Daily Mashriq


اس تنازعے کا حل اب نکل ہی آنا چاہئے

اس تنازعے کا حل اب نکل ہی آنا چاہئے

وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی چوہدری فواد حسین نے کہا ہے کہ پاکستان ہلال اتھارٹی جلد فنکشنل ہو جائے گی۔ پندرہویں روزے سے پہلے اگلے پانچ سال کا کیلنڈر جاری کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم مفتی منیب اور باقی علماء کا احترام کرتے ہیں لیکن اتنے بزرگ علما چاند دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں جن کو سامنے پڑی کوئی چیز نظر نہیں آتی چاند دیکھنے کی ضد کر کے بیٹھ جانا ٹھیک نہیں ہے، چاند دیکھنا ایک سائنسی عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں ہم نے جدید دوربینیں لگائی ہوئی ہیں۔ نماز کے اوقات سورج سے وابستہ ہیں لیکن سب باہر جا کر سورج نہیں دیکھتے گھڑی دیکھتے ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا مفتی پوپلزئی کو ایک دن پہلے چاند نظر آنے کے مؤقف کی تصدیق کر رہے ہیں فواد چوہدری نے کہا کہ مفتی پوپلزئی بھی شہادتیں لیکر اپنی رائے دیتے ہیں۔ مفتی منیب بھی اپنی رائے دیتے ہیں، رویت ہلال کے تنازعے پر ملک کے عوام کی تقسیم اور الگ الگ روزے وعید منانے کا مسئلہ ہر دور حکومت میں رہا ہے اس پر میڈیا میں طویل بحث ومباحثے بھی ہوتے رہے ہیں لیکن اس کے حل کی طرف سنجیدگی سے توجہ کبھی نہیں دی گئی۔ اس مسئلے کا ایک حل یہ تجویز ہوتی رہی ہے کہ سعودی عرب کیساتھ رمضان المبارک کا آغاز اور عید منائی جائے۔ اس پر بڑی حد تک اتفاق رائے بھی ہے عام لوگ اس تجویز کو پسند کرتے ہیں، بہت سارے عملاً سعودی عرب کیساتھ روزے کا آغاز اور عید بھی مناتے ہیں لیکن اس پر جب تک علماء کا اجماع نہ ہو اور سرکاری یا پھر عوام کی اکثریت اس تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے عمل نہ کرے اس ضمن میں ٹھوس پیشرفت نہیں ہوسکتی چونکہ یہ تجویز پرانی اور اس پر پیشرفت نہیں ہو پائی اس لئے اس امکان کو معدوم ہی سمجھا جانا چاہئے چونکہ اس تجویز میں علاوہ ازیں بھی کئی قسم کی قباحتیں اور اختلافات کی صورتیں ہیں لہٰذا اس پر اتفاق رائے کی مزید سعی ہونے کی صورت میں بھی لاحاصل ہونے کا زیادہ امکان ہے۔ دوسری تجویز میں رویت ہلال کو شرعی اور اسلامی نہیں بلکہ سائنسی مسئلہ گردانا جاتا ہے جس سے مکمل طور پر اتفاق نہ کرنے کے اسباب ودلائل تو موجود ہیں لیکن معروضی صورتحال کے تناظر میں یہی وہ راستہ دکھائی دیتا ہے کہ رویت ہلال کے معاملے پر علماء کو اختلاف اور عوامی موافقت سے دور رکھنے کیلئے علیحدہ کیا جائے چونکہ چاند دکھائی دینے اور نہ دینے کا معاملہ کسی فتویٰ سے لازماً منسلک نہیں اور نہ ہی اس کیلئے علماء ہی کو ذمہ داری کی تفویض کی کوئی نظیر موجود ہے بلکہ اسلام میں تو رویت ہلال کو سنت قرار دیکر عام مسلمانوں کو اس پر عمل کرنے کی ترغیب ملتی ہے اب جبکہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی اور درست پیشگوئی تقریباً پوری حقیقت ہونے کے طور پر تسلیم شدہ معاملہ بن چکا ہے اسلئے اس رائے کو اکثریت کی حمایت مل سکتی ہے کہ رویت ہلال کی ذمہ داری محکمہ موسمیات، فلکیات سپارکو ایئر فورس، نیوی اور اس جیسے متعلقہ اور بااعتماد اداروں کے اراکین پر مشتمل ماہرین کی کمیٹی کو حوالے کی جائے جو سائنسی علوم، جدید آلات اور اپنے تجربے، علم اور مہارت کو بروئے کار لاتے ہوئے چاند کے نظر آنے کی اطلاع دیں اور ان کے اعلان کو سرکاری طور پر تسلیم کیا جائے اس تجویز کا ایک پیچیدہ پہلو البتہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں کو چاند دیکھنے کے حق سے محروم نہیں کیا جا سکتا اور علماء کو بھی شہادتوں کی تصدیق کے بعد روزے کا اعلان کرنے سے روکا نہیں جا سکتا، یہ لوگوں کے دین، عقیدے اور مذہب کا معاملہ ہے جس میں وہ علماء ہی کو اختلافات کے باوجود مستند سمجھتے ہیں اور ان کے اعلان کی پیروی کرتے ہیں۔ نمازوں کے اوقات سورج کے اعتبار سے ضرور مقرر ہیں، گھڑی دیکھ کر بھی نمازوں کے اوقات کا علم ہوتا ہے اب تو موبائل فون پر نماز کا وقت داخل ہونے اور وقت اختتام باقاعدگی کیساتھ جاننے کی سہولت تقریباً ہر کسی کو حاصل ہے اور یہ مستند علماء کا ترتیب دیا ہوا وقت ہوتا ہے، مسجد میں بھی نمازوں کے اوقات، سحر وافطار کا چارٹ لگا ہوتا ہے۔ ریڈیو ٹی وی پر بھی ان اوقات کا بتایا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود مسجد میں اوقات نماز ہر مسجد کا خطیب طے کرتا ہے جس کی بلا چوں وچراں پیروی ہوتی ہے۔ خاص طور پر وقت افطار اور اختتام سحری کیلئے اذان کا انتظار کیا جاتا ہے اور اسی کو مستند سمجھا جاتا ہے۔ اس ضمن میں علمائے کرام کا دو تین منٹ کے احتیاط کے مشورے پر کم ہی عمل کیا جاتا ہے حالانکہ اختتام سحری کیلئے خاص طور پر ضروری احتیاط لازم ہے۔ اس ساری صورتحال میں علماء کو خواہ وہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے ہوں یا پھر مقامی علمائے کرام ان کو یکسر کنارہ کش نہیں کیا جا سکتا۔ اس ضمن میں طویل عرصے سے یہ تجویز دی جارہی ہے کہ مرکزی رویت ہلال کمیٹی توڑ دی جائے اور علمائے کرام کی اتفاق سے کمیٹی بنا کر اس کے فیصلے پر اتفاق رائے کو یقینی بنایا جائے تو زیادہ مؤثر اور قابل عمل ہو سکتا ہے۔ بنابریں یہ صرف سائنس وٹیکنالوجی کی وزارت کی کمیٹی یا کیلنڈر بنانے سے حل ہونیوالا مسئلہ نہیں، حکومت اگر واقعی اس مسئلے کے حل میں سنجیدہ ہے تو وزارت مذہبی امور، وزارت سائنس وٹیکنالوجی کو یہ مشترکہ ذمہ داری دی جائے کہ وہ علمائے کرام سے مشاورت کر کے ان سے تجویز لے اور کوئی متفقہ لائحہ عمل اور طریقۂ کار وضع کیا جائے جو سب کیلئے قابل قبول ہو۔

متعلقہ خبریں