Daily Mashriq

گوئم مشکل و نہ گوئم مشکل

گوئم مشکل و نہ گوئم مشکل

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے مابین عملے کی سطح پر ہونے والے سمجھوتے کے تحت فریقین2 سال کے عرصے میں700 ارب روپے کی ٹیکس میں دی گئی چھوٹ ختم کرنے پر راضی ہوگئے ہیں۔ سمجھوتے کے تحت حکومت مالی سال20-2019 کے بجٹ میں مختلف مد میں دئیے گئے ٹیکس استثنیٰ کو ختم کرنے کا آغاز کرے گی جو تقریباً350 ارب روپے کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ فریقین نے اس بات پر بھی رضامندی کا اظہار کیا کہ پاکستان آئندہ بجٹ میں صارفین کیلئے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر دے گا۔ آئی ایم ایف ٹیم نے حکومت سے کہا ہے کہ مالیاتی ایڈجسٹمنٹ کیلئے آئندہ بجٹ میں مزید ٹیکس اقدامات اٹھائے جائیں، واضح رہے کہ عملے کی سطح پر ہونے والے معاہدے کی تکمیل کے بعد بجٹ تیار کرنے کا آغاز ہو جائے گا۔ اس وقت حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج بجٹ خسارے کو کم کرنا ہے جو اخراجات میں کمی اور آمدنی میں اضافے سے ہی ممکن ہوسکتا ہے۔ آئی ایم ایف نے ترقیاتی بجٹ میں کمی کرنے کی مخالفت کی اس وجہ سے ایک سطح پر پہنچ کر مزید کمی نہیں کی جاسکتی اس لئے واحد راستہ آمدنی میں اضافے کا ہے۔ ان سارے معاملات کے طے ہونے اور اسے یقینی بنانے کی یقین دہانی کیلئے ایف بی آر کے چیئرمین کی تقرری ضروری ہے جس کی حکومت کی جانب سے نامزدگی اور وزیراعظم کی منظوری کے باوجود اسٹیبلشمنٹ ڈویژن دم تحریر نوٹیفکشن کے اجراء پر تحفظات رکھتی ہے اگر یہ مرحلہ طے بھی ہوتا ہے تو بھی ان کی تقرری کو چیلنج کرنے، عدالت کے قبل ازیں کے اس قسم کی تقرری پر احکامات اور نامزد چیئرمین کی تقرری پر مفادات کا ٹکراؤ جیسے معاملات کے باعث چیئرمین ایف بی آر کا عہدہ پر ہونے کے باوجود مؤثر اور اعتماد کا باعث شاید ہی ثابت ہو جس کے ٹیکسوں کی وصولی اور معیشت پر پڑنے والے اثرات سے صرف نظر ممکن نہیں۔ چیئرمین ایف بی آر کی تقرری اتفاق رائے سے ہونا ہی کافی نہیں بلکہ ادارے کے سینئر افسران اور عملے کا بھی ان سے تعاون بہتر نتائج کیلئے لازم ہے۔ ایف بی آر کی کارکردگی اور ٹیکسوں کی وصولی کے ہدف کے حصول کے حوالے سے ویسے بھی حوصلہ افزاء نہیں رہا ہے اگر چیئرمین ایف بی آر کی تقرری میں تاخیر ہوتی ہے تو اس کے اثرات بجٹ پر بھی پڑیں گے، اس لئے اس معاملے کو جس قدر جلد افہام وتفہیم کیساتھ اور تحفظات دور کرکے کیا جاسکے تو بہتر ہوگا۔ وزیراعظم کو اس ضمن میں حکمت وبصیرت اور معاملہ فہمی کا مظاہرہ کرنا چاہئے تاکہ ان کی حکومت کیلئے کوئی نئی مشکل کھڑی نہ ہو جائے اور معاشی اہداف کا حصول مزید مشکل نہ بن جائے۔

داتا دربار خودکش حملہ

وطن عزیز میں مزارات پر دھماکے میں دہشتگرد گروہوں کی جانب سے ذمہ داریاں قبول ہوتی رہی ہیں، داتا دربار لاہور میں قبل ازین شدید قسم کی دہشتگردانہ حملے اور دھماکے کئے جا چکے ہیں، گزشتہ روز کا داتا دربار سے باہر پولیس وین کو نشانہ بنانا اس کا تلسل ہے۔ تازہ واقعے سے ایک روز قبل لاہور میں خاصی سیاسی سرگرمیاں رہیں علاوہ ازیں بھی امن کی بحالی پر یقین مستحکم ہوگیا تھا، ان حالات میں اور خاص طور پر رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں اس قسم کے واقعے کا مقصد سوائے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کی موجودگی اور قیام امن کو غیرمستحکم قرار دینے کا اور کیا ہوسکتا ہے۔ داتا دربار کے قریب دھماکہ سے شدت پسندوں نے ایک تیر دو شکار کی بھی شاید کوشش کی ہو۔ داتا دربار کے واقعے سے لگتا ہے کہ دہشتگردی کے نیٹ ورک کے مکمل خاتمے کے دعوؤں کو ابھی چیلنج کرنے والوں کا خاتمہ نہیں ہوا۔ مزید پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے قلب میں ایک خودکش حملہ آور کا ایک حساس مقام پر جا کر پولیس وین کو نشانہ بنانا بھی عوام میں عدم تحفظ اور اضطراب کی کیفیت پیدا کرنے کیلئے کافی ہے، جس کو بدقسمتی سے روکا نہ جا سکا۔ خودکش حملہ آوروں اور دہشتگردی پر تلے عناصر کا مکمل صفایا مشکل ترین امر اس لئے ہے کہ ان کے پس پردہ مختلف بیرونی قوتیں اور دشمن ممالک کی ایجنسیاںاس طرح تہہ در تہہ ہوتی ہیں کہ ان تک پہنچنے اور ان کا صفایا کرنے میں زمانہ لگتا ہے اور اسی دوران ان کو اس قسم کی واردات کا موقع مل جاتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں دہشتگردوں کے خفیہ مراکز کی موجودگی اور ان کا صفایا کرنے کے حوالے سے جس شدت کی کارروائی کی ضرورت تھی اس واقعے کے بعد اس کی ضرورت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ پنجاب میں دہشتگردی کا واقعہ اس امر کا متقاضی ہے کہ پنجاب بھر میں دہشتگردوں کے صفایا کرنے کیلئے قومی ایکشن پلان کے نکات پر پوری طرح عمل درآمد کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے اور شہر میں مشکوک عناصر کی نگرانی میں بہتری لانے کیساتھ ساتھ ہوٹلوں اور گیسٹ ہاؤسز میں ٹھہرنے والوں اور کرایہ داروں کی ازسرنو چھان بین کی جائے۔ پنجاب حکومت اس واقعے کے ذمہ دار عناصر اور ان کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے ذریعے ہی دہشتگرد عناصر کو باز رہنے کا مؤثر پیغام دے سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں