Daily Mashriq


دینی مدارس کی رجسٹریشن و دیگر معاملات

دینی مدارس کی رجسٹریشن و دیگر معاملات

صوبائی حکومت کی جانب سے دینی مدارس کی تعلیمی بورڈز کے ساتھ رجسٹریشن کا عمل او ر دیگر ضوابط ایسے ناموزوں نہیں جن کی مخالفت کا پہلو تلاش کیا جا سکے لیکن اس حساس نوعیت کے معاملے میں صوبائی حکومت اور متعلقہ حکام کو احتیاط اورمشاورت کا مشورہ بھی غلط نہ ہوگا ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دینی مدارس کے حوالے سے ہمارا من حیث المجموع رویہ اور رجحان کچھ زیادہ درست نہیں ہم ایک مچھلی سارے تالاب کو گندہ کر دیتی ہے کے مصداق رویہ رکھتے ہیں اور سوچتے ہیں خود ہم اپنوں میں کالی بھیڑوں کے محاورے کا سہارا لیتے ہیں لیکن دینی مدارس اور مساجد جیسے مقدس مقامات اور اداروں کے حوالے سے ہمارا رویہ اور طرز عمل مناسب نہیں۔ اگر ہم اس ضمن میں اپنی اصلاح کریں اور اپنی سوچ کو حقیقت پسندانہ بنائیں تو غلط فہمیوں کا امکان معدوم ہوگا ۔ ہمارے تئیں یہ صرف معاشرے ہی کی طرف سے نہیں بلکہ دینی مدارس میں ایسے عناصر کی موجودگی سے انکار نہیں کیا جا سکتا جو غلط فہمیوں کا باعث بلکہ ٹھوس وجہ بن جاتے ہیں۔ بنابریں طرفین کا رویہ اور طرز عمل دونوں اپنی اپنی جگہ پر قابل غور اور قابل اصلاح ہیں جس کے بعد ہی مثبت طرف رجوع ممکن ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صوبائی حکومت کے اقدامات میں کوئی ایسی شرط نہیں رکھی گئی ہے جس پر اعتراض کی گنجائش ہو۔ اگر دیکھا جائے تو یہ شرائط اور طریقہ کار بھی نئے نہیں دینی مدارس پہلے ہی رجسٹریشن اور دیگر قواعد و ضوابط کی پابندی کر رہے ہیں اور اگر اس ضمن میں مزید تفصیلات و تعاون اور معاملات کو مربوط بنانے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے تو حکومت علمائے کرام اور مدارس دینیہ کے منتظمین کو اس ضمن میں اعتماد میں لیکر جو بھی قدم اٹھائے گی اس کی مخالفت سامنے نہیں آئے گی۔ اس ضمن میں اب تک تحفظات کے سامنے نہ آنے سے بھی اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ حکومت اور دینی مدارس کے منتظمین کے درمیان اس ضمن میں مفاہمت موجود ہے۔ اگر مزید مشاورت کی ضرورت پڑے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ یہ معاملہ یکبار گی طے کر لیا جائے گا اور ہر تین چار ماہ بعدد ینی مدارس کے حوالے سے پالیسی تبدیل کر کے خواہ مخواہ غلط فہمی کا باعث بننے والے اقدامات و عوامل کی آئندہ نوبت نہیں آئے گی ۔

ضلع اپر چترال اعلان کی عملی تکمیل کی ضرورت

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کا ایک بڑے جلسہ عام میں ضلع اپر چترال کا اعلان بالائی چترال کے عوام کی دلی مراد پوری کرنے کا باعث امر گردانا جاسکتا ہے۔ پولو گرائونڈ چترال میں منعقدہ جلسے میں جم غفیر کی شرکت ہی اس کا بین ثبوت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے سنجیدہ فیصلہ کرنے اور تکمیل وعدہ کی یقین دہانی کرکے مکرر طور پر اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ ضلع اپر چترال کو ایک باقاعدہ ضلع کے پورے حقوق عملی طور پر دینے میں بخل سے کام نہیں لیں گے۔ ہمارے تئیں یہ ایک نئے ضلع کا قیام نہیں بلکہ ایک ضم شدہ ضلع کی بحالی کا اعلان ہے مگر ضلع کی ضرورت اور عوام کی مشکلات دیکھا جائے تو بالائی چترال اور تور غر و ضلع کوہستان میں کوئی فرق نہیں یہ نام کا ضلع ضرور رہا ہوگا۔ اس کی پسماندگی اور مسائل توجہ طلب اور فوری حل طلب ہیں۔ اپر چترال کے قیام سے بالائی چترال خاص طور پر بروغل اور اس جیسے دیگر سرحدی علاقوں کے عوام کو امید کی ایک کرن نظر آنا فطری امر ہوگا جہاں اب تک تعلیم و صحت کی سہولتوں کا لوگوں نے صرف نام ہی سنا ہوگا ۔ صوبائی حکومت کو اپرچترال کے دفاتر کی تعمیر کیلئے موزوں مقام کا جلد سے جلد انتخابات کرنا چاہیئے۔ ہمارے تئیں کاغلشٹ کی سرکاری زمین اس کیلئے موزوں ہوگی جس سے مقامی آبادی اور زرعی اراضی کے متاثرہونے کا بھی کوئی خطرہ نہیں اس کیلئے پانی کی فراہمی کا بندوبست مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں ۔ اپر چترال کے عوام بجا طور پر توقع رکھتے ہوں گے کہ موجودہ صوبائی حکومت مدت اقتدار کے بقیہ مہینوں میں اپنے اعلان کو عملی جامہ پہنا نے میں کوئی کسر اٹھانہیں رکھے گی اور عوام کو ایک علیحدہ ضلع کے قیام کے مقاصد کا حصول ممکن بنا دیا جائے گا ۔

متعلقہ خبریں