Daily Mashriq

عجب وقت آن پڑا ہے

عجب وقت آن پڑا ہے

چین جو پہلے کئی مرتبہ مولانا مسعوداظہر کو دہشتگرد قرار دینے کی امریکائی بھارتی قراردادوں کو ویٹو کر چکا تھا، اس مرتبہ ایسی کیا تبدیلی آئی کہ سلامتی کونسل کی کمیٹی میں پیش ہو نے والی قرارداد پر چین نے چپ سادھ لی۔ چین امریکا تجارتی تنازعہ بھی چل رہا چنانچہ یہ بات بھی مسلمہ ہے کہ چین کی ترقی کا ایک بڑا زینہ پاکستان بھی ہے جو گوادر کی صورت میں ظہور پذیر ہو چکا ہے اور سی پیک کے راستے چین کو سب سے بڑی عالمی اقتصادی اور معاشی قوت بنا دیگا چنانچہ چین کا تو وہ اس طرح گھیراؤ نہیں کرسکتے جس طرح پاکستان پر حاوی ہوتے چلے جارہے ہیں۔ آئی ایم ایف جو بنیادی طور پر امریکا کا ایک ذیلی ادارہ ہے اس کے ذریعے امریکا نے پاکستان کے حساس اداروں تک رسائی حاصل کر لی ہے، عالمی تھنک ٹینکس کی رپورٹیں بھی یہ کہہ رہی ہیں کہ امریکا نے مشرق وسطیٰ میں جو کرنا تھا وہ کر لیا ہے۔ اب اس کی نظر کلی طور پر پاکستان پر ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اس وقت سعودی عرب کی وہ حیثیت ہے جو کسی زمانے میں بادشاہ رضاشاہ پہلوی کے دور میں ایران کو حاصل تھی یعنی ایران اس وقت علاقے میں امریکا کا تھانیدار تھا۔ ایسی ہی صورت اس وقت امریکا نے بھارت کو دی ہوئی ہے۔ پاکستان جس نے امریکا کی جانب سے چھیڑی دہشتگردی کی جنگ میں جس طرح ساتھ دیا اس کی مثال انسانی تاریخ میں نہیں ہے کہ امریکا کی اس جنگ میں پاکستان نے امریکیوں اور اس کے اتحادیوں سے بڑھ کر قربانیاں دیں جو اپنی جگہ نظیر ہیں، اس وقت امریکا جو مذاکرات کو طول دے رہا ہے اسکی پشت پر بھی اسکے عزائم خطے کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ امریکائی نمائندے زلمے خلیل زاد ایجنڈے پر مذاکرات کرتے کرتے یکایک ایسا ماحول پیدا کر جاتے ہیں جس سے طالبان میں ایک جذباتی رحجان جنم لیتا ہے، مثلاًحالیہ مذاکرات کے دوران زلمے خلیل زاد نے طالبان سے مطالبہ کر دیا کہ وہ معاہدے سے قبل ہتھیار ڈال دیں، ظاہر ہے کہ یہ مطالبہ طالبان نے قبول کر نا تھا، نہ کیا اور مذاکرات کو جوں کا توں چھوڑ چھاڑ چلے گئے۔ دراصل اس طرح طالبان کو بار بار بھڑکانے کی سعی ہو رہی ہے جس کا واحد راستہ افغانستان میں خانہ جنگی کی طرف جاتا ہے چنانچہ اگر افغانستان خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا گیا تو اس خانہ جنگی سے پاکستان بری طرح متاثر ہوگا اور یہ خانہ جنگی پاکستان میں گھس آئیگی جو پاکستان دشمن قوتوں کے اہداف میں شامل ہے۔ چنانچہ سابقہ قبائلی علاقوں میں نوجوان نسل جو زیور تعلیم سے بھی آراستہ ہے ان میں حقوق کے حوالے سے منفی رجحانات کو فروغ دینے کی گھناؤنی سازش کی جا رہی ہے۔

یہ خطے کی سرگرمیوں اور سازشوں کے تانے بانے ہیں جو عالمی طور پر ہو رہے ہیں، اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ مسعود اظہر کو عالمی دہشتگرد قرار دیتے وقت امریکا نے بھارت کو دہشتگردی کی کلین چٹ بھی عطاء کر دی اور پاکستان کو دہشتگردی کے الزامات دے ڈالے، بھارت میں عام انتخابات کے دوران بھی مسلمانوں پر کیا کیا ظلم ڈھائے جارہے ہیں، ان کو کہا جا رہا ہے کہ ہندوستان میں رہنا ہے تو ہندو بن کر رہو، ادھر یورپی یونین کے اکیاون اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے پاکستان کو دھمکی آمیز خط لکھا گیا ہے۔ اس مشترکہ خط میں دھمکی دی گئی ہے کہ اگر پاکستان نے مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی بند نہ کی تو پاکستان کیساتھ تجارتی معاہدہ ختم کرنے کی سفارش کی جائے گی، خط میں الزام لگایا گیا ہے کہ پچھلی سات دہائیوں کے دوران، مرحلہ وار ایک ایسا نظام قائم ہوا جس میں اقلیتوں کیساتھ سماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر امتیازی سلوک کو تقویت دی گئی۔ کیا بودا الزام ہے۔ الزامات میں کہا گیا ہے کہ آئین نظریاتی غلبہ کے تحت تشکیل پایا ہے، لہٰذا آج پاکستانی قوانین جانبدار ہیں، خط میں احمدیوں کیخلاف پرتشدد واقعات اور مسیحی خاتون آسیہ بی بی کے حوالہ سے امتیازی قوانین کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ا۔ ان قوانین کے مسلسل غلط استعمال کے باوجود انہیں ختم کرنے کی کوشش نہ کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ ریاست ان قوانین کے حق میں ہے، جھوٹ کی انتہا یہ ہے کہ خط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہر برس مسیحی اور ہندو مذاہب سے تعلق رکھنے والی ایک ہزار لڑکیوں کو، جو اکثر نابالغ ہوتی ہیں، اغوا کیا جاتا ہے اور جبراً مسلمان کر کے ان کی شادی کر دی جاتی ہے۔ اسی طرح انتہائی طاقتور انتہا پسند گروہوں کی جانب سے اقلیتوں پر تشدد اور ان کی عبادت گاہوں پر حملوں کے واقعات سالہا سال سے جاری ہیں۔ خط کے مطابق ’شہری وسیاسی حقوق کا اعلامیہ ان ستائیس عالمی دستاویزات میں شامل ہے جن پر عملدرآمد یورپی یونین اور پاکستان کے درمیان ترجیحی تجارتی معاہدہ (جی ایس پی پلس) کی شرائط میں شامل ہے۔ اگر شہری وسیاسی حقوق کے بین الاقو امی اعلامئے کی خلاف ورزی، خصوصاً مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی، اسی طرح جاری رہی تو یورپی کمشن سے یہ مطالبہ کیا جائے گا کہ جی ایس پی پلس کے تحت پاکستان کو حاصل تجارتی مراعات اس وقت تک معطل کر دی جائیں جب تک پاکستان شہری وسیاسی حقوق کے اعلامئے پر حقیقی عملدرآمد کی یقین دہانی نہیں کراتا۔ لہٰذا ارکان پارلیمان اسلامی جمہوریہ پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس آئینی اور ادارہ جاتی ڈھانچے کو منہدم کر دے جو مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پامالی کا باعث بن رہا ہے۔ مندرجہ بالا خط کیساتھ ایک اور خبر شائع کی گئی ہے جس کے مطابق امریکی کمشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی 2019 کی رپورٹ میں پاکستان کو ایک مرتبہ پھر ’خصوصی تشویش‘ والے ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ پاکستان کو متعلقہ پابندیوں سے بچاؤ کا پروانہ جاری نہ کرے۔ حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ امتیازی قوانین کا خاتمہ کیا جائے اور سپریم کورٹ کے 2014کے فیصلہ کے مطابق مذہبی اقلیتوں کیلئے قومی کمیشن قائم کیا جائے۔

متعلقہ خبریں