Daily Mashriq


سعودیوں کا انداز اخوت؟

سعودیوں کا انداز اخوت؟

پاکستان بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے ایک سروے کے مطابق ملازمت کی غرض سے پاکستان سے سعودی عرب جانے والے افراد کی تعداد میں تیزی سے کمی آئی ہے جس کی سب سے بڑی وجہ وہاں پر پاکستانیوں سے ہونے والاامتیازی سلوک بتایا جاتا ہے۔ 2015 میں سعودی عرب جانے والوں کی تعداد سوا پانچ لاکھ کے لگ بھگ تھی جو 2016 میں کم ہو کر چار لاکھ 62 ہزار رہ گئی۔ 2017 میں اس تعداد میں واضح کمی آئی صرف ڈیڑھ لاکھ لوگ سعودی عرب گئے اور اس برس صرف 23 ہزار پاکستانی سعودی عرب روزگار کی تلاش میں گئے ۔اس بارے میں پاکستانی حکام کا موقف کم و بیش ہی منظرعام پر آتا ہے۔ دفترخارجہ کے ترجمان کے مطابق 2016 تک دو لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں مقیم تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ وہاں اپنے بقایاجات کی ادائیگی کی خاطر بیٹھے تھے لیکن پھر واپس آگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو لوگ وہاں قانونی طور پر گئے ان کے مسائل پر سعودی حکام سے بات چیت جاری ہے۔کہنے کو تو پاکستان اور سعودی عرب برادر اسلامی ممالک ہیں مگر جو امتیازی سلوک سعودی عرب میں پاکستانیوں سے کیا جاتا ہے وہ ناقابل بیان ہے۔ اسے تو ہین آمیز امتیازی ہی قرار دیا جائے گا کہ ایک بھارتی کمپنی کی شراکت سے سعودی عرب حکومت پاکستانیوں کو بلاوجہ فنگر پرنٹ دینے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ شرط کسی اور ملک کیلئے نہیں پاک فوج کے جو ان بھی پاکستانی اور اس دھرتی کے بیٹے ہیں مگر چونکہ وہ سعودی عرب کے شاہی خاندان اور حکومت کے تحفظ کیلئے بااعتماد ہونے کے باعث ان کی مجبوری ہیں اس لئے ان کیلئے کوئی شرط عاید نہیں کی جاتی۔ جنرل (ر) راحیل شریف کی خدمات کے حصول میں سعودی عرب کی دلچسپی ہوتی ہے مگر ہمارے محنت کشوں معتمر ین اور عاز مین حج کیلئے سعودی قوانین میں نرمی اور اخوت کجا الٹا سخت شرائط لاگو کر کے دوہرے چہرے اورکردار کا مظاہرہ کیا جا تا ہے۔ سعودی عرب میں محنت کشوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے بقایاجات کی ادائیگی جن شرائط ملازمت اور معاوضے پر کارکنوں کو ویزوں کا اجراء کیا گیا ہوتا ہے اس کی پابندی کرانے میں وزارت خارجہ کو اپنی ذمہ داریوں سے غفلت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔ پاکستانی کارکنوں کے حقو ق کا تحفظ یقینی بنایا جائے اگر سعودی عرب کی حکومت کو پاکستانیوں کیلئے ویزا کا اجرا ء گراںگز رہا ہے تو پھر ان کو مطلوب افرادی قوت اور خاص طور پر پاک فوج کے دستوں کی خدمات کی تفویض پر بھی نظر ثانی کی جائے ۔

گورنر خیبرپختونخوا کا راست اقدام

سیدگی بم دھماکہ کے زخمیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال میرانشاہ میں ناچ گانے کی محفل کے انعقاد کا گورنر خیبر پختونخوا انجینئر اقبال ظفر جھگڑا کاسخت نوٹس لیتے ہوئے ایجنسی سرجن اور ایم ایس کی معطلی بروقت اقدام ہے ۔ ایک ایسے علاقے جہاں کچھ سال پہلے بغیر ٹوپی اور داڑھی کے باہر نکلنا ناممکن تھا وہاں کی فضائوں میں رقص و سرود کی محفل کاایک پہلو یہ بھی سامنے آتا ہے کہ اب علاقہ ان عناصر سے بالکل پاک کیا جا چکا ہے اور ان کے کسی ممکنہ کارروائی کا بھی کوئی خوف باقی نہیں رہا وگرنہ ایم ایس میرانشاہ ہسپتال کی اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ اس قسم کی محفل سجانے کا سوچ بھی سکتے ۔ اس قسم کی ڈانس پارٹی گزشتہ سال بھی منعقد ہونے کی اطلاع ہے جس کا اگر نوٹس لیا جاتا تو اس سال اس کی نوبت نہ آتی ۔ ایک ایسی جگہ جہاں انسان سخت تکلیف کی حالت میں آتا ہے مریضوں کی حالت قابل رحم ہوتی ہے تو ان کے لواحقین بھی رحم کے کم مستحق نہیں ہوتے ان پر ترس کھا کر دل وجان سے ان کا علاج اور خدمت کرنے کی بجائے رقص و سرود کی محفل سجانے والوں کی بے حسی اور شقی القلبی کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک سرکاری ضابطوں کا سوال ہے قانونی طور پر تو معطلی سے بڑھ کر شاید ان کو کوئی سزا نہ دی جا سکے مگر جتنی سخت سے سخت سزا اس عمل کے ذمہ دار عناصر کو دی جا سکے اس سے گریز نہیں کیا جانا چاہیئے ۔ اس قسم کے بے حس عناصر ہی مسیحائوں کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ ڈاکٹر زبرادری کو بھی ان سے ہمدردی کے اظہار کی بجائے ان کی مذمت کرنی چاہیئے ۔

متعلقہ خبریں