پاک امریکہ ٹریک ٹو سفارت کاری

پاک امریکہ ٹریک ٹو سفارت کاری

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اصرار کے جواب میں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں پاکستان کی اس پیش کش کے بعد کہ امریکہ پاکستان میں دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں کی نشاندہی کریں پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا، دونوں ملکوں کے تعلقات میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آئی۔ ٹرمپ کے بیان کے بعد ان کے وزیر خارجہ پاکستان آئے اور انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ پاکستان فیصلہ کن کارروائی کرے۔ فیصلہ کن کارروائی کیا ہے یہ بات واضح نہیں ہے۔ یہ پاکستان کی متذکرہ بالا پیش کش کے جواب میں ڈومور کے اصرار ہی کی ایک شکل ہے۔ دونوں ملکوں کے ذمہ دار اپنے اپنے ملک کے لیے ایک دوسرے کی اہمیت سے واقف ہیں۔ اس لیے تعلقات میں پیش رفت تلاش کرنے کے لیے ٹریک ٹو ڈپلومیسی شروع کر دی گئی ہے جس میں امریکی سفیر متعینہ پاکستان ڈیوـڈ ہیل دوسرے امریکی سفارت کاروں کے ساتھ پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف ‘ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ رابطے میں ہیں۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے گزشتہ روز سینیٹ کی مجلس قائمہ برائے امور خارجہ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹریک ٹو مذاکرات کے دوران امریکہ نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے کسی گروپ کو پاکستان میں حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ امریکہ کی طرف سے یہ بیان غالباً وزیر خارجہ خواجہ آصف کے اس بیان کے جواب میں آیا ہے کہ پاکستان دشمن عناصر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں اور وہاں سے پاکستان کی سرزمین پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ خواجہ آصف نے یہ بھی کہا تھا کہ افغانستان میں منشیات کی تجارت کے بڑے بڑے سرخیل پاکستان اور افغانستان کے درمیان بہتر تعلقات کی راہ میں حائل ہیں ۔ خواجہ آصف نے جو حقائق بیان کیے ہیں وہ سب پر آشکار ہیں اور پاکستان کے لیے باعث تشویش ہیں۔ اس تشویش کے ازالے کی بات حکومت افغانستان کی طرف سے آنی چاہیے تھی ۔ افغانستان کی طرف سے اگر یہ یقین دہانی آتی تو اس کے ساتھ یہ توقع وابستہ کی جا سکتی تھی کہ افغانستان کی حکومت اپنی حدود میں موجود پاکستان مخالف گروپوں کے ساتھ کوئی رابطے کرے گی یا ان کی ناکہ بندی کرے گی اور منشیات کی تجارت پر قابو پانے کے لیے کوئی اقدامات کرے گی تاکہ منشیات کے تاجر پاکستان کے راستے منشیات سمگل نہ کر سکیں۔ سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو امریکہ کی اس یقین دہانی سے آگاہ کر دیا لیکن اس حوالے سے جو خبر شائع ہوئی ہے اس سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ آیا سیکرٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ امریکہ کی اس یقین دہانی پر مطمئن ہوئیں اور یہ کہا، آیا مجلس قائمہ نے اس یقین دہانی پر اطمینان کا اظہار کیا؟ اس سوال کے ابھرنے کی وجہ یہ ہے کہ برسرزمین افغانستان میں امریکی افواج اس اہلیت کی حامل نظر نہیں آتیں کہ وہ اس وعدے کو نبھا سکیں۔ امریکی افواج افغانستان میں گزشتہ 16سال سے مقیم ہیں۔ امریکہ کا رعب و دبدبہ فضائی کارروائی کے ذریعے قائم رکھا جاتا ہے۔ برسرزمین کارروائیوں کے لیے امریکہ نے افغان فوج کھڑی کی ہے اس پر اربوں ڈالر خرچ کیے پہلے اس کی تربیت خود امریکیوں نے کی پھر یہ کام بھارت کے انسٹرکٹرز کو بھی سونپا گیا ۔ لیکن افغان فوج نہ تو طالبان کے خلاف مؤثر کارروائی کر سکی جو ملک کے چالیس سے پچاس فیصد علاقے پر قابض بتائے جاتے ہیں اور نہ ہی ملک کے شمالی اتحاد کے زیر اقتدار علاقے میں امن وامان قائم کر سکی۔ جب کچھ عرصہ پہلے پاکستان کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ پاکستان سے ملحق علاقے میں تحریک طالبان پاکستان کے عناصر کے اڈے ختم کیے جائیں اور ان اڈوں سے پاکستان کی سرزمین پر حملوں کا سدباب کیا جائے تو افغان حکومت نے سرکاری طورپر یہ جواب دیا کہ ان علاقوں میں افغان حکومت کی عملداری نہیں ہے۔ اگر ایسے علاقوں پر جہاں سے تحریک طالبان پاکستان کے عناصر پاکستان میں حملہ آور ہوتے ہیں حکومت افغانستان کا کنٹرول نہیں ہے اور امریکی افواج بھی چند چھاؤنیوں تک محدود ہیں تو کیسے یقین کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر حملے کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ سیکرٹری خارجہ کے بیان کے مطابق امریکہ کی یقین دہانی میں یہ بھی شامل ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے زیر انتظام بھی کسی گروپ کو پاکستان پر حملہ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ امریکہ کے بھارت کے ساتھ سو سالہ تعلقات قائم کرنے کے ارادوں کی روشنی میں خیال کیا جا سکتا ہے کہ امریکہ بھارت کو یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ اپنی پاکستان مخالف کارروائیوں کو قابو میں رکھے لیکن اس کی ایک شہادت یہ ہوگی کہ بھارت پاکستانی سرحد کے قریب اپنے 16 قونصل خانے بند کردے۔ اگرچہ ٹریک ٹو مذاکرات میں جو کچھ زیر بحث آتا ہے ضروری نہیں کہ وہ سب کچھ عام کر دیا جائے۔ تاہم پاک امریکہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے حوالے سے وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ جو کچھ بتا رہے ہیں وہ ایک تو یک طرفہ ہے دوسرے اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ مذاکرات اپنا اپنا مؤقف دہرانے تک محدود ہیں یا آگے بڑھ رہے ہیں ۔ اور اگر آگے بڑھ رہے ہیں تو کیا سمت اختیار کر رہے ہیں۔ یہ ٹریک ٹو ڈپلومیسی آخر کار افغانستان کے ایشو کے بارے میں ہو رہی ہے اس لیے اس میں افغانستان کی نمائندگی ہونی چاہیے اور افغانستان میں عدم استحکام کے جو مسائل درپیش ہیں ان پر بات ہونی چاہیے۔ افغانستان کا سب سے اہم مسئلہ عدم استحکام ہے جس کی متعدد وجوہ ہیں اور متعدد عناصر عدم استحکام برقرار رکھنے کے خواہش مند ہو سکتے ہیں۔ افغان طالبان کو اگر امریکہ فوجی شکست دینے میں کامیاب بھی ہو جائے تو افغانستان میں عدم استحکام بڑھے گا کم نہیں ہوگا ۔ اس لیے مفاہمت اور مصالحت کے ذریعے ہی افغانستان میں امن وا ستحکام کی کوششیں بارآور ہو سکتی ہیں۔ جس کے نتیجے میں متحد افغانستان عدم استحکام کی خواہش مند قوتوں کو شکست دے سکے۔ 

اداریہ