Daily Mashriq


بڑی دیر کی مہربان آتے آتے

بڑی دیر کی مہربان آتے آتے

خان کیس پر عملدرآمد کے لئے عدالت عظمیٰ نے حکومت کو ایک ہفتہ کی جو مہلت دی ہے اس حکم کی پابندی موجودہ حکومت کے لئے ضروری ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خود موجودہ حکومت کی آئینی مدت کی تکمیل میں کوئی تین ہفتے باقی ہیں۔ اس فیصلے پر چھ سال تک عملدرآمد کیوں نہ ہوسکا۔ درخواست گزار کی زندگی میں اس فیصلے پر عملدرآمد ہوتا تو ان کو یقینا ایک گونہ اطمینان نصیب ہوتا۔ اس فیصلے پر عملدرآمد سے کئی پیچیدگیاں اور قانونی جھمیلے ضرور نکل آئیں گے جن سے گزرنا قانونی تقاضے ہوں گے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے غالب گمان یہی ہے کہ دم رخصت حکومت کی کوشش یہی ہوگی کہ معاملے کو اس طرح سے ٹالا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے والا معاملہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ عدالت کے اس فیصلے پر عدم عملدرآمد میں چھ سال کا التواء اور خود عدالت کی جانب سے چھ سال انتظار دونوں ہی غور طلب معاملات ہیں۔ اس کیس میں مروج ملکی سیاست کا حقیقی چہرہ دکھایا گیا ہے اور سیاست کے خفیہ و اعلانیہ کرداروں کا کردار واضح ہے۔ مشہور اصغر خان کیس میں تحریک استقلال کے قائد اور پاکستان ائیر فورس کے ریٹائرڈ ائیر مارشل اصغر خان نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ1990 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق چیئر پرسن بے نظیر بھٹو کی حکومت کو گرانے اور اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل کے لیے فوج نے سابق وزیر اعظم نواز شریف سمیت متعدد سیاست دانوں کو پیسے دیے تھے۔سپریم کورٹ نے سیاست دانوں میں 1990 کے انتخابات میں رقوم کی تقسیم کے معاملے میں ایئرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے مقدمے کا مختصر فیصلہ 19 اکتوبر 2012 کو سنایا تھا۔ اِس فیصلے میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ انتخابی عمل کو آلودہ کرنا اس وقت کے آرمی چیف جنرل مرزا اسلم مرزا بیگ اور انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی)کے سربراہ اسد درانی کا انفرادی فعل تھا۔اپنے مختصر فیصلے میں اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا تھا کہ 1990 کے انتخابات میں دھاندلی ہوئی تھی اور سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کی گئی تھیں البتہ جو سیاست دان ان رقوم سے مستفید ہوئے ان کے خلاف بھی تحقیقات کی جائیں۔اس وقت تک جو شواہد سامنے آئے تھے ان کے مطابق ایوانِ صدر میں ایک سیاسی سیل قائم تھا جو پسندیدہ امیدواروں اور سیاسی جماعتوں کو مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے رقوم دے رہا تھا۔ اس عمل سے پاکستان کے عوام کو ان کی پسند کے امیدوار منتخب کرنے کے حق سے محروم رکھا گیا۔سپریم کورٹ کے حکم میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس قانون کے مطابق اپنی خدمات انجام دیتے ہوئے سرحدوں کا تحفظ کرسکتی ہیں یا حکومت کو مدد فراہم کر سکتی ہیں لیکن ان کا سیاسی سرگرمیوں، سیاسی حکومتوں کے قیام یا انہیں کمزور کرنے میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی وہ کسی سیاسی جماعت یا گروپ یا انفرادی طور پر کسی سیاست دان کی حمایت کسی بھی انداز میں کر سکتے ہیں جس سے وہ انتخابات میں کامیاب ہو جائے۔گوکہ یہ تفصیلی فیصلہ آٹھ نومبر2012ء کو عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار نے پرہجوم پریس کانفرنس میں پڑھ کر سنایا تھا لیکن اگر اس کو موجودہ حالات اور صورتحال پر منضبط کرکے بھی دیکھا جائے تو بے موقع اور بے وقت نہیں۔ اس وقت جو عناصر انتخابات میں خلائی مخلوق کی مداخلت اور سیاست و جمہوریت کو چلنے نہ دینے کی بات کرتے ہیں بد قسمتی سے یہی عناصر اس وقت ایک جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے کی سازشوں میں برابر کے شریک تھے اور انتخابات میں خلا نوردوں سے ہاتھ ملانے کو ناروا نہیں سمجھتے تھے۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف‘ سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی کے ناموں کا اس فہرست میں ہونا خاص طور پر لمحہ فکریہ ہے باقی جو قابل ذکر اشخاص اس دنیا سے جا چکی ہیں ان کاحساب اب دنیاوی عدالت و حکومت کے ذمے نہیں اور ان کے حوالے سے کچھ کہنا بھی مناسب نہیں۔ قومی خزانے کی رقم سے ملک میں سیاسی عدم استحکام اور انتشار کی مساعی میں ایسے افراد کا نام آنا جو ملکی سلامتی و وقار کے ضامن سمجھے جاتے ہیں المیہ ہی گردانا جاسکتا ہے۔ البتہ قابل اطمینان امر یہ ہے کہ اب حساس اداروں میں کسی سیاسی ونگ کی شنید نہیں اور اگر ہے تو اس کاکردار و عمل واضح نہیں۔ اگر قرار دیا جائے کہ اب سیاسی معاملات میں پہلے کی طرح واضح مداخلت اور براہ راست اثر انداز ہونے کا رواج نہیںرہا تو غلط نہ ہوگا اور نہ ہی تیز رفتار میڈیا کے ہوتے ہوئے اب اس کی گنجائش ہے۔ باوجود اس کے نیمے دروںنیمے بیروں والی کیفیت کے احساسات سے ملکی سیاست پاک نہیں ہوسکی ہے۔ سب سے زیادہ افسوسناک تو ہمارے سیاستدانوں کا کردار و عمل ہے جو حصول اقتدار کے لئے اس قسم کے امور کو عیب نہیں گردانتے اور رقم وصول کرنے والوں کی فہرست میں ان کا نام شامل ہے جس سے انکار ممکن نہیں۔ ممکن ہے یہ ملکی سیاست کا ارتقائی مرحلہ ہو اور اب بڑے سیاستدان اس قسم کی غلطی کا اعادہ نہیں کریں گے لیکن ملکی سیاست میں اس قسم کی مداخلت ہی مسئلہ نہیں بلکہ سیاستدان خود بھی ایک دوسرے کے خلاف محلاتی سازشوں میں کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ اقتدار کی غلام گردشوں میں کوئی نہ کوئی سازش محو گردش دکھائی دیتی ہے جس کے باعث نہ تو حکومت چین سے ہوتی ہے اور نہ ہی ملکی سیاست کو استحکام اور اصول نصیب ہوتے ہیں۔ اس کیس کے کرداروں کو عدالت کے احکامات کی روشنی میں منطقی انجام تک پہنچانے میں کسی قسم کی مصلحت اور دبائو میں نہ آنا ہی موجودہ حکومت اور آنے والی نگران حکومت سمیت حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ جزا و سزا کاعمل ملک میں استحکام اور ہر کس و ناکس کو اپنے دائرہ کار میں رہنے کا پابند بنانے کے لئے لازم و ملزوم ہے۔

متعلقہ خبریں