Daily Mashriq


چنگاریوں کا بیج اور شعلوں کی فصل

چنگاریوں کا بیج اور شعلوں کی فصل

وجہ،بے سمت اور بے مقصد تشدد ایک ایسی ناگن ہے جو بین پر ناچ سے پہلے ہی سپیرے کو ڈس لیتی ہے ۔اسی لئے ہتھیار اُٹھانے کے لئے مقصدیت اور ٹھوس جواز کا ہونا ضروری ہوتا ہے ۔تشدد برائے تشدد معاشروں کو کھوکھلا اور مضمحل کردیتا ہے اور آخر کار معاشرے کسی کرم خوردہ درخت کی طرح خود اپنے سائے اور جڑوں پر آن گرتا ہے ۔معاشروں کو دلائل اوربراہین سے تسخیر کیا جانا ہی فائدہ مندعمل ہوتا ہے ۔بندوق کاراج سوشل سٹرکچر کو بکھیرتا ،ذہنوں کو آلودہ کرتا ،صدیوں کے رواجات اور روایات کو بہاتا ایک ہلاکت خیز طوفان کی مانند گزرتا اور اپنے پیچھے المناک داستانوں اور بے شمار سماجی قباحتوں کی تباہی کا گند اور کچرہ چھوڑ کر چلا جاتا ہے ۔اس لئے معاشروں کو زندہ رکھنے کے لئے دلیل اوربراہین ،انداز اور اسلوب کا ٹھیک رہنا ضروری ہوتا ہے ۔ ریاست اور قیادت کی تقریریں کسی معاشرے میں بیج کا کردار ادا کرتی ہیں اگر ان میںجلائو گھیرائو اورماردھاڑکا رنگ غالب ہوگا تو اس سے جو کونپل پھوٹے گی وہ متشدد رویوں کے حصار میں مقید ہوگی ۔یہ فصل جب لہلہانے کو پہنچے گی تو معاشرہ خانہ جنگی کا شکار ہوچکا ہوگا۔ اسی کی دہائی کے وسط میں الطاف حسین نے ٹی وی بیچ کر کلاشنکوف خریدیں کا جملہ کہا تھا تواسے محض ایک لیڈر کی جذباتی بات اور مجمع گرم کرنے کا انداز سمجھاگیا ہوگا مگر بعد میں کراچی اس ایک جملے کے حصار میںیوں قید ہوگیا کہ کلاشنکوفیں آج بھی پانی کی ٹینکیوں اورزمین کی تہہ سے اُگتی چلی جا رہی ہیں۔ یہ محض ایک مثال ہے ۔فرقہ وارانہ تشدد کی تمام تحریکوں اور تنظیموں نے تقریروں اور اسلوب سے جنم لیا ۔سیاست میں تشدد کے بڑھتے ہوئے رجحان نے اس وقت ایک تشویشناک رخ اختیار کیا جب وزیر داخلہ احسن اقبال پر ان کے حلقہ انتخاب نارووال میں عابد نامی ایک نوجوان نے گولی چلائی ۔حملہ آور ایک ہی گولی چلا سکا جو احسن اقبال کے بازوکو چیرتی ہوئی پیٹ میں جا لگی۔احسن اقبال زخمی تو ہوئے مگر ملک ایک بڑے حادثے سے ہی نہیں جگ ہنسائی سے بھی بچ گیا ۔احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کی ملک کی تمام سیاسی جماعتوںاور راہنمائوں نے مذمت کی ہے۔ تفتیش وتحقیق کے بعد بتایا گیا کہ حملہ آور تحریک لبیک کا کارکن تھا اور وہ انتخابی اصلاحات بل کے بعد پیدا ہونے والے تنازعے کے زیر اثر یہ حرکت کر بیٹھا ۔انتخابی اصلاحات کے بل میں ختم نبوت سے متعلق شق کو حذف کیا گیا تھا جس پر ملک میں ایک بھونچال آگیا تھا ۔اسی مسئلے پر ایک مذہبی جماعت نے راولپنڈی اسلام آباد میں دھرنا بھی دیا تھا اور اس احتجاج کے باعث وزیر قانون زاہد حامد کو مستعفی ہونا پڑا تھا۔ختم نبوت ملک کا ایک ایسا معاملہ ہے جس کے ساتھ رائے عامہ کے جذبات اور عقائد جڑے ہوئے ہیں۔ پاکستان نے طویل تجربے کے بعد ان قوانین کو متعارف کرایا تھا اور ان کا مقصد ملک میں ہجوم کے انصاف اور انارکی کو روک کر کسی بھی مسئلے کو قانونی اور آئینی راہ دینا تھا ۔مغرب کو یہ قوانین ایک آنکھ نہیں بھاتے اس لئے وہ ہر دور میں ان قوانین کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں ۔حکومتوں اور شخصیات کو شیشے میں اُتار کر ان قوانین سے چھیڑ چھاڑ کراتے ہیں جس کے بعد ملک میں تشدد کے واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ پاکستان کی سیاست میں تشدد کا رجحان ہمیشہ سے موجو د رہا ہے۔حالات کے مطابق اس میں کبھی کمی اور کبھی تیزی آتی ہے ۔تشدد کا تعلق ذہن سازی سے ہوتا ہے اور عوام کی ذہن سازی میں سیاسی قیادت کا گہرا دخل ہوتا ہے ۔بدقسمتی سے اس وقت ملک میں سیاسی قیادت جو زبان اور اسلوب اپنائے ہوئے ہے اس سے ذہنوں میں تلخی ہی تلخی پیدا ہو رہی ہے ۔فوج کے خلاف تلخی ،عدلیہ کے خلاف تلخی ،سیاسی حریفوں کے خلاف تلخی اوریوںلگتا ہے کہ ہماری سیاسی قیادت شیریں بیانی کو کسی طاق میں رکھ کر بھول گئی ہے ۔یوں لگ رہا ہے کہ ہر طرف سلطان راہی کی ماردھاڑ اور گنڈاسوں والی فلمیں چل رہی ہیں ۔جلسوں پر یہی رنگ غالب ہے ۔طعن واستہزاء ،دشنام اور الزام سے بھرپور زبان معمول بن چکی ہے ۔معاشرہ پہلے ہی تشدد میں خودکفیل ہے ۔فرقہ وارانہ تشدد ،لسانی تشدد ،سیاسی اور مذہبی تشدد نے کراچی سے خیبر تک ملک کے کسی نہ کسی حصے کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے اور خطرناک بات یہ کہ ان میں سے کئی قسم کے تشدد کو باہر سے ہوا مل رہی ہے ۔بیرونی عناصر کا مقصد پاکستان میں ایسی انارکی پھیلانا ہے جس کے اس تاثر میں ابہام باقی نہ رہے کہ پاکستان ایٹمی ہتھیاروں کے لئے موزوں ملک نہیں۔پاکستان چونکہ ایک مسلمان ملک ہے اس لئے امریکہ اور اس کے اتحادی نائن الیون سے پہلے ہی یہ طے کر بیٹھے ہیں کہ کسی مسلمان ملک کے پاس ایٹمی صلاحیت انہیں قبول نہیں۔جس ملک کے پاس یہ صلاحیت موجود ہے اسے حیلوں بہانوں سے اس سے محروم کرکے ’’بن دانتوں کا شیر‘‘ بنا کر رکھ چھوڑنا ہے ۔اس لئے پاکستان میں تشدد کو ہوا دینا ،انارکی کی طرف دھکیلنا بیرونی ایجنڈا ہے ۔ایسے ماحول میں سیاست دانوں کو اپنے لہجے کو شیریں اور معتدل رکھنا چاہئے تھا تاکہ معاشرے میں ایک نئی طرح کی سیاسی شدت پسندی کو فروغ نہ ملے مگر ایسا نہیں ہو سکا ۔احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ بھی اسی ذہن سازی کا شاخسانہ ہے ۔اچھا ہوا کہ ملک کی پوری سیاسی قیادت نے بیک زبان اس واقعے کی مذمت کی مگر مذمت کافی نہیں ۔اس لئے ایک قومی ضابطہ ٔ اخلاق کی تیاری ہونی چاہئے اور سیاست دانوں ،مذہبی طبقات اور معاشرے اور ریاست کے تمام ستونوں کو اس ضابطہ اخلاق کا خود کو پابند بنانا چاہئے تاکہ معاشرے میں جذبات کو اس حد تک نہ بھڑکایا جائے کہ ذہن مغلوب ہو کر ہاتھ بندوق اُٹھانے پر مجبور ہوجائیں اس میں کسی کا بھلا نہیں ۔

متعلقہ خبریں