زہریلی دھندکی وجوہات

زہریلی دھندکی وجوہات

امریکہ کے خلائی ادارے نا سا کا کہنا ہے کہ زہریلی دھند صرف لا ہور اور پنجاب کے کئی شہروں تک محدود نہیں بلکہ اس سے بھارت کے شہر بھی متا ثر ہو رہے ہیں اور یہ مسئلہ دہلی کو بھی درپیش ہے۔ اگر دیکھا جائے تو سموگ یعنی زہریلی دھند کی بہت ساری وجوہات ہیں مگر آج کل اسکی سب سے بڑی وجہ بھارتی پنجاب میں فصلوں کے بچے ہوئے حصوں کو جلانا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ بھارت کے مختلف شہروں میں کسان فصلوں کے بچے ہوئے حصوں کو نکالنے کے بجائے اسکو جلاتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پنجاب کے ان شہروں میں تقریباً32 ملین ٹن فصلوں کی باقیات جلائی جاتی ہیں جس سے مختلف زہریلی گیسیں مثلاًنا ئٹرس آکسائیڈ ، کاربن مانو آکسائیڈ، سلفر ڈائی آکسائیڈ اور ایروسول نکلتی ہیں۔ اللہ نے کائنات کے نظام کو ایک ترتیب سے بنا یا ہوا ہے اور جو اس میں بگاڑ پیدا کرے گا وہ اسکے منفی اثرات کو بھی بر داشت کرے گا۔ جنگلات کے بے دریغ کٹائوکی وجہ سے آلودگی اورزہریلی دھند میں اضافہ ہو رہا ہے۔اگر ہم پاکستان میں مو سمی تغیر کو دیکھیں تو اس میں تین وجوہات یعنی جنگلات کی کمی ،آبادی میں بے تحا شا اور بے ہنگم اضافہ اورگا ڑیوں کا حد سے زیادہ استعمال ۔ جہاں تک موسمی تغیر کا تعلق ہے تو اس کی بُہت ساری وجوہات میں زہریلی گیسوں کے اخراج کے علاوہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج بڑی وجہ ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ آکسیجن ما حول کو ٹھنڈا رکھتا ہے جبکہ کا ربن ڈائی آکسائیڈ ایک زہریلی گیس ہے جو ما حول کو گرم رکھتی اور درجہ حرارت بڑھا تی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ما حول میں اس زہریلی گیس یعنی کا ربن ڈائی آکسائیڈ کو کم کیسے کیا جا سکتا ہے اور آکسیجن جو انسان کی بقا کے لئے ضروری گیس ہے اس کی مقدار میں اضافہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔ جہاں تک کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسی زہریلی گیس قابو کرنے کے طریقے ہیں تو اسمیں سب سے زیادہ اہم درخت یا پو دے لگا نا ہے۔ درخت اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسانوں کے لئے آکسیجن بنانے کی فیکٹری ہے ۔ ایک مکمل درخت ہمیں سال میں 50 ڈالر کی 5 مکعب میٹر کی لکڑی مہیا کرنے کے علاوہ 5 ٹن آکسیجن بھی مہیا کرتا ہے جو روئے زمین پر حیات کے لئے انتہائی اہم ہے۔ کیونکہ آکسیجن کے بغیر کوئی بھی جاندار روئے زمین پر زندہ نہیں رہ سکتا۔ما ہرین ما حولیات یہ بھی کہتے ہیں کہ ایک مکمل درخت سال میں اتنی آکسیجن مہیا کرتا ہے جتنی سال میں 20 لوگوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ما ہرین ما حولیات کے مطابق ایک درخت سے سالانہ جتنی آکسیجن حاصل ہوتی ہے اُسکی قیمت 50ڈالر بنتی ہے۔ درختوں کا دوسرا بڑا فائدہ ما حول میں کا ربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرنا ہے ۔ ما ہرین کہتے ہیں کہ ایک درخت سالانہ ساڑھے 6 ٹن کا ربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرتا ہے اور ہمارے ما حول کو صحیح رکھنے کے لئے اسکی قیمت تقریباً102ڈالر سالانہ بنتی ہے۔علاوہ ازیں ایک درخت سے سالانہ 55 کلو گرام آرگینک یعنی نامیاتی مواد حا صل کیا جا سکتا ہے اور ما رکیٹ میں اس نامیاتی مر کبات کی قیمت تقریباً150 ڈالر بنتی ہے۔اسکے علاوہ ایک درخت ما حول کو خو شگوار بنانے کے لئے کیڑوں مکوڑوں یعنی پیسٹ کا انتظام کرتا ہے جس کی قیمت 50 ڈالر بنتی ہے۔ما ہرین کہتے ہیں کہ ایک درخت سالانہ 70 کلو گرام گر د و غبار کو جذب کرتا ہے اور اسی طر ح ما حول کی صفائی سُتھرائی میں اہم کر دار ادا کر رہا ہوتا ہے۔ ایک مکمل درخت سالانہ 15ڈالر کے زہریلے مواد اور ریڈیو ایکٹو مواد کوجذب کرتا ہے۔اسکے علاوہ درخت جانوروں اور انسانوں کے لئے سائے اور با رش بر سانے میں جو کر دار ادا کر رہا ہو تا ہے اُسکی قیمت ماہرین ما حولیات کے مطابق 15 ڈالر سالانہ بنتی ہے۔ایک مکمل درخت ہمیں سالانہ تا رپین اور چیڑ کی شکل میں جو مواد مہیا کر تا ہے اُسکی قیمت 100ڈالر سالانہ ہے۔اسکے علاوہ زیادہ پو دے اور جڑی بو ٹیاں حکماء حضرات دیسی دوائیوں کے بنانے میں استعمال کرتے ہیں۔ اسکے علاوہ ایک مکمل درخت زمین کی ہمواری اور اسکی قدر و قیمت کو بر قرار رکھنے میں بھی اہم کر دار ادا کرتا ہے جسکی ما رکیٹ میں ریٹ سالانہ 2 ڈالر ہے ۔ پاکستان کے جنگلات 4فی صد رقبے پر ہیں اور یہاں پر سالانہ 494 ملی میٹر با رشیں ہو تی ہیں جبکہ اسکے بر عکس وہ ممالک جہاں پر زیادہ جنگلات ہیں وہاں پر با رشیں زیادہ ہو تی ہیں۔ مثلاً جاپان میں 37 فی صد جنگلات ہیں جہاں پر 1690 ملی میٹر بارش، بھارت میں جنگلات کی شرح 25 فی صد ، جہاں پر 1083 ملی میٹر با رش ، سری لنکا میں 43فی جنگلات ، با رشیں 2500ملی میٹر اوربھوٹان میں 60 فی صد جنگلات ،با رشیں 2400 ملی میٹر با رشیں ہو تی ہیں۔ جہاں جنگلات زیادہ ہیں وہاں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی اور آکسیجن کی زیادتی ہو تی ہے جس کی وجہ سے پہاڑوں پر زیادہ برف پڑتی اور با رشیں زیادہ ہوتی ہیں ۔ مری ہزارہ اور سوات میں لوگ کھا نے پکانے کے لئے جنگلات کا ٹ کر گزارہ کرتے ہیں ۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یا تو ان جنگلات والے علاقوں میں سوئی گیس پہنچائی جائے اور اگر سوئی گیس نہیں پہنچ سکتی تو وہاں پر لوگوں کو سلنڈر والی گیس سبسڈائز Subsidiesریٹس پر دی جائیں تاکہ لوگ کم سے کم جنگلات کاٹ سکیں۔

متعلقہ خبریں