Daily Mashriq


تاریخ اور اقوام عالم

تاریخ اور اقوام عالم

میں ویسے تو بہت ساری اقوام اور ملتیں ہیں اور اسی بناء پر آج ایک سو ترانوے ملک اقوام متحدہ کے ممبر ہیں اور شاید دو ملک آبزرور کی حیثیت سے شامل ہیں۔ یوں کل ایک سو پچانوے ملک ہیں اور پھر ہر ملک میں مختلف اقوام اور قبائل ہیں۔ اقوام کی ایک تقسیم وہ ہے جو قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں بتائی گئی ہے۔ بنیادی طور پر سارے انسان ایک ہی قوم یعنی حضرت آدمؑ اور حواؑ کی اولاد ہونے کے سبب نسبی لحاظ سے بنی آدم ہیں۔ لیکن پھر اللہ تعالیٰ نے پہچان کی خاطر انسانوں کو شعوب و قبائل میں تقسیم کیا۔دوسری تقسیم نظریاتی اور عقیدے کی ہے۔ دنیا میں جو لوگ جہاں کہیں اور جس خطے‘ ملک‘ زبان‘ نسل اور قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور اسلام کے بنیادی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں وہ ایک قوم ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ اور جو لوگ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکار ہیں اور دنیا میں جہاں کہیں بھی ہیں وہ ایمان لانے والوں کے مقابلے میں ایمان نہ لانے کی حیثیت سے ایک قوم ہیں۔ اس طرح گویا دنیا میں دو ہی قومیں ہیں۔ ماننے والی اور نہ ماننے والی۔ اور یہی دو قومی نظریہ ہے جو ہابیل اور قابیل کے واقعے کے بعد دنیا میں شروع ہوا۔ ہابیل نے رحمن کا راستہ اختیار کیا اور قابیل نے شیطان و طاغوت‘ اور یہ سلسلہ وہاں سے چل کر خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے دور مبارک میں رحمانی طاقتوں کے غلبہ کے ساتھ عروج کو پہنچا اور چاردانگ عالم میں اشاعت پذیر ہوا۔ وہ دن اور آج کا دن دنیا میں حق و باطل‘ خیر و شر اور صریح الفاظ میں اسلام و کفر کے درمیان کشمکش جاری ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج کے جدید اور ترقی یافتہ ترین دور میں انسان اور اقوام اتنے علوم اور فلسفوں کے بعد بھی ایک دوسرے کو برداشت کیوں نہیں کرتے۔ اس کی پشت پر وہی تاریخ ہے جو حق اور باطل کے درمیان رہی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر شان الحقؒ حقی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’ ہوئے تم دوست جس کے‘‘ میں بجا لکھا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی تاریخ کا یہ صفحہ تو اپنی بقا کے لئے بھی پڑھنا چاہئے کہ گزشتہ چودہ سو برسوں سے ان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے کون لڑ رہے ہیں‘‘۔ ویسے تو ہر قوم کی اپنی تہذیب و ثقافت اور رسوم و رواج کے لحاظ سے اپنی تاریخ ہوتی ہے لیکن دنیا میں ہندو ایک ایسی قوم ہے جن کی ہندوستان میں انگریز کی آمدسے قبل کوئی منظم و منضبط تاریخ موجود نہیں اور یہی بات پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب ’’ تلاش ہند‘‘ اور ان سے پہلے بمبئی کے گورنر اور سکاٹش سٹیٹس مین اور مورخ الفنٹن نے بھی ہندوئوں کی تاریخ کے بارے میں یہی بات لکھی ہے کہ دنیا کی اجڈ سے اجڈ قوم کی بھی کوئی نہ کوئی تاریخ ہوتی ہے لیکن حیرانگی کی بات ہے کہ ہندوئوں کی کوئی مستند منظم تاریخ نہیں۔ لیکن بہر حال انگریزوں نے ہندوئوں کی دیو مالائی مذہبی ادب کی کتب سے کچھ تھوڑی بہت کوشش کے بعد تاریخ کا نام دے کر ہندوئوں کو اپنی قومیت کا احساس دلایا۔ اور انڈین نیشنل کانگریس کے جھنڈے تلے جمع کرکے ایک قوم بنایا اور انگریز ہندوستان چھوڑنے سے پہلے اپنے ہاتھوں ایستادہ کئے ہوئے اس قوم کو لاکھوں مربع میل کا عظیم و وسیع برصغیر حوالہ کرنا چاہتا تھا۔ لیکن مشیت ایزدی کچھ اور تھی اور وہ تقسیم ہند کی صورت میں قیام پاکستان پر منتج ہوئی۔ قیام پاکستان تاریخی تسلسل کا وہ دو قومی نظریہ ہے جس کا ذکر اوپر سطور میں ہوا۔انیسویں صدی کے آخری اور بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں پر مشتمل کوئی ڈیڑھ صدی کی غلامی کے بعد ساری اسلامی دنیا میں قومی ریاستیں وجود میں آئیں اور 1950ء ‘ 1960ء کے عشرے میں عرب اسلامی دنیا میں عرب نیشنلزم کا طوطی بولنے لگا تھا۔ لیکن بر صغیر کے مسلمانوں کو یہ سعادت اور اعزاز حاصل ہے کہ مغربی استعمار کے پیدا کردہ اس پرآشوب زمانے میں لا الہ الا للہ کی بنیاد پر اپنی قومیت کی پہچان کرائی۔ اس نے بر صغیر کے ہندوئوں کو اتنا برہم کیا کہ وہ کسی صورت مسلمانان ہند و پاکستان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ آج ہماری نئی نسلوں کو یہ بتانے والے بہت کم ہیں کہ آخر دنیا میں پاکستان کے حوالے سے اتنا سخت اور مذموم پروپیگنڈا کیوں جاری ہے اور اس قسم کے منفی ہتھکنڈوں سے ہمارے بعض دانشور اور پروفیسر بھی متاثر ہو کر ہمارے تعلیمی اداروں میں جدیدیت‘ ترقی پسندی اور آزاد روی کے نام پر پاکستان ہی کو ساری غلطیوں کا قصور وار قرار دیتے ہیں۔ ہماری نوجوان نسل کو یہ کون بتائے کہ قیام پاکستان نے دراصل حق و باطل کے درمیان اس تاریخ کو تازہ کیا ہے جو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے مبارک دور سے شروع ہوئی لیکن پھر درمیان میں کئی صدیوں تک گم گشتہ ہو کر مسلمانوں کی آنکھوں سے اوجھل ہوگئی تھی اپنی تاریخ کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر صفدر محمود نے تاریخ کو کسی بھی قوم کا حافظہ قرار دیا ہے لیکن حال یہ ہے کہ مسلمان اپنی شاندار اورعظیم تاریخ کی جگہ اپنی نسلوں کو این جی اوز اور مغربی ممالک کی طرف سے فراہم کردہ چند پیسوں کے عوض نصاب میں اپنی تاریخ کی درگت بنا کر جدیدیت اور روشن خیال بنانے کی تعلیمات پڑھا رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں