہوتا کہ وہ آپ کے کان میں حفظ ماتقدم کے طور پر یہ خوش کن خبر ڈال دیتے ہیںکہ موصوف کو شوگر کا مرض لاحق ہے ڈاکٹرنے چاولوں پر ہاتھ صاف کرنے سے منع کر رکھا ہے دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ جناب چکن ، کباب اور ساگ کو ہاتھ نہیں لگانا پھر جیسے ہی گھمسان کا رن پڑتا ہے تو وہ چھوٹتے ہی چکن پر ہاتھ ڈال دیتے ہیں اور جب آپ چاولوں کا صفایا کرنے کے بعد واپس لوٹتے ہیں تو چکن اور کباب کی خالی ڈشیں زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہی ہوتی ہیں کہ ہمارے اثاثے لٹ چکے ہیںاب حلوے کے ساتھ چند نوالے زہر مار کرکے گھر کی راہ لو !
بات رونے اور گانے سے چلی تھی اب چونکہ کھانا بھی زندگی کا اٹوٹ انگ ہے اس لیے اسے رونے اور گانے سے کیسے جدا کیا جاسکتا ہے بہت سے مہربان تو صرف کھانے کے لیے جیتے ہیں ایک مرتبہ ایک بسیار خور سے ہم نے کہا کہ کھانے کی افراط سے بہت سی جان لیوا بیماریاں جنم لیتی ہیں اس لیے زرا بچ کر لڑنا چاہیے تو وہ کہنے لگے کہ شادی میں نے نہیں کرنی اور پچاس برس تک جینے کی تمنا ہے اب کھانے کی عیاشی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتا یقین کیجیے یہ بات سچ ہے اور ہماری زندگی کا سب سے عجیب جواب ہے جو ہمیں کھانے کے ایک عاشق نے دیا!

اداریہ