Daily Mashriq


تجربوں کا جوا کھیلنے کی ضرورت نہیں

تجربوں کا جوا کھیلنے کی ضرورت نہیں

چند سیاست کاروں کے ’’گھٹالوں ‘‘ کو جواز بنا کر سیاسی عمل پر تبرابازی کے بانی جنرل ایوب خان تھے ۔ ان کے بعد آنے والے ہرفوجی آمر نے پروپیگنڈے کا طوفان اٹھایا ہر وہ گالی سیاسی عمل کو دی اور دلوائی جو مارکیٹ میں دستیاب تھی ۔ مگر اس سادہ سے سوال کا کبھی کوئی جواب نہیں کہ اگر زندگی کے کسی بھی دوسرے شعبہ کے ایک یا چند کرپٹ افراد کی کرپشن پر اس کے ادارے کو مطعون نہیں کیا جا سکتا توچند سیاست کاروں کی لوٹ مار پر پورے سیاسی نظام کو گالی کیوں بنا دیا جاتا ہے ؟۔ جناب نواز شریف ہوں ، جناب زرداری یا پھر چند دوسرے (ان میں خواتین و حضرات دونوں شامل ہیں ) ان کے بعض معاملات کی آڑلے کر سیاسی نظام پر دشنام طرازی نئی بات ہرگز نہیں۔ آگے بڑھنے سے قبل ایک سادہ سا سوال ہے کہ بعض نواردان سیاست یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ ان کا فرمایا معتبر ہے اور ان سے اختلاف کرنے والا ہر قسم کی بد ترین گالی کا حقدار؟ مکرر عرض ہے طبقاتی نظام کے کوچے سے عوامی جمہوریت کی راہ نکل سکتی ہے مگر کسی بھی قسم کے دوسرے نظام سے یہ ممکن نہیں۔ ان سطور میں تکرار کے ساتھ عرض کرتا رہتا ہوں کہ ہم مزید تجربوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ پچھلے تجربوں کے گھائو بہت گہرے ہیں مگر مسئلہ یہی ہے کہ جنہیں حقیقت سمجھنا چاہئے وہ سمجھتے نہیں۔ ان کاخیال ہے کہ خدا کی زمین پر بنے پاکستان کی قیادت و سیادت اور فیصلہ سازی کے سارے حقوق ان کے لئے مختص ہیں۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہ وہ اپنے لانوں اور گملوں میں جو پنیری لگائیں انہیں رعایا متبادل قیادت کے طور پر قبول کرلے۔ عجیب بات یہ ہے کہ ستر برس کی تاریخ کے ماہ و سال اور دوسرے معاملات کا تجزیہ کرتے وقت ہم سب سیاسی عمل کو منہ بھر کے گالی دینے کا شوق پورا کرتے ہیں۔ ویسے اب انہیں ہم جیسے شوقین مزاجوں کی بھی ضرورت نہیں رہی اپنا لشکر تیار کر لیا ہے۔ فقیر راحموں کے بقول گالم گلوچ بریگیڈ۔ آپ فقیر راحموں سے اتفاق نہ کیجئے۔ یہ جنم جنم کا جمہوریت پسند عوامی جمہوریت کے عشق میں خود بھی خوار ہوا اور ہمیں بھی کیا۔ 

آگے بڑھتے ہیں ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ صحافت و سیاست کے میدانوں میں اترے چھاتہ برداروں نے آزادی صحافت اور سیاسی عمل کی کتنی خدمت کی؟ سادہ سا جواب ہے رتی برابر بھی نہیں کیونکہ ان کے اور ان کے آقائوں کے مقاصد کچھ اور ہیں۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ ایوب خان لاکھ کوششوں کے باوجود حسین شہید سہر وردی پر کرپشن ثابت نہیں کرپائے تھے اور پھر سہر وردی بیروت کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے۔ جنرل ضیاء الحق نے اوپر نیچے تین تحقیقاتی ٹیمیں بنائیں مگر ذوالفقار علی بھٹو پر ایک پیسے کی کرپشن ثابت نہ کرسکے۔ بالآخر وہ قتل کے ایک جھوٹے مقدمے میں پھانسی چڑھائے گئے۔ کتنے لوگوں کو یاد ہے کہ سیاسی عمل میں کرپشن صاف ستھرے بلکہ پاک باز برانڈ1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے ذریعے اس وقت داخل ہوئی جب85ء کی اسمبلیوں کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز دئیے گئے۔ اکا دکا چند سر پھروں نے اس وقت سوال کیا تھا بلدیاتی اداروں کی موجودگی میں ارکان اسمبلی کو ترقیاتی فنڈز کی فراہمی کیوں؟ سوال کرنے والوں کے ساتھ کیا ہوا؟ جانے دیجئے اس پرانے رونے کا پھر سے رونا کیا فائدہ دے گا۔جب بھی کوئی حوصلہ کرکے یہ کہتا ہے کہ جن سیاست کاروں کے معاملات کی وجہ سے سیاسی عمل کو گالی بنایا جا رہا ہے ان سیاست کاروں کو لایا کون؟ تو جواب کی بجائے گالم گلوچ بریگیڈ اپنی زبان دانی کے مظاہرے کرتا ہے۔ لیکن کیا گالیوں اور فتوئوں کے ڈر سے سوال کرنا چھوڑ دیا جائے؟ معاف کیجئے گا ایسا ممکن نہیں۔ سوال ہوں گے اور ہوتے رہیں گے۔ دو ہی راستے ہیں سوال کرنے والوں کو اجتماعی موت دے دیجئے یا پھر ٹھنڈے دل سے غور کیجئے کہ آپ کی پالیسیوں‘ تجربوں اور شوق حکمرانی نے اس ملک کو کیا دیا؟ ۔ لاریب طبقاتی نظام کی مجاور سیاسی جماعتوں سے غلطیاں سرزد ہوئیں۔ یہ بھی درست ہے کہ پاکستان کی سیاست نظریات کی بجائے شخصیت پرستی سے عبارت ہے۔ یہ بھی سوچنا ہوگا کہ سیاسی عمل سے نظریات کو بے دخل کیوں اور کس نے کیا؟ مکرر عرض ہے ہم تجربوں کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ٹیکنوکریٹ یا قومی حکومت کیوں۔ فوری طور پر اسمبلیاں کس لئے توڑی جائیں؟ نظام کو چلنے دیجئے۔ نواز شریف اپنے معاملات کے حوالے سے عدالتوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ عدلیہ وہی ہے جسے خود جناب نواز شریف نے بحال کروایا اور اسے آزاد عدلیہ کہتے نہیں تھکتے تھے۔ انہیں بھی سیدھے سبھائو قانونی عمل کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں۔ جن لوگوں کو ’’بہت جلدی‘‘ ہے انہیں ہوش سے کام لینا ہوگا۔ ایسے ہی ہوش اور سیاسی فہم کا مظاہرہ جناب عمران خان کو بھی کرنا چاہئے۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو ممکن ہے کہ یہ بات آج کڑوی لگے لیکن سچ یہی ہے کہ اگر انتخابات مقررہ وقت پر ہوئے تو ان کی سیاست کو بھی زندگی کی رمق میسر آجائے گی ۔ ان کے لئے زیادہ بہتر ہے کہ وہ اپنی تحریک انصاف کو سیاسی جماعت بنانے پر توجہ دیں۔ حرف آخر یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے مشروط ہے۔ یہاں ایک سوال ہے جب انتخابی قوانین میں ترامیم کے وقت قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے امیدواروں کے لئے انتخابی حد مقرر کی جا رہی تھی اس وقت تحریک انصاف نے یہ کہہ کر اس کی مخالفت کیوں نہ کی کہ اس طرح معاشرے کے عام طبقات پر انتخابی سیاست کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند ہوجائیں گے۔

متعلقہ خبریں