Daily Mashriq

گولان کی پہاڑیوں کا قضیہ

گولان کی پہاڑیوں کا قضیہ

سوال یہ ہے کہ گولان کیا اس قدر اہم ہے کہ اس پر اس قدر شورو ہنگامہ برپا ہو۔ کیا گولان کی شامی پہاڑیاں مسئلہ فلسطین کے حل کی کلید بن سکتی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اس میں ذرہ برابر شک نہیں۔ گولان کا اسٹریٹجک محل وقوع شام، لبنان، اردن اور اسرائیل چار ممالک کیساتھ اس کی جغرافیائی ہیئت ہی نے گولان کو خطے کے مسائل کے حوالے سے نقطۂ عروج پر پہنچا دیا اور تمام مسائل کے حل کی مطلوبہ کنجی کا درجہ دے دیا ہے۔

اہم ترین سوال یہ ہے کہ اگر گولان کے اصلی باشندوں درزیوں نے دمشق سے گولان کی خودمختاری کا مطالبہ کر دیا یا انہوں نے گولان کو اسرائیل کی عملداری میں شامل کرنے کا نعرہ بلند کر دیا تو کیا ہوگا؟ شام کے ناگفتہ بہ حالات اور نو برس سے جاری وہاں خونی کشمکش نیز شام کے حصے بخرے ہونے کے خطرات کے تناظر میں ایسا ممکن ہے۔ ویسے بھی اسرائیل سے درزیوں کے تعلقات بڑے گہرے ہیں۔

درزی اسرائیلی ریاست کا 10فیصد ہیں۔ یہ اسرائیلی ریاست کے قیام سے متعلق کٹر یہودیوں کے بیانیے اور ان کے تصور کو اپنائے ہوئے ہیں۔ جہاں تک اسرائیلی فوج میں درزیوں کی موجودگی کی بات ہے تو یہ کافی پرانی ہے۔ دسیوں ہزار درزی اسرائیلی فوج کا حصہ ہیں۔ فلسطینیوں کا نمبر ان کے بعد آتا ہے۔ یہ بھی اسرائیلی فوج میں شامل ہیں۔

ایسا لگتا ہے کہ گولان کے مستقبل کی بابت مذکورہ پیش منظر کا رشتہ بڑا گہرا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے گولان پر اسرائیل کی بالادستی تسلیم کرنے کے بعد یہ تاثر مزید پختہ ہو گیا ہے۔ اگر اسرائیل میں شمولیت یا شام سے خودمختاری کی بابت درزیوں سے استصواب رائے کرایا گیا تو منظرنامہ یکسر مختلف ہوگا۔

یہاں میں نویں عشرے کے دوران شامی اسرائیلی مذاکرات کے نتائج کی یاد دہانی کرانا چاہوں گا۔ اسرائیل اور شام کے درمیان امن مذاکرات ایسی منزل میں داخل ہو چکے تھے جسے شام کی فیصلہ کن فتح کا نام دیا جاسکتا ہے۔ اسرائیل شام کو گولان کی پہاڑیاں دینے پر رضامند ہو گیا تھا۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے یہاں اپنے سفارتخانے کھولنے کی بات کرنے لگے تھے تاہم آخری لمحے میں صرف300میٹر پر گفت وشنید نے فریقین کے اصل معاہدے کو کھٹائی میں ڈال دیا تھا۔ کہہ سکتے ہیں کہ شامی مذاکرات کاروں کی کوتاہ نظری نے مذاکرات کے ذریعے گولان کی بازیابی کو ٹھیک اسی طرح گنوا دیا جیسا کہ شامی20برس قبل گولان کو جنگ میں ہار گئے تھے۔باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ خلیج ختم ہونے پر1991میں عربوں اور اسرائیلیوں کے درمیان میڈرڈ میں امن مذاکرات شروع ہوئے تھے۔ ان میں چھ خلیجی ممالک کی نمائندگی (جی سی سی) اور دیگر عرب ممالک کی ترجمانی (عرب لیگ)کررہی تھی۔ علاوہ ازیں اسرائیل کیساتھ برسر پیکار شام، لبنان، فلسطین اور مصر کی حکومتوں کے نمائندے مذاکرات میں شریک تھے۔ اسرائیل اور شام، گولان سمیت تمام مقبوضہ شامی علاقوں سے انخلا پر متفق ہوگئے تھے۔ آخری لمحے کے اختلاف نے سارا معاملہ گڑبڑ کر دیا تھا۔ طبریا جھیل کے پانی پر اختلاف معاہدہ کی راہ میں حائل ہوگیا تھا۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ دو عشروں تک ناجائز قبضے کے دوران طبریا جھیل کا پانی خشک ہوگیا۔ جھیل کے پانی کا دائرہ300میٹر تک محدود ہوگیا تھا۔ پانی خشک ہونے سے اچھا بڑا علاقہ سامنے آگیا۔ شام نے مطالبہ کیا کہ ان کے ملک کی سرحدیں طبریا جھیل کے موجودہ پانی تک ہوں گی۔

اسرائیل نے کہا کہ شام کی سرحدیں طبریا جھیل خشک ہونے سے پہلے والے آبی علاقے تک محدود ہوں گی۔ اس سے قبل دونوں ملکوں کے مذاکرات کار اہم اقتصادی، سیاسی معاہدوں اور تحفظ امن کی تدبیر کے سمجھوتے کے قریب پہنچ گئے تھے۔ شامی مذاکرات کاروں نے سب کچھ قبول کر لیا تھا۔ انہوں نے تسلیم کر لیا تھا کہ گولان کے چپے چپے پر سراغ رساں کیمروں سے آراستہ نظام نصب کیا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ فوجی نقل وحرکت پر نظر رکھی جاسکے۔ یہ بھی طے پا گیا تھا کہ شام ٹینک، توپ خانوں اور لڑاکا طیاروں سے پاک علاقہ قائم کرے گا۔ یہ شام، اسرائیل سرحدی علاقے سے لیکر80کلو میٹر تک ہوگا۔ اس کا دائرہ دمشق تک جارہا تھا۔ یہ بھی طے ہوا تھا کہ شام، تل ابیب اور اسرائیل دمشق میں اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔ سفارتکاروں کا تبادلہ ہوگا، حزب اللہ کو غیرمسلح کرنے اور لبنان میں اس کا عسکری کردار مکمل طور پر ختم کرنے کا بھی معاملہ طے پاگیا تھا۔ آج کل خطے کے اسٹریٹجک حل کی کنجیوں میں گہری تبدیلیوں کے بعد گولان کا مسئلہ سیاسی منظرنامے میں سرفہرست ہے۔ اس کا سبب کیا ہے؟ اس کا ایک اہم سبب تو شام، مصر اور لیبیا میں قومی ریاست کا فقدان ہے اور دوسرا سبب عراق اور شام میں عربوں کی عسکری طاقت کا انحطاط یا زوال ہے۔ تیسرا سبب یہ ہے کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان حل کا معاملہ چند میٹر کی تفصیلات پر منحصر ہے۔ چوتھا سبب یہ ہے کہ ایک فریق کی آبادی دوسرے فریق کی آبادی سے گھل مل گئی ہے۔ ایسے عالم میں گولان کی پہاڑیاں ہی زمین کے تبادلے کا متبادل حل ہوسکتی ہیں۔ گولان کی پہاڑیاں ہی فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان مسلسل جھڑپیں بند کرانے کی نظریاتی مصالحت فارمولا ہوسکتی ہیں۔ ممکن ہے یہی مستقبل قریب میں زمینی حقیقت بن جائے؟۔

متعلقہ خبریں