Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

امام محمد بن ادریس شافعی ؒ فرماتے ہیں :’’ میں نے مکہ مکرمہ میں ایک نو مسلم کو طواف کرتے ہوئے دیکھا ، جو ’’اسقف ‘ ‘ کے نام سے مشہور تھا ۔ میں نے پوچھا : ’’ کس چیز نے تمہیں اپنے آبائو اجداد کے دین سے منحرف کیا ؟‘‘ تو اس نے اپنا عجیب ترین واقعہ بیان کیا : ’’میں سمندر میں ایک کشتی پر سوار تھا ، تھوڑی دور پہنچنے کے بعد کشتی ٹوٹ گئی ۔ میں اس کے ایک تختے پر لٹک گیا ، سمندر کی موجیں مجھے دھکیلتی رہیں ، یہاں تک کہ کسی جزیرے میں ڈال دیا ، اس میں کثیر درخت تھے۔جب رات ہوئی تو میں جانوروں کے خوف سے درخت پر چڑھ کر کسی ٹہنی پر سو گیا ۔

رات کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد میں نے سطح آب پر ایک جانور کو بزبان فصیح تسبیح کرتے ہوئے دیکھا ۔ جس کا مفہوم کچھ یوں ہے : ’’خدا عزیز وجبار کے سوا کوئی معبود نہیں ، محمد ؐ، خدا کے رسول اور چنے ہوئے نبی ہیں ۔ ابو بکر ؓ ان کے غار کے رفیق ہیں ،عمر فاروق ؓ شہروں کو فتح کرنے والے ، عثمان ؓ گھر میں شہید اور علی ؓ کفار پر خدا کی تلوار ہیں ، ان سے بغض رکھنے والوں پر عزیز وجبار کی لعنت ہو ، ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت ہی برا ٹھکانا ہے ۔ ‘‘

وہ جانوریہی کلمات بار بار دہراتا رہا ، طلوع فجر کے بعد اس نے پھر یہی کلمات کہے ،جب وہ جانور خشکی پر پہنچا تو میں ہلاکت کے خوف سے بھاگنے ہی والا تھا کہ اس نے مجھے دیکھ کر کہا ـ:’’ رک جائو ورنہ ہلاک ہو جائو گے ‘‘۔ میرے رکنے کے بعد اس نے مجھ سے میرے دین کے متعلق دریافت کیا تو میں نے جواب دیا : ’’نصرانی ‘‘۔

اس نے کہا : ’’ اے نقصان اٹھانے والے ! بربادی ہے تیرے لیے دین اسلام اختیار کر لے کہ تو مومنین جنات کی قوم میں پہنچ چکا ہے ، ان سے سوائے مسلمان کے کوئی نجات نہیں پاسکتا ‘‘۔ چنانچہ میں کلمہ شہادت پڑھ کر مسلمان ہوگیا ۔ پھر اس نے کہا : ’’ تیرا اسلام کامل تب ہوگا جب تو خلفاء اربعہ سے راضی رہے گا ‘‘۔

میں نے کہا: ’’تمہیں یہ بات کیسے معلوم ہوئی ؟ ‘‘ اس نے جواب دیا : ’’ ہماری ایک قوم نبی کریم ؐ کی محفل میں حاضر ہوئی ، انہوں نے آپ ؐ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : جب قیامت کا دن ہوگا تو جنت لائی جائے گی ، وہ عرض کرے گی :

’’خدایا ! تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ تو میرے کونوں کو مضبوط کرے گا ‘‘۔

حق تعالیٰ فرمائے گا : ’’میں نے تیرے کونوں کو خلفائے اربعہ ؓ سے مضبوط کردیا ہے اور تجھے حسن ؓ وحسین ؓ سے زینت بخشی ہے ‘‘۔

وہ جانور سمندر میں اتر کر میری آنکھوں سے اوجھل ہوگیا ، پھر ایک کشتی گزری جس میں چند افراد سوار تھے۔ میرے اشارہ کرنے پر انہوں نے مجھے بھی سوار کر لیا ۔ اس میں بارہ نصرانی تھے ۔ جب میں نے ان کو اپنا واقعہ بتایا تو سب کے سب دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے۔ (الروض الفائق ، المجلس الثالث والخمسون ، فی مناقب الخلفاء صفحہ 315)

متعلقہ خبریں