Daily Mashriq


جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی ؟

جمہوریت کیسے مضبوط ہوگی ؟

ووٹنگ کے رجحانات جاننے کے لئے شہید بینظیر بھٹو ویمن یونیورسٹی ، پشاور کی جانب سے کئے جانے والے ایک سروے میں جواب دہندگان کی اکثریت نے سیاست دانوں اور سیاسی عمل پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کیا جو ووٹنگ کے دوران کم ٹرن آئوٹ کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔ سروے کے مطابق بہت سے جواب دہندگان سمجھتے ہیں کہ الیکشن محض ایک رسم ہے جس کے نتائج عام آدمی کی زندگی پر کوئی اثر نہیں ڈالتے۔ اس سروے میں عوام اور حکومت کے درمیان بڑھتی ہو ئی خلیج کھل کر سامنے آئی ہے اور یہ صرف کسی ایک حکومت تک محدود نہیں بلکہ اس میں فوجی اور جمہوری دونوں قسم کی حکومتیں شامل ہیں جس کی وجہ حکومتوں کی جانب سے عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی میں ناکامی ہے۔ ہمارے ملک کی سیاست میں آنے والی حالیہ تبدیلیوں میں سب سے اہم تبدیلی سیاسی جماعتوں کا ملک کے غریب ترین اور پسماندہ طبقوں کی بجائے امراء پر اپنی توجہ مرکوز کرنا ہے ۔حالیہ سیاسی رجحانات سے واضح ہوتا ہے کہ غریب عوام کو بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی سیاسی جماعتوں اور حکومتوں کی ترجیح نہیں ہے۔ غربت کی بین الاقوامی تعریف کے تحت پاکستان کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت پاکستان میں 60 فیصد لوگ ایسے ہیں جو خطِ غربت، 2 ڈالر یومیہ آمدنی ، سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ یو این ڈی پی کے ایک سروے کے مطابق پاکستان کی آبادی کے 60.6 فیصد حصے کو کھانے بنانے کے لئے گیس یا کوئی فیول دستیاب نہیں ہے؛ 48.5 فیصد نے اپنی سکول کی تعلیم مکمل نہیں کی؛ 39 فیصد کے پاس کوئی اثاثہ نہیں ہے؛ اور 38 فیصد سے زائد آبادی ایک کمرے کے مکان میں زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ملک کی ایک تہائی آباد ی کو صحت کی سہولیات تک رسائی حاصل نہیں ہے۔غربت ایک ایسا گول دائرہ ہے جس میں رہنے والا انسان اس سے باہر نہیں نکل سکتا اور سخت محنت کے باوجود بھی اپنے خاندان کا پیٹ نہیں بھر سکتا۔روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والے مزدور شام کو بہت کم رقم لے کر گھر آتے ہیں جس سے گھر کے تمام افراد کا پیٹ نہیں بھرا جاسکتا۔ اس قلیل آمدنی میں کھانے کے ساتھ ساتھ انہیں مکان کا کرایہ بھی دینا ہوتا ہے ۔ غربت کی جغرافیائی تقسیم کی بات کی جائے تو پاکستان میں صوبہ بلوچستان سب سے نیچے نظر آتا ہے ۔ صوبے کے غریب ترین اضلاع میں قلعہ عبداللہ، ہرنائی، بارکھان اور شیرانی شامل ہیں۔ بلوچستان کے بعد سندھ کا نمبر آتا ہے جس کے اضلاع، تھرپارکر، عمر کوٹ، ٹنڈو محمد خان، بدین اور کشمور، غریب ترین اضلاع میں شمار ہوتے ہیں۔ پنجاب میں بھی صورتحال کچھ زیادہ بہتر نہیں کیونکہ پنجاب کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ۔ ن کی سیاست مرکزی اور شمالی پنجاب کے گرد گھومتی ہے جس کی وجہ سے جنوبی پنجاب نظر انداز ہوتا رہا ہے۔ مظفرگڑھ اور راجن پور پنجاب کے غریب ترین اضلاع ہیں جن کے بعد ڈیرہ غازی خان اور بہاولپورکا نمبر آتا ہے۔ خیبرپختونخوا بھی کوئی زیادہ بہتر تصویر پیش نہیں کرتا جس کی چھ اضلاع، ڈیرہ اسماعیل خان ، ٹانک، کوہستان، چترال، کرک، اور شانگلہ ملک کے غریب ترین اضلاع میں شمار ہوتے ہیں۔قابلِ تشویش بات یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے غریب ترین علاقوں کو مناسب فنڈز فراہم نہیں کئے جاتے ۔ صوبے کے غریب ترین اضلاع کو مجموعی طور پر 87 ملین روپے کے زکوٰۃ فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں جبکہ دوسری جانب صرف ایک ضلع ، پشاور، 77.4 ملین روپے کے زکوٰۃ فنڈز وصول کرتا ہے۔یہ رجحان صرف خیبرپختونخوا تک محدود نہیںہے بلکہ پورے ملک میں یہی صورتحال ہے جہاں ملک کے امیر ترین اضلاع غریب ترین اضلاع سے پانچ گنا زیادہ پبلک فنڈز وصول کرتے ہیں۔ پاکستان مسلم لیگ۔ن کی موجود حکومت نے ملک سے غربت کے خاتمے کے لئے 462.7 بلین روپے کے فنڈز مختص کئے تھے لیکن اس فنڈ کا ایک بڑا حصہ، 345.4 بلین تنخواہوں اور دیگر غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کردیا گیا۔قانون سازی کی بات کی جائے تو جہاں الیکشن ایکٹ 2017ء میں سیاست دانوں کے احتساب سے متعلقہ شقوں کو نکال دیا گیا ہے وہیں پر ملک میں غربت کے خاتمے، صحت کی سہولیات، روزگار اور تعلیم کی فراہمی کے لئے کوئی خاطر خواہ قانون سازی نہیں کی گئی۔اس وقت پاکستان مسلم۔ ن ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے پر اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہے لیکن پانچ سال حکومت میں رہنے کے باوجود مسلم لیگ۔ن نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کاحق دینے کے لئے کوئی اقدامات نہیں کئے۔ہمارے ملک میں آنے والی ہر حکومت ، فوجی یا سیاسی، نے ہمیشہ ملک کے امیر طبقوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے کام کیا ہے جس کے بعد ووٹ کو عزت دو کا نعرہ انتہائی کھوکھلا محسوس ہوتا ہے۔پاکستان کے انتخابات دراصل ’’جمہوریت میں بہتری ‘‘ کا فارمولہ نہیں ہے کیونکہ ان انتخابات کے ذریعے ہمیں آج تک ایسے حکمران نہیں ملے جو ملک کے پسماندہ طبقات کی زندگیوں میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ میرٹ کے نظام کوپورے ملک میں نافذ کرسکیں ۔ پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ووٹ سے زیادہ ووٹر کو عزت دینی ہوگی اور اسے ایک مناسب معیارِ زندگی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ انصاف، صحت ، تعلیم اور روزگار کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا ۔

(بشکریہ: دی نیوز،ترجمہ : اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں