ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں

یہ کائنات اور اس میں ہر ایک چیز مسلسل ایک تبدیلی سے دوچار ہے ۔ تخلیق کائنات کے ابتدائی ایام میں یہاں کا پانی ، ہوا اور کھانے کی اشیاء آج کی آلودگیوں سے محفوظ کتنی صاف و شفاف ہوتی ہونگی ۔ انسان کتنا سیدھا اور سادہ ہوتا ہوگا ۔ سیدھا سادہ سے مراد صراط مستقیم پر گامزن رہنا ہے ۔ پھر دنیا کی آبادی بڑھتی چلی گئی اور دنیا تبدیلی اور انقلابات کا شکار ہوتی چلی گئی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی فطرت تبدیلی پر رکھی ہے ۔ تبدیلی اور انقلاب کی یہ خواہش انسان میں بھی فطری طور پر موجود ہے ۔ انسان اگر مجبور و مقہور نہ ہو تو وہ اپنے کھانے پینے ، رہنے سہنے اور زندگی کے دیگر شعبوں اور معاملات میں تلون اور رنگا رنگی کا خواہشمند ہوتا ہے ۔ یکسانیت سے انسان کی بیزاری کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ بعض محض تبدیلی کے لئے اچھی چیزوں کو کمتر چیزوں کے بد لے تبدیل کرنے کی بھی خواہش کر لیتا ہے ۔ اسلام دین فطرت ہے ، اس لئے اس میں اللہ تعالیٰ انسان کے مزاج و فطرت کا لحاظ رکھتے ہوئے اس کائنات کی مخلوقات و مافیھا میں اتنی رنگا رنگی ہے کہ انسان کے احاطہ تصور سے باہر ہے ۔انسان کو اللہ تعالیٰ کی متعین کردہ حدود کے اندر مثبت اور تعمیری تبدیلی کی پوری پوری اجازت دی گئی ہے ، لیکن جہاں تبدیلی اورانقلاب کی سرحدیں اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کر نے لگتی ہیں تو حکم ہوتا ہے کہ یہ اللہ کی (مقرر کردہ ) حدودہیں اس سے تجاوز نہ کریں ۔ اسلام او ر دیگر مذاہب کے پیرو کاروں میں یہی فرق ہے ۔ اسلام کے عقائد اور عبادات میں کوئی تبدیلی خاتم النبیین کی بعثت سے لیکر قیامت تک ممکن نہیں ہے ، لیکن زندگی کے عام معمولات و معاملات میں بہتر سے بہتر ین کی تلاش و جستجو کی پوری آزادی ہے حلال و حرام ، جائز و ناجائز اور صحیح و غلط کے اصول متعین ہیں لیکن حالات ووقت کی تبدیلی کے ساتھ قرآن وسنت کی روشنی میں مجتہدین وفقہا ظروف کے مطابق وقتی تغیر کی اجازت دے سکتے ہیں ۔ پہیے اور مشین کی ایجاد سے انسانی زندگی میں انقلاب آگیا ، مغرب میں اس انقلاب نے جہاں مثبت او رتعمیر ی تبدیلیاں لانے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے وہاں اُن معاشروں معاشرتی و سماجی تبدیلیوں سے ایک طوفان بلکہ طوفان بد تمیزی بھی بر پا ہو چکا ہے ۔ مثلاً نسل انسانی کی بقاء و ترقی کے لئے دنیا کے سارے آسمانی مذاہب میں عقد و نکاح کے ذریعے جوڑا بنانے کی تعلیم ہے لیکن ۔ اس بنیادی سماجی اکائی (یونٹ ) کو وہاں کس بے دردی اور ابلیسی ہوس کے ساتھ تباہ و بر د باد کیا گیا ۔ اس کا اندازہ اُن کے سوشل سائنز کے ماہرین کے تبصروں اور تجزیوں سے بخوبی واضح ہے ۔ مسلمانوں کے ہاں اخلاقی زوال پستی کے باوجود ابھی تک معاشرہ (الحمد للہ)ایسی تبدیلیوں سے محفوظ ہے اور یہی وہ حدود ہیں جو متعین ہیں اور انہی حدود نے اسلامی معاشروں کے افراد کو روکے رکھا ہے ۔یورپ بالخصوص برطانیہ اور فرانس نے بادشاہت وغیرہ سے نجات پاتے ہوئے سلطانئی جمہورکا جو نظام رائج کیا یہ اُن کا نظام ہے جس میں برطانیہ کے ہاں آج بھی آئینی تحفظ کے ساتھ ملکہ کو دبد یہ احترام حاصل ہے ۔ ہم اُن کی نقالی کرکے اتنا بھی نہ سیکھ سکے کہ چلو جمہوریت سرد ست رائج نظام ہائے حکومتوں میں بہتر ہے ، لیکن پاکستان جیسے ملک کے عوام کے لئے جمہوریت کی کون سی برانڈ بہتر رہے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ تبدیلی کے شوق میں ہمارے ملک میں مارشل لاء اور جمہوریت میں آنکھ مچولی ہوتی رہی ہے ۔ لیکن تبدیلی اور انقلاب کی جس جدو جہد اور پتہ ماری کی ضرورت ہوتی ہے ، اُس سے کنارہ کش رہتے ہیں، اور بعض اوقات اپنے پسندیدہ انقلاب کے لئے دائیں بائیں اور اوپر کی طرف نگاہیں لگائے مشیت الٰہی کے بھی منتظر رہتے ہیں ۔ 

لیکن ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ جب تک ہم میں سے ہر پاکستانی اپنے گرد و پیش ، حلقہ اثر اور ماحول اور ماحول میں اپنے حصے کی تبدیلی کی (مثبت و تعمیری )تبدیلی لانے کے لئے کردار ادانہ کرے گا تو نہ تبدیلی آئیگی اور نہ ہی ہم اپنی صلاحیتوں اور خداداد قوتوں کے ساتھ انصاف کریں گے ، یوں خوف یہ لاحق رہیگا کہ کہیں ہماری قومی زندگی اکارت نہ چلی جائے۔ برطانوی پارلیمنٹ کی پہلی خاتون رکن لیڈی ایسٹر (Astor)نے تبدیلی کے حوالے سے کیا خوبصورت بات کہی تھی کہ زندگی میں وہ لوگ خطرہ ہوتے ہیں جو چاہتے ہیں کہ ہر چیز تبدیل ہو جائے یا کچھ بھی تبدیل نہ ہو ۔ (The main danger in life are the people who want to change everything ....or nothing)کسی ولئی کامل سے کسی نے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے اسم اعظم کون سا ہے انہوں نے جواب دیا کہ رزق حلال کمائو ۔ پھر اللہ کو جس نام سے پکارو گے وہی اسم اعظم ہوگا ۔
اصل تبدیلی اور انقلاب وطن عزیز میں تب آئیگا جب یہاں سودی نظام ختم ہوگا عوام کو رزق حلال کمانے کی تعلیم و ترغیب دی جائے گی ۔ ورنہ زندگی تو ہر دم ، ہر لمحہ تبدیلی سے گزر رہی ہے اور ثبات صرف اللہ کی ذات کوہے ۔ اور یہ کائنات ۔۔بقول اقبال
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فیکون

اداریہ