Daily Mashriq


منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

منصف ہو تو اب حشر اٹھا کیوں نہیں دیتے

عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سپریم جوڈیشل کونسل میں ان کے خلاف مس کنڈکٹ زیر سماعت بند کمرہ کی بجائے کھلے عام کرنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران معزز عدالت کے منصفین نے جو ریمارکس دئیے ہیں وہ نہ صرف قابل توجہ ہیں بلکہ لائق صد تحسین ہیں۔ ریمارکس میں کہا گیا ہے کہ ہم نہ مقدس گائے ہیں نہ ہی طاقتور بیل‘ ججز کا احتساب بھی ضروری ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ معزز جسٹس صاحبان کی طرف سے ان ریمارکس کے باوجود عدلیہ اور فوج بہر حال مقدس گائے ٹھہرائے جاتے رہے ہیں۔ ان کی طاقت و اختیار بھی کس طاقتور بیل سے کم نہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کا وجود اور تعلق کا سلسلہ بھی طویل اور کمال کی ہم آہنگی کا رہا ہے اور ہونا بھی چاہئے کہ یہ ملک کے طاقتور ادارے ہیں۔ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد انگریزوں سے دو ہی ادارے ورثے میں ملے فوج اور عدلیہ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دونوں کی گاڑھی بھی چھنتی ہے اور دست گیری کا کوئی موقع ضائع نہیں جاتا دوست آں باشد کہ گیر د دست دوست کے مکمل محاورے کی عین تصویر۔ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ریاستی نظام میں سے ملنے والے ان حصوں میں اب تک انگریزی طور طریقے ڈھونڈنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ قانون افرنگ اور زبان افرنگ ضوابط افرنگ طرز و طریقہ افرنگ اس مماثلت کا اتفاقیہ ہونا بھی اپنی جگہ درست ہے۔ یہ بھی اتفاق ہی ہے کہ ان دو اداروں ہی کے بارے میں احتساب اور تنقید کے در کے دونوں پٹ اس وقت کھلے ہیں۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف کے ریمارکس کا تذکرہ ضروری نہیں قبل ازیں بھی ماضی میں کینگرو کورٹس کی اصطلاح مستعمل رہی ہے۔ بہر حال ہمارا اس جانب صرف اشارہ مقصود تھا ۔ ہمیں عدلیہ کے مقام و مرتبہ کا حقیقی طور پر ادراک بھی ہے اور اس کا احترام ملحوظ خاطر رکھنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ معزز جسٹس نے گائے اور طاقتور بیل کا جو استعارہ استعمال کیا ہے اس میں گائے سے مراد غالباً عدلیہ خود ہے مگر طاقتور بیل کی اصطلاح تشریح طلب ہے۔ بہر حال ان کی مراد جو بھی ہو پاکستان کے عوام کو شکوہ ہے کہ گائے نے دودھ دینے میں اپنے دوہنے والوں سے تعاون کا مظاہرہ نہیں کیا۔ پورا چارہ کھانے کے باوجود دودھ اتنا کم دیا کہ بغور دیکھنے کے باوجود بھی نظر نہیں آتا۔ بیل کی طاقت بھی ہل جوتنے کے مواقع پر ہل کھینچنے اور کھیت کو اچھی فصل دینے کے قابل بنانے میں زیادہ کام نہ آئی۔ بہر حال یہ شکوہ جواب شکوہ کا موقع نہیں بلکہ اس امر کا جائزہ لینے کا ہے کہ معزز عدالت کے معزز منصفین کے اپنے قول و فعل کی روشنی میں اس امر کا واقعاتی شواہد کی روشنی میں جائزہ لیا جائے کہ واقعی مقدس گائے اور طاقتور بیل والا معاملہ ہے یا نہیں۔زمینی حقائق اس امر پر دال ہیں کہ جب سے سپریم جوڈیشل کونسل کا قیام عمل میں لایاگیا ہے ایسی کوئی نظیر ہمارے علم میں نہیں کہ کسی معزز جسٹس کے خلاف کوئی فیصلہ دیاگیا ہو۔ ممکن ہے اس کی نوبت نہ آئی ہو اور ہماری اعلیٰ ترین عدلیہ کے ارکان نے تقصیراتی تقاضوں سے خود کو مکمل طور پر بچائے رکھا ہو بصورت دیگر محولہ صورت نہ ہوتی۔ اس طرح کی صورتحال میں اگر قرار دیا جائے کہ سپریم جوڈیشل کونسل فعال نہیں تو بھی اس کی آسانی سے تکذیب کی گنجائش نہیں۔ ہمارے تئیں اگر کسی ایک سزا کی بھی مثال کا علم ہوتا تو اسے غیر فعال قرار دینے کی گنجائش نہ تھی۔ اس بارے دو رائے نہیں کہ معزز عدالت عظمیٰ کے معزز جسٹس صاحبان اس امر کے کھلے بندوں خود معترف ہیں کہ منصفین مقدس گائے اور طاقتور بیل نہیں باالفاظ دیگر وطن عزیز میں کوئی بھی مقدس گائے نہیں۔ دستور پاکستان کی رو سے سبھی پابند قانون اور بوقت ضرورت احتساب کے حامل ہیں۔ عدلیہ میں بصورت ضرورت سپریم جوڈیشل کونسل کا ادارہ بھی موجود ہے مگر اس ادارے سے کام لینا اور عوام کی توقعات کے مطابق احتساب کی ضرورت پوری کرنا باقی ہے۔ مقدس گائے اور طاقتور بیل کی اصطلاح سے قطع نظر اسلامی جمہوریہ پاکستان کہلائے جانے والے اس ملک میں آخر امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منبر پر تشریف فرما ہونے کی حالت میں ایک عام مسلمان کا تمام مسلمانوں کو ملنے والے کپڑوں کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ کپڑے سے بنی قمیص کا سوال کرنے اسے سننے‘ برداشت کرنے اور سائل کو مطمئن کرنے کی روایت کی پیروی کب ہوگی ہم تقریروں تحریروں اور فیصلوں میں تو اس کا بار بار حوالہ دیتے ہیں مگر عمل کرنے کی طرف کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا اس پر عمل کرنے کی مبارک سعی تو بہت دور کی بات ہے۔جب تک ہم خلیفہ دوم کی طرح جواب دہ ہونے کی روش نہیں اپناتے تب تک ہمیں اس طرح کی کامیابی و حکمرانی کا خواب بھی نہیں دیکھنا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ معزز جسٹس صاحبان ملک کی اعلیٰ عدالت کے مسند نشینوں کی حیثیت سے اس طرح کے انصاف اور اس طرح کے معاشرے کے قیام کے لئے مثال سننے پر تیار ہوں گے۔ اس طرح ہونے کا تو یقین نہیں اگر اس کی نقل اور ایسا کرنے کی سعی کا جذبہ ہی پیدا ہو تو نہ کوئی مقدس گائے رہے گی نہ کوئی طاقتور بیل ہوگا اور نہ ہی سیاستدانوں اور بیوروکریسی کو اس ملک کے وسائل اور خزانے کو ناحق استعمال کرنے کی جرأت ہوگی۔ اس کی ابتداء آخر کہیں سے تو ہونی چاہئے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ ملک کی عدالتیں اور عدالتی نظام اس طرف پہل کرنے کا فیصلہ کریں۔ ہمیں یقین ہے اگر ایسا ہوا تو پھر ملک کے گمبھیر سے گمبھیر مسائل کا حل بھی مشکل نہیں رہے گا۔ آئیے مالک کائنات سے دست بدعا ہوتے ہیں کہ وہ ہم میں سے ہر ایک کو اس امر کی توفیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی اپنی جگہ اور اپنے اپنے دائرہ اختیار میں خوف خدا کا مظاہرہ کرنے والے بن جائیں اور اپنے پاک وطن کو سنوارنے میں لگ جائیں۔ آمین

متعلقہ خبریں