حکیم جندال کا نسخہ اورپرہیز؟

حکیم جندال کا نسخہ اورپرہیز؟

حکمران تجارت میں اُلجھ جائیں یا تاجر حکمرانی کے منصب پر فائز ہوجائیں تو ان کے اندر کا انسان کبھی مرتا نہیں ۔وہ اپنے اصل کو لاکھ چھپائیں اور سُلائیں مگر مناسب اور موزوں موقع پر وہ بیدار ہو جاتا ہے ۔پاکستان کی دو بڑی جماعتوں جنہیں باربار ملک پر حکومت کرنے کا موقع ملتا رہاہے،کی قیادت تجارت کے شعبے سے تعلق رکھتی ہے ۔شاید یہی وجہ ہے اکثر ملکی معاملات نمٹاتے ہوئے ان کا شوق غالب آجاتا ہے ۔اکثر ان حکمرانوں کا واہگہ کے اس پار وسیع و عریض رقبے اور انسانوں کے سر دیکھ کر جی للچانے لگتا ہے ۔ہمارے حکمرانوں پر ہی کیا موقوف مغرب کے تجارت پیشہ حکمران ان منڈیوں کی محبت میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں سمیت کئی نعروں سے دستبردار ہوچکے ہیں۔ہمارے حکمرانوں کی نظریں بھی واہگہ کے اس پار اپنے کارخانوں کے لئے موزوں اور نفع بخش مقام کی تلاش میں رہتی ہیں مگر خواہشات کا یہ جام لب تک آنے سے پہلے ہی چھلک جاتا ہے ۔بھارت سے تعلقات کے قیام کے لئے بے چین سیاسی قیادت کا منتہائے مقصود تجارت کا فروغ ہے ۔چندروز قبل بھارت میں سٹیل کے دوسرے بڑے تاجر سجن جندال نے پاکستان کا اچانک دور ہ کیا ۔وہ وزیر اعظم میاں نواشریف سے ملاقات کرکے اپنے پیچھے بے شمار سوالات ،قیاس آرائیوں اور افواہوں کا ایک دفتر کھلا چھوڑ کر چند گھنٹوں میں واپس بھارت چلے گئے ۔ سجن جندال نے میاں نوازشریف کو کیا نسخہ تجویز کیا اور کیا پرہیز تجویز کئے اس کا تو پتا نہیں مگر اس بعد میاں نوازشریف نے کشمیر کا نام لینے سے پرہیز کی راہ اختیار کر لی ۔جس کا پہلا مظاہرہ اس وقت ہوا جب میڈیا نے وزیر اعظم نوازشریف کے دورہ آزادکشمیر کی خبر دیتے ہوئے ان کے خطاب کی تفصیل بیان کی ۔وزیر اعظم میاں محمدنواز شریف نے نیلم جہلم ہائیڈل پروجیکٹ کے کام کی رفتار کا جائزہ لینے کے لئے آزادکشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد کا مختصر دورہ کیا جہاں انہوں نے ایک اہم اجلاس کی صدارت کی اور اس دوران ان کا خطاب لوڈشیڈنگ ،تعمیر وترقی اور مخالفین کو بے نقط سنانے تک محدود رہا ۔حیرت انگیز امر یہ ہے کہ وزیر اعظم پاکستان کے اس خطاب میں مقبوضہ کشمیر کے حالات اور وہاں عوام پر ڈھائے جانے والے بے پناہ مظالم کا کوئی ذکر نہیں تھا ۔وزیر اعظم جب سرزمین کشمیر پر اپنے سیاسی مخالفین کو للکار رہے تھے تو عین اس وقت وادی کشمیر میں طلباء اور طالبات سڑکوں پر نکل کر بھارت کے جابرانہ قبضے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے اور بھارتی فوج ان نہتے مظاہرین پر ناروا تشدد کررہی تھی۔میاں نواز شریف کی مظفر آباد آمد سے دو روز قبل آزادکشمیر کے طول وعرض میں سکولوں کے ہزاروں طلباء وطالبات سری نگر میں ان مظالم کے خلاف یوم احتجاج کے طور پر سڑکوں پر نکل کر اپنے جذبات کا اظہار کر چکے تھے۔اس سے چند ہی دن پہلے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کنٹرول لائن کے دورے کے دوران کشمیری عوام پر بھارتی مظالم کی بھرپور مذمت اور کشمیری عوام کو بھرپور خراج تحسین پیش کرچکے تھے ۔ایسے میں توقع یہی تھی کہ کشمیری النسل وزیر اعظم کی کشمیر کی سرزمین پر موجودگی کے دوران مسئلہ کشمیر کی گونج بھرپور انداز میں سنائی دے گی مگر افسوس کہ یہ توقع پوری نہیں ہوئی اور وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف نے اس دورے کے دوران کنٹرول لائن کے دوسری جانب کے حالات سے مکمل اغماض کی پالیسی اپنائے رکھی ۔نیلم جہلم ہائیڈرل پروجیکٹ کے حوالے سے اجلاس اگر کشمیر کی بات کے لئے موزوں جگہ نہیں تھی تو پھر یہ سیاسی مخالفین پر طعنہ زنی کا موقع بھی نہیں تھا ۔اگر موقع محل کی بات ہے تو پھر بھی ا جلاس سے باہر نکل کر میڈیابات چیت کا اہتمام کیا جا سکتا تھا ۔موجودہ حالات میں کشمیرکی زمین پر کھڑے ہو کر کشمیر کے حالات سے چشم پوشی ایک ناقابل فہم بات ہے ۔ہم سمجھتے ہیں کہ ایک کشمیری النسل وزیر اعظم سے اس سہو کی کچھ ذمہ داری ان کے سٹاف اور میڈیا منیجرز پر عائد ہوتی ہے ۔جنہیں ان کے شیڈول میں ایسا پروگرام ضرور رکھنا چاہیئے تھا کہ جہاں وہ مقبوضہ کشمیر کے حالات پر چند جملے ادا کرتے ۔اس اجلاس میں بھی اور افتتاحی بٹن دبانے کی تصویر میں بھی میاں نوازشریف کے ساتھ آزادکشمیر کے صدر سردار مسعود خان اور وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر بھی دکھائی دے رہے ہیں ۔اگرمیاں نوازشریف کا سٹاف اس معاملے میں کوتاہی کا مرتکب ہوا تھا تو یہی صاحبان تھوڑی سی بے باکی کا مظاہرہ کرکے نوازشریف کی توجہ اس جانب مبذول کر اسکتے تھے ۔شاید میاں صاحب کا موڈ دیکھ کر سب نے چپ سادھ لینے میں ہی عافیت جان لی۔کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اس پر بات کرنا عسکری قیادت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ پاکستان کی قومی پالیسی کا جزو ہے اور اس پر بات کرنا سربراہان حکومت اور ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے ۔اکثر سیاسی لوگ اسے فوج کا مسئلہ سمجھ کر اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہیں۔عین ممکن ہے کہ ملک کی موجودہ فضا ء میں اور بالخصوص سجن جندال کی پاکستان آمد کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال کے بعد اسلام آباد والے اسے پنڈی والوں کا مسئلہ سمجھنے کی روش اپناچکے ہوں جو کسی طور بھی صحت مند رجحان نہیں۔اگر یہ محض غلطی ہے تو شاید اس کے مضر اثرات دراز نہیں ہوں گے لیکن اگر یہ واقعی حکیم جندال کے نسخے کے تحت کیا جانے والے پرہیز ہے توپھریہ ملک کے سیاسی نظام کے کسی حادثے کی طرف بڑھنے کا واضح اشارہ ہے ۔

اداریہ