Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت بایزید بسطامیؒ جب بچپن میں یتیم ہو گئے ماں نے ان کو مدرسے میں داخل کروا دیا قاری صاحب سے کہا کہ بچے کو اپنے پاس رکھنا زیادہ گھر آنے کی عادت نہ پڑے، ایسا نہ ہو کہ یہ علم سے محروم ہو جائے چنانچہ کئی دن قاری صاحب کے پاس رہے۔ ایک دن اداس ہوئے دل چاہا کہ ماں سے مل آ ؤں قاری صاحب سے اجازت مانگی، ا نہوں نے شرط لگا دی کہ تم اتنا سبق یاد کر کے سناؤ تب اجازت ملے گی، سبق بھی بہت زیادہ بتا دیا مگر بچہ ذہین تھا اس نے جلدی سے وہ سبق یاد کر کے سنا دیا اجازت مل گئی، یہ ا پنے گھر واپس آئے۔ دروازے پر دستک دی، ماں وضو کر رہی تھی وہ پہچان گئی میر ے بیٹے کی دستک معلوم ہوتی ہے چنانچہ دروازے کے قریب آ کر پوچھا ’’کس نے دروازہ کھٹکھٹایا‘‘ جواب دیا بایزید ہوں، تو ماں کہتی ہے ایک میرا بھی بایزید تھا میں نے تو اسے اللہ کیلئے وقف کر دیا، مدرسے میں ڈال دیا تو کون بایزید ہے جو کھڑا میرا دروازہ کھٹکھٹا رہا ہے؟ تو جب انہوں نے یہ الفاظ سنے تو سمجھ گئے ماں چاہتی ہیں کہ میرا دروازہ نہ کھٹکھٹائے، اب بایزید مدرسے میں اللہ کا دروازہ کھٹکھٹائے اور اسی سے تعلق استوار کرے چنانچہ واپس آئے مدرسے میں رہے اور اس وقت نکلے جب عالم باعمل بن چکے تھے اور اللہ نے ان کو بایزید بنا دیا تھا ایک کامیاب شخصیت کے پیچھے آپ کو ایک عورت کا کردار ایک ماں کی شکل میں نظر آ ئے گا۔ حضرت خنسہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے چار بیٹے تھے وہ جب کھانے پر بیٹھتیں تو بچوں کو کہتیں میر ے بیٹو! تم اس ماں کے بیٹے ہو جس نے نہ ماموں کو رسوا کیا نہ تمہارے باپ کے ساتھ خیانت کی جب بار بار یہ کہتیں تو ایک بار بچوں نے کہا کہ امی آخر اس کا کیا مطلب ہے؟ تو فرماتیں میرے بیٹو! جب میں کنواری تھی تو مجھ سے کوئی ایسی غلطی نہ ہوئی جس سے تمہارے ماموں کی رسوائی ہوتی اور جب شادی ہوئی تو میں نے تمہارے باپ کیسا تھ خیانت نہ کی۔

میں اتنی غیرت اور باحیا زندگی گزارنے والی عورت ہوں بچے پوچھتے امی آپ کیا چاہتی ہیں؟ تو ماں کہتی بیٹو! جب تم جوان ہو جاو تو تم سب اللہ کے راستے میں جہاد کرنا اور میرے بیٹو! تم شہید ہو جانا اور میں آکر تمہیں دیکھوں گی اگر تمہارے سینوں پر تلوار کے زخم ہوں گے تو میں تم سے راضی ہو جاؤں گی اور اگر تمہاری پشت پر زخم ہونگے تو میں تمہیں کبھی معاف نہ کروں گی۔ بیٹے پوچھتے امی! آپ کیوں کہتی ہیں شہید ہو جانا شہید ہو جانا؟ تب ماں سمجھاتیں کہ میرے بیٹو! اس لئے کہ جب قیامت کے دن عدل قائم ہوگا اور اللہ تعالیٰ پوچھیں گے شہیدوں کی مائیں کہاں ہیں؟ میر ے بیٹو! اس وقت میرے پروردگار کے سامنے مجھے سرخروئی نصیب ہوگی کہ میں بھی چار شہیدوں کی ماں ہوں۔ سوچنے کی بات ہے کہ ایسے شہداء کے پیچھے آپ کو ایک عورت کا کردار ماں کی شکل میں نظر آئے گا۔

متعلقہ خبریں