Daily Mashriq

احوال وطن وامت

احوال وطن وامت

رمضان کے مبارک ماہ میں وطن عزیز کے تین دفعہ وزیراعظم رہنے والی شخصیت چھ ہفتے علاج کی غرض سے جیل سے باہر اپنے جنت نظیر گھر جاتی امراء میں گزارنے کے بعد دوبارہ جیل منتقل ہوگئے۔ اس کیساتھ وہ افواہیں دم توڑتی نظر آئیں جس میں ڈیل اور ڈھیل کی بحثیں ہوتی تھیں لیکن یہ باتیں ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہیں کیونکہ شہباز شریف اور سلیمان شہباز اس وقت نیب کی گرفت سے دور نکل چکے ہیں۔ وہاں سے وہ اپنے اور بھائی کیلئے تار وار ضرور ہلاتے رہیں گے اور یہ ان کا حق بھی ہے لیکن شریف برادران کا حال دیکھتے ہوئے دو باتوں کا ضرور قائل ہونا پڑتا ہے جن کا ذکر قرآن کریم میں ہوا ہے‘ ایک یہ کہ اس دنیا میں جب کسی کو مال ودولت اور عہدہ ومنصب ملتا ہے وہ ایک بڑی آزمائش ہوتی ہے‘ دنیاوی فراوانی وآسائش قطعاً اس بات کی شہادت نہیں کہ یہ بندہ اللہ کو بہت پیارا ہے لہٰذا یہ نعمتیں بطور انعام ودیعت ہوئی ہیں بلکہ یہ اس کے برعکس بھی ہوتا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو اللہ کی طرف سے دئیے گئے اقتدار وسلطانی کو اللہ کے احکام (شریعت) کے مطابق استعمال میں لاتے ہیں تو اس کیلئے دونوں جہانوں میں خیر وفلاح کا باعث بنتا ہے لیکن جو لوگ اللہ تعالیٰ کی امانت کو اپنی خواہشات کے مطابق من مانیاں کرکے استعمال کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ ضرور آزمائشوں سے دوچار کرا کر رسوا کرتا ہے قریبی تاریخ میں خلفائے راشدین کا مبارک زمانہ اقتدار بھی گزرا ہے جو پوری انسانیت کیلئے بہترین نمونہ حکمرانی وسلطانی ہے۔ حقیقت میں تو کائنات ومافیہا کے اصل بادشاہوں کے بادشاہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور انسان کو آزمانے کیلئے اپنی سلطنت واقتدار میں سے ایک جلوہ صرف اسلئے دیتا ہے کہ خیر وشر اور حق وباطل کا سلسلہ ومظاہر لوگوں کے سامنے جاری رہے۔ اسلئے فرمان الٰہی اس بات پر ثبوت ودلیل ہے کہ: اے اللہ! اے تمام جہاں کے مالک! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے سلطنت چھین لے اور تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔ تیرے ہی ہاتھ میں سب بھلائیاں ہیں بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘ ۔ اپنے ہندوستان میں غوریوں‘ غزنویوں‘ تغلقوں اور گریٹ مغلوں کی تاریخ سے کیا یہی بات ثابت نہیں ہوتی۔ مغلوں کے دور کے آخری بادشاہوں کی طوائف الملوکی اور بہادر شاہ ظفر کا عبرتناک انجام کیا اس بات کا ثبوت نہیں ہے کہ جب کوئی اللہ کی امانت (اقتدار وسلطنت) میں نہ اللہ تعالیٰ کے احکام کا خیال رکھتا ہے اور نہ ہی حکمرانی کے اصول وقوانین کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی عوام الناس کے بنیادی حقوق کا خیال رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ انہیں ذلیل کرکے چھوڑتا ہے۔بعض اوقات بعض مصائب ومشکلات نیک لوگوں پر بھی بطور آزمائش آتی ہیں لیکن پاکستان اور عالم اسلام کی ماضی قریب کے پیش نظر یہ بات بلاخطر کہی جاسکتی ہے کہ حکمرانوں نے غریب مسلمان عوام کے حقوق کو بری طرح پائمال کیا۔ عرب ممالک میںمطلق العنان حکمرانوں کی بات ہو یا پاکستان کے آمر وجمہوری حکمران ہوں‘ سب ہی کم وبیش ایک آدھ کے استثنیٰ کیساتھ ملتے جلتے عبرتناک انجام سے دوچار ہوئے ہیں۔مسلمانوں کی مضبوط اور طویل ترین عباسی خلفاء کی حکمرانی کو ہلاکو خان نے جس عبرتناک انجام سے دوچار کیا تھا اس میں خود مسلمان حکمرانوں کا ہاتھ تھا۔ ہلاکو خان تو ان پر بطور سزا ومکافات عمل کے مسلط کیا گیا تھا۔ پاکستان میں تو مجھے قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد کوئی ایسا حکمران نظر نہیں آتا جسے پاکستان کے عوام اجتماعی طور پر ممدوح بنانے کیلئے تیار ہوں‘ ہاں اپنی اپنی سیاسی پسند وناپسند کی بنیاد پر ہر جماعت کے پاس ایک ایسا لیڈر ضرور موجود ہے جو ہر کوتاہی‘ خامی اور عیب سے پاک ہے اور اگر وہ حکمران رہا ہے تو اس کی حکمرانی بے مثال ہے لیکن ان کے چاہنے والوں سے بہت زیادہ اور بڑی تعداد میں اس کے مخالفین اور ناقد بھی موجود ہوتے ہیں۔ ماضی قریب کا پاکستان ہو یا موجودہ‘ یہی تماشا جاری ہے۔ نواز شریف کو نااہل کرنا اور جیل کی سزا ہونا ان کی پارٹی کارکنوں کی نظر میں سراسر اور صریح ظلم ہے اسی لئے پاکستان کی سیاست میں یہ نئی ریت بھی پڑ گئی ہے کہ ملکی عدالت سے باقاعدہ سزایافتہ ہونے کے باوجود اپنی مرضی کے مطابق مداحوں اور پرستاروں کے جلوس میں پھول کی پتیوں میں ملفوف جیل میں ایسے داخل ہوتا ہے کہ کتنے لوگوں کے دلوں میں یہ خواہش جاگتی ہوگی

وہ بال کھولے میری لاش پر دیوانہ وار آئے

اسی کو موت کہتے ہیں تو یا رب بار بار آئے

یعنی گویا کہ آپ نے کوئی خطا کی ہی نہیں‘ بس ظلم ہے جو آ پ کیساتھ روا رکھا جا رہا ہے اور اس کا سبب عمران خان ہیں حالانکہ یہ سارا معاملہ تو عمران خان سے قبل کا ہے اور نیب واحتساب عدالت ہی کے ذریعے ہوا ہے اور اگر واقعی آپ بے گناہ ہیں تو پھر یہ جور وابتلا یقینا آپ کے مراتب کی بلندی اور آخرت میں اجر کا باعث ہوگا اور تاریخ میں سقراط سے لیکر عدنان مندریس اور ذوالفقار علی بھٹو تک اس سے بڑی سزائیں بھگتے ہوئے جان سے گزر چکے ہیں۔ لہٰذا ایک ذرہ بھی گھبرانے کی ضرورت نہیں لیکن اس وقت عالم اسلام میں جو کچھ بھی ہو رہا ہے یہ یقینا قرآن وسنت کی منشاء کیخلاف ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پوری امت (اگر واقعی امت کہیں ہے) اس وقت ایک ابتلاء اور آزمائش سے گزر رہی ہے اور غریب عوام ٹک ٹک دیدم‘ دم نہ کشیدم کی کیفیت سے دوچار ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اس مبارک مہینہ میں گڑگڑا کر دعا ہی کرسکتے ہیں کہ پروردگار عالم ہم پر رحم فرما۔ آمین۔

متعلقہ خبریں