Daily Mashriq


نو از شریف پھٹ پڑے

نو از شریف پھٹ پڑے

احتساب عدالت نے لند ن فلیٹس ، العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ تین ریفرنس میں سابق وزیراعظم میاں نو ازشریف پر دوبارہ فرد جرم عائد کر دی تاہم ان کی جانب سے صحت جر م سے انکا ر کیا گیا ، عدالت نے تینو ں ریفرنس کو یکجا کر نے سے متعلق درخواست کو مستر د کر تے ہو ئے کہا کہ ریفرنسز چھ ما ہ میں نمٹائیں گے۔ اس طر ح ہرریفرنس کو ڈیڑ ھ ماہ مل جائے گا۔ سپر یم کو رٹ کے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر اور دوسرے تجزیہ کا ر کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کی جانب سے ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مستر د کیے جا نے کے بار ے میں نو ا ز شریف اسلا م آباد ہا ئی کو رٹ میں اپیل اور حکم امتناعی کی درخواست بھی دائر کر دیں گے جس سے فیصلے میں تاخیر کے امکا نا ت پید ا ہو جا ئیں گے ۔ ادھر سپریم کورٹ نے پا نا کیس پر نظر ثانی کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا اس پر سابق وزیر اعظم پھٹ پڑے اس فیصلے میں نو از شریف کی ذات کے بارے میں جو ریمارکس دئیے گئے ان کے بار ے میں نو از شریف نے کہا ہے کہ جج بغض سے بھرے بیٹھے ہیں ، ستر سال میں جب بھی آمر آئے عدلیہ نے کئی سیا ہ ورق رقم کیے اور عدالت کا یہ فیصلہ بھی سیاہ حروف سے لکھا جا ئے گا۔ سابق وزیر اعظم نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سوال راہبری کا نہیں ہے منصفی کا ہے ، ویسے عدالت کے تفصیلی فیصلے اور نو از شریف کے ردعمل کے بارے میں کئی تجزیہ کا رو ں نے اپنے اپنے نقطہ نظر سے تبصر ہ کیا ہے تاہم نو از شریف کا آمر و ں کے بارے میں عدلیہ کے رویے کی بات کا فی حقیقت سے لگا ئو کھا تی ہے ۔ عرفان قادر کا کہنا ہے کہ احتساب عدالت کا فیصلہ قانونی طورپر غلط ہے تفصیلی فیصلہ آنے پر سب واضح ہوگا ۔ ممتا ز سیا ست دان جا وید ہا شمی نے خد شہ ظاہر کیا ہے کہ پھر ایک نئے ما رشل لاکی تیا ری ہو رہی ہے ۔ ویسے اس بات کے امکا نا ت ہیں کہ کچھ ہو نے کو جا رہا ہے کیو ں کہ صوبہ پختو ن خوا میں حکمر ان جماعت کی جانب سے وقت سے پہلے صوبائی اسمبلی کو تو ڑ نے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ جس کے بارے میں یہ اند یشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ درپر دہ قوتیں چاہتی ہیں کہ نئے انتخابات سے قبل سینٹ کے انتخابات نہ ہو نے پائیں۔ ما رچ میںسینٹ کے انتخابا ت ہو نے ہیں جبکہ چارو ں صوبائی اسمبلیاں اور قومی اسمبلی کی مدت اگلے سال مئی کے آخر تک پو ری ہو نی ہے چنا نچہ گما ن کیا جا تاہے کہ مو جو دہ سیاسی صورت حال میںسینٹ کے انتخابات ہو ئے تو ظاہر ہے کہ مسلم لیگ ن کو پنجاب ، بلو چستان اور قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت حاصل ہے ، اور وہ سینٹ میں بھاری اکثریت سے کا میا ب ہو جا ئے گی ، چنا نچہ یہ الزام دیا جا رہا ہے کہ زرداری میا ں نو از شریف سے ملا قات اور میل ملا پ کو پا کستان سے غداری قرا ر دے کر کنا رہ کشی کسی کو خوش کر نے کے لیے برت رہے ہیں جبکہ عمر ان خان کے بارے میں رائے ہے کہ ان کی ساری مہم اور دھر نا کی دھمکیا ں امپائر کی ا نگلیو ں کے اٹھنے پر ہو رہی ہیں۔اس لیے حلقہ بند یوںکا ایشو کھڑاکردیا گیا ہے ۔ بہر حال تحریک انصاف کی جا نب سے وقت سے پہلے انتخابات کر انے کی مہم اور صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی بات اسی پس منظر میں ہورہی ہے ، مگر زیا دہ تر ما ہر ین قانو ن وآئین کی رائے ہے کہ اگر کوئی صوبائی اسمبلی تحلیل بھی ہو جا ئے تو بھی اپنے وقت پر سینٹ کے انتخابات ہوسکتے ہیں۔ مثلاًاگر صوبہ کے پی کے کی اسمبلی وقت سے پہلے تحلیل کر دی جا تی ہے تو سینٹ کے لیے قومی اسمبلی اور تینو ں صوبوں بلو چستان ، سند ھ اور پنجا ب کی اسمبلیا ں اپنے اپنے سینٹ کے ارکا ن کا انتخاب کر سکتی ہیں اسی طر ح قومی اسمبلی کے بھی حلقے میں سینٹ کے انتخابات ہو سکتے ہیں۔ جب تحلیل شد ہ اسمبلی کے انتخابات ہو جا ئیںتو پھر اس حلقے کے سینٹ کے انتخابات کا انعقاد ہو سکتا ہے ، چنا نچہ مسلم لیگ ن کے راستے میں روک لگا نے کے لیے کوئی نیا طریقہ کار تلاش کر نا ہوگا ۔ جہا ں تک نو از شریف کی سیا ست کا جنا زہ نکالنے کا معاملہ ہے وہ بھی کسی حد تک ممکن نہیںرہا ۔ گو سابق چیف جسٹس افتخار چودھری بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر احتساب عدالت سے نو از شریف سرخرو ہو کر شفاف ہو بھی جائیں تو بھی وہ نا اہل ہی رہیں گے بات تو ان کی درست ہے لیکن ابھی نا اہلیت سے بچنے کے لیے ان کے پاس ایک راستہ ہے ۔ یو ں تو نو ا ز شریف کو پا نا ما کیس میں مجرم تو قر ار دید یا گیا ہے اور ان کی نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد ہو چکی ہے جس کے پیش نظر میا ں صاحب کے بچنے کا کوئی امکا ن نہیں ہے مگر ایک راستہ بچا ہوا ہے وہ آئین کا آرٹیکل 45ہے جس کے تحت صدر مملکت کو یہ صوابدیدی اختیا ر حاصل ہے کہ صدر پا کستان کسی عدالت کسی ٹریبونل یا کسی بھی اتھارٹی کی جا نب سے دی گئی سزا کو تبدیل ، معطل ، ملتوی ، ختم یا معاف کر دے۔ ما ضی میں یہ اختیار آصف زرداری نے استعمال کیا جب رحمن ملک کو احتساب عدالت سے سزا ہوئی تو آصف زرداری نے ان کی سزا معاف کی تھی۔نو از شریف کے پا س پاناما کیس پر نظر ثانی کی درخواست پر تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اب ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ وہ صدر پاکستان کو اپیل کر یں اور یہ کوئی غیر معمولی بات نہ ہو گی کیو ں کہ وہ یہ آئینی حق رکھتے ہیں کہ وہ اپنی سزا کے فیصلے کے بارے میں صدر کو اپیل کر یں۔ صدر مملکت کو آئین میںجو اختیا ر حاصل ہے وہ دراصل عوام کاآئینی حق ہو تا ہے ۔عموماًقتل کے جر م میں سزا پا نے والے صدرمملکت کو اسی اختیا ر اور اسی حق کے تحت اپیل کر تے ہیں ۔

متعلقہ خبریں