Daily Mashriq

رمضان المبارک اور مہنگائی کا جن

رمضان المبارک اور مہنگائی کا جن

رمضان المبارک کا برکتوں والا مہینہ آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا ہے، نماز عصر کے بعد بازاروں میں لوگوں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے۔ افطار کیلئے خریداری کرنے والے اپنی اپنی پسندیدہ اشیاء پر ٹوٹ پڑتے ہیں، اس کیساتھ ساتھ مہنگائی کا جن بھی بوتل سے باہر آچکا ہے، ہم نے ڈرتے ڈرتے ایک سبزی فروش سے لیموں کا بھاؤ پوچھا تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگا! جناب آٹھ سو روپے کلو! ہم خاموشی سے آگے بڑھ گئے، دوسرے دکاندار کے پاس بھی لیموں وافر مقدار میں تھے لیکن ذرا کمزور تھے، ہم نے ہمت کرکے اس سے بھی نرخ پوچھا تو اس نے ساڑھے چارسو روپے فی کلو قیمت بتائی! ہم نے حاتم طائی کی قبر پر لات مارتے ہوئے ایک پاؤ لیموں خرید ہی لئے کہ یہی ہماری استطاعت تھی! دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ چند دنوں کی بات ہے گنتی کے روزے ہیں، آخر آپ کتنا کمائیں گے؟ رمضان کے آغاز میںاشیائے خوردنی کی قیمتیں اسی طرح آسمان سے باتیں کرتی نظر آتی ہیں، پھر تھوڑے دنوں بعد کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں کسی حد تک کم ہوجاتی ہیں کیونکہ ان کی خریداری بھی کم ہو جاتی ہے۔ پھر جوں جوں چاند رات قریب آتی ہے تراویح کے بعد بازاروں میں خریداروں کا ہجوم بڑھ جاتا ہے۔ پشاور صدر اور مینا بازار میں دکاندار اپنی دکانوں کے سامنے چوڑیوں اور مہندیوں کے سٹال لگا لیتے ہیں، خواتین مہندی بھی لگواتی ہیں اور چوڑیاں بھی خریدتی ہیں۔ یہ ایک روایت ہے جو عرصہ دراز سے چلی آرہی ہے، پشاور بہت سے نشیب وفراز سے گزرا اور اب بھی گزر رہا ہے، کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کسی سے موبائل فون چھیننے کی واردات نہ ہوتی ہو، صرف گلبہار میں ہی دو تین دنوں میں سیل فون چھیننے کی دو تین وارداتیں ہوچکی ہیں لیکن اس سب کچھ کے باوجود لوگ اپنے معمولات نہیں بدلتے، زندگی کی گاڑی کا پہیہ چلتا ہی رہتا ہے! تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی والے اس شہر کے بازاروں کی حفاظت کیلئے موجودہ پولیس نفری کم ہے۔ مینابازار، قصہ خوانی بازار، کوچی بازار، نمک منڈی، یکہ توت چوک جس طرف بھی نکل جائیے زندہ دلان پشاور آپ کو کھاتے پیتے خریداریاں کرتے نظر آئیں گے۔ پولیس والوں کے حوصلے پر بھی حیرت ہوتی ہے یہ آئے دن حملوں میں مارے جاتے ہیں لیکن ان کے ماتھے پر بل نہیں دیکھے، یہ ہنستے کھیلتے اپنے فرائص سرانجام دیتے نظر آتے ہیں۔ آپ پشاور کے کسی بھی چوک میں کھڑی پولیس وین میں تھانیدار صاحب کو بڑے اطمینان کیساتھ اخبار پڑھتے دیکھ سکتے ہیں۔ وہ یوں اخبار پڑھ رہے ہوتے ہیں جیسے اپنے گھر کی پرسکون فضا میں ہوں۔ وین کے آس پاس دو تین کانسٹیبل آپ کو منڈلاتے ہوئے نظر آئیں گے، یہ جرأت اپنی جگہ لیکن ہمارا خیال ہے کہ ہم اور ہماری پولیس حالت جنگ میں ہیں انہیں ذرا سی ہوشیاری اور مستعدی کی ضرورت ہے۔ حالات وواقعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عید سے پہلے پشاور کی پرامن فضا کو خراب کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ خواتین کو بھی چاہئے کہ خریداری کو صرف خریداری سمجھتے ہوئے اسے ایک ضروری کام سمجھتے ہوئے نپٹانے کی کوشش کریں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ خریداری کیلئے، مہندی لگوانے کیلئے چاند رات کا انتظار کیا جاتا ہے، بازاروں میں رونق ہوتی ہے، کھانے پینے کے سٹال جگہ جگہ لگے ہوتے ہیں، بازاروں میں خواتین وحضرات کے ہجوم کی وجہ سے راہ چلنا مشکل ہوجاتا ہے، کچھ لوگ تو رمضان سے ایک دو ہفتے پہلے اپنے گھر والوں کو کہہ دیتے ہیں کہ جو ضروری خریداری کرنی ہے کرلیں، رمضان میں روزے کی حالت میں خواتین کا گھروں سے باہر نکلنا کسی بھی طور مناسب نہیں ہوتا، وہ اپنے اور اپنے بچوں کے عید کے سوٹ رمضان شروع ہونے سے چند دن پہلے درزی سے وصول کرلیتی ہیں، انسان کی زندگی میں ترتیب ہونی چاہئے، حالات کی نزاکت کے پیش نظر جہاں جہاں ضرورت محسوس ہو اپنی زندگی کے طور طریقوں میں تبدیلیاں لانی چاہئیں۔ رمضان کا مبارک مہینہ شروع ہوتے ہی درزی کام لینا بند کر دیتے ہیں، ایسی صورت میں کپڑا ہاتھوں میں اُٹھائے درزیوں کی دکانوں پر جانا اور ان کی منت سماجت کرنے سے بہتر ہے کہ آپ وقت پر ان کاموں سے فارغ ہو جائیں! اب تو پشاور کے بازاروں میں خواتین کا گھومنا پھرنا بہت مشکل ہوگیا ہے، اب ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ خواتین کو گھروں میں بند کردیا جائے، انہیں بھی ضروری امور کیلئے گھروں سے باہر نکلنا پڑتا ہے، ایسی شاپنگ ہوتی ہے جو خواتین کے بغیر نہیں ہوسکتی،اس برکتوں والے مہینے میں ہمیں اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے، اس مبارک مہینے کی آمد کیساتھ ہی مساجد بھر جاتی ہیں، چھوٹے بڑے سب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ باجماعت نماز ادا کرے، یہ یقینا اچھی بات ہے یہ مغفرت کا مہینہ ہے یہ دعاؤں کی قبولیت کا مہینہ ہے یہ دوزخ کی آگ سے نجات کا مہینہ ہے۔ نمازوں کی پابندی، قرآن پاک کی تلاوت کیساتھ ساتھ ہمیں اس مبارک مہینے میں اپنے گریبان میں بھی جھانکنے کی ضرورت ہے۔ اپنے کردار کو سنوارنے کی ضرورت ہے، جہاں ہمیں اپنے حقوق کا خیال رہتا ہے وہاں اپنے فرائض پر بھی ہماری نظر ہونی چاہئے اپنے بہن بھائی، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہئے!۔

متعلقہ خبریں