Daily Mashriq


نوجوان سیاسی کارکنوں کا مستقبل!

نوجوان سیاسی کارکنوں کا مستقبل!

گزشتہ چار دہائیوں پر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں حکومتی ایوانوں تک رسائی کے جو دروازے نظر آتے ہیں ان میں عسکری دروازہ، موروثی دروازہ، معاشی دروازہ اور لسانی دروازہ سرفہرست ہے۔ ان دہائیوں میں آنے والی آمرانہ اور جمہوری زیادہ تر حکومتیں ان میں سے کسی ایک یا ایک سے زیادہ دروازوں کو استعمال کرکے اقتدار تک پہنچیں، اور پھر ہم نے یہ بھی دیکھا کہ سوائے چند ایک کے باقی سارے اقتدار کے فدائی حکومتیں ٹوٹتے ہی کیسے تتر بتر ہوگئے۔ لیکن وقت کیساتھ جہاں پاکستان بدل رہا ہے وہیں ان دروازوں کی تعداد اور اہمیت میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ آج کا پاکستان جہاں آمریت کے امکان کو خارج کرچکا ہے وہیں اس میں جمہوریت کی اکائیاں جڑپکڑ رہی ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم کے بعد والا جمہوری پاکستان ہر سیاسی جماعت سے تین سطحوں پر کارکردگی مانگتا رہے گا یعنی نچلی سطح پر دیہی اور شہری ترقی جو کہ ایک بہترین اور شفاف لوکل گورنمنٹ کے علاوہ نا ممکن ہوگی۔ بڑے ملکی مسائل کا حل جیسا کہ توانائی کا بحران اور گڈ گورننس جو باصلاحیت اور باکردار قیادت کے بغیرنا ممکن ہوگا اور مضبوط بین الاقوامی تعلقات جو کہ مدبرانہ اور کثیرجہتی لیڈر کے بغیر نا ممکن ہونگے۔ جمہوریت کا تسلسل سیاسی جماعتوں کو بھی دوررس اقدامات کرنے پر مجبور کرے گا تاکہ وہ حکومت میں اور حکومت سے باہر رہ کر بھی عوام کے سامنے سرخرو رہیں۔ اب تک ہماری بڑی سیاسی جماعتوں کا ہمیشہ یہی شکوہ رہا ہے کہ آمریتوں نے انہیں عوام کی خدمت کا موقع نہیں دیا لیکن اب تو یہ بہانا بھی وقت کے ساتھ کمزور پڑتا جائے گا۔ اب ان سیاسی جماعتوں کی بقاء اسی میں ہی ہے کہ وہ کارکردگی دکھائیں۔ اور ایسا تب ہی ممکن ہوگا کہ جب سیاسی جماعتیں شخصیات اور گروہوں کے مفادات سے نکل کر اپنے نظریات اور منشوروں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ ایسے نظریات اور منشور جو پاکستان کے اندرونی و بیرونی مسائل سے نمٹ سکیں۔ ان میں بین الاقوامی تعلقات، پڑوسی ملکوں کے ساتھ دوطرفہ معاہدے، پانی اور توانائی کے بحران، ملکی معاشیات، دہشتگردی، گڈگورنینس اور ملکی قرضہ جات جیسے بڑے مسائل سے لے کر اداروں کی مضبوطی کے ذریعے عام شہریوں کیلئے روزگار، صحت، تعلیم اور دیگر بنیادی سہولیات تک رسائی جیسے مسائل کا حل شامل ہو۔ ان سب کسوٹیوں پر پورا اترنے کیلئے ان سیاسی جماعتوں کو ایسے کارکن اور رہنما چاہئے ہوںگے کہ جو اپنے علاقے کے ایک غریب چرواہے کے مسائل کی خبر سے لیکر پیچیدہ بین الاقوامی تعلقات کی نوعیت کی سمجھ بوجھ رکھتے ہوں۔ جو ایک غریب کے خیمے میں اس کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر اسی کے برتن میں جب پانی پئیں تو اسی خیمے کے مکین لگیں اور جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بولیں تو کائناتی مفکر۔آنے والے وقتوں میں سیاسی جماعتیں مجبور ہوجائیںگی کہ یا تو اپنے موروثی رہنماؤں کو اس قابل بنائیں یا پھر نئی اور با صلاحیت قیادت کو موقع دیں کہ وہ موروثی سیاستدانوں کی جگہ لیں۔ اس معیار کو پانے کیلئے سیاسی جماعتوں کو تنظیم سازی کے کلاسیکل اور نئے طریقوں کا امتزاج متعارف کروانا ہوگا۔ اپنی اس تنظیم سازی میں ہر سیاسی جماعت کو بچوں، بڑوں اور خواتین کیلئے ذہنی، جسمانی، کردارسازی اور ہنر سے وابستہ مختلف سرگرمیاں شامل کرنی ہوںگی تاکہ ہر ممبر ایک تربیت یا فتہ سیاسی کارکن کیساتھ ساتھ ایک خودکفیل پاکستانی شہری بھی بنے۔ ترقی یافتہ قوموں کی سیاسی جماعتوں کی طرح ان میں بھی ملک کے ہر اہم مسئلے پر تھنک ٹینکس ہوں اور پارٹی کے پالیسی بیانات نہایت ہی سنجیدہ اور گہرے بحث ومباحثوں کے بعد جاری ہوں۔ پارٹی کی اس طرح کی سرگرمیوں کیلئے چنا جانا کارکنان کی عقل و دانش کا ایک ثبوت ہو۔ جمہوریت کا اصل حسن یہی تو ہے اور جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا اگر پاکستان میں جمہوریت کا تسلسل چلا تو یہ حسن آشکار ہونے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ ایسا ہوا تو عسکری دروازے کی طرح موروثی، لسانی اور معاشی دروازے بھی آنے والے وقتوں کی سیاست کیلئے کارگر نہیں رہیںگے۔ اب چونکہ ہماری سیاست قومی لیڈران سے لیکر اسمبلی ممبران تک موروثی کرداروں سے بھری پڑی ہے اسلئے آئندہ ایک دو الیکشن تک تو یہ ایسی کسی بھی تبدیلی کو خوش آمدید نہیں کہیں گے۔ لیکن آخر کار عوامی، قومی اور بین الاقوامی تقاضے میڈیا اور خاص طور پر سوشل میڈیا ان کرداروں کو تبدیل کرینگے۔آنے والے اس وقت میں سیاستدانوں کے مستقبل کا تعین ان کے موروثی، لسانی یا معاشی پس منظر سے پہلے ان کی ذاتی قدوقامت، سوچ، تدبر اور قابلیت کی بنا پر ہوگا۔ اس لئے آج کے نوجوان سیاسی کارکنان کو چھاہیئے کہ وہ اپنی جماعتوں کے اندر جمہوریت کو پروان چڑھائیں۔ اپنا زیادہ تر وقت لوگوں کی خدمت میں لگائیں لیکن ساتھ ہی ساتھ علاقائی، قومی اور بین الاقوامی حالات و واقعات کا تنقیدی جائزہ لیتے رہیں۔ مواصلات کے جدید طریقوں سے اپنے آپ کو آراستہ رکھیں۔ مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ اور میڈیا کے آئینی کردار کو سمجھ کر انہیں عوامی فلاح و بہبود کیلئے کارآمد بنائیں۔ اپنی صفوں میں ایمان، اتحاد، تنظیم اور یقیں ومحکم پیدا کریں اور جذبہ ایثار اور برداشت سے کام لیں۔اس ملک کے باقی نوجوان بھی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ تب ہی بنیں گے کہ جب ان کو یہ یقین ہوجائیگا کہ سیاسی وابستگی ایک مثبت عمل ہے کہ جس سے ملک وقوم کے موجودہ اور آنے والے مسائل کو حل کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں