Daily Mashriq


ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

مرزا غالب کو میر تقی میر کے بعد اہمیت یوں ہی نہیں دی جاتی ۔ اور اگر میر کو خدائے سخن کہا جاتا ہے تو مرزا نوشہ کو شہنشاہ سخن بجا طور پر سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ وہ ہر موقع پر اپنے کلام ہی کے ذریعے اپنے ہونے کا احساس دلادیتے ہیں ، انہیں آنے والی صدیوں بلکہ زمانوں کا شاعر قرار دیا جاتا ہے ۔ ان کا ایک شعر اکثر بلکہ بیشتر مواقع پر استعمال کیا جاتا ہے ، کہتے ہیں 

پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق

آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا ؟

گزشتہ روز ہمارے کالم میں ہمارے ساتھ ہی کچھ ایسی ہی صورتحال درپیش رہی ، بلکہ اس حوالے سے ہمیں وہ بے چارے ایڈیٹر یاد آگئے جن کے ساتھ بھی ایسی ہی واردات پیش آگئی تھی ۔ یعنی ہوا یہ کہ ہم نے کالم میں عزیر بلوچ کا ذکر کیا لیکن پہلے تو حضرت کمپوزر نے ہمیں اس ایڈیٹر کی طرح (جس کا ذکر آگے آئے گا ) یا تو بھلکڑ یا پھر شاید کم علم سمجھ کر اسے عزیز بلوچ کر دیا (AzizBaloch) کردیا ۔ اور جہاں جہاں ہم نے عزیر بلوچ لکھا تھا یعنی آٹھ جگہ ۔ وہاں وہاں نام کے حرف (رے ) کونقطہ لگا کر (زے) کر کے عزیز بلوچ بنا دیا ۔ اور وہ جو سیانوں نے کہا ہے کہ

ہم دُعا لکھتے رہے اور وہ دغا پڑھتے رہے

ایک نقطے نے ہمیں محرم سے مجرم کر دیا

کالم پڑھ کر ہم تو سر پکڑ کر بیٹھ گئے ۔ کیونکہ ہمیں اپنے محترم قارئین سے ’’نالائقی کی سند‘‘ ملنے کا قوی یقین ہوگیا تھا کہ اتنے مشہور کردار عزیر بلوچ کے بارے میں تو پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے اور اگر کوئی اور نہیں تو ایک کالم نویس اسے عزیز بلوچ بنا کر اس کے بارے میں کچھ لکھے تو کالم نگار کی ’’نالائقی ‘‘ میںکیا کسر رہ جاتی ہے ۔ اسی لئے ہمیں وہ ایڈیٹر بے چارہ یاد آگیا جس نے مشہور عالم مصور پکا سو (Piccaso)کے بارے میں مضمون لکھ کر کاتب کے حوالے کردیا اور اسے ہدایت کی کہ رسالے میں شامل کر کے جلد سے جلد پریس بھجوادے ، یہ وہ دور تھا جب اخبارات ابھی جدید دور میں داخل نہیں ہوئے تھے ۔یعنی کتابت جس کا غذ پر کی جاتی تھی اسے مسطر کہا جاتا ، اس کار نگ بھی زردی مائل ہوتا اور ایک خاص روشنائی سے کتابت کی جاتی تا کہ زرد رنگ کے مسطر پر نظر آئے ۔ کتابت میں غلطی ہوجاتی تو اس جگہ کو کاٹ کر درست نقطہ علیحدہ کاغذ پر لکھ کر چیپی لگا دی جاتی ۔ پھر پریس میں اسے ایک خاص طریقے سے پلیٹ پر منتقل کیا جاتا تو اس پر اسیس کے دوران کئی جگہ الفاظ اڑ جاتے جنہیں درست کرنے کیلئے ماہر کاریگر پریس میں ہوتے جن کو سنگ ساز کانام دیا جاتا ، بہر حال جس مضمون کا تذکرہ ہم نے کیا ہے اسے متعلقہ ایڈیٹر کو دوبارہ پڑھنے یعنی پروف کرنے کا موقع نہیں مل سکا تھا ، اب حضرت کاتب نے جب مضمون میں جگہ جگہ پکاسو (Picaso)لکھا دیکھا تو وہ یہ سمجھا کہ ایڈیٹر نے جلد بازی میں ہر جگہ جہاں پکا سو لکھا تھا ، حرف (رے ) چھوڑ دیا ہے ، اس لئے اس نے ایڈیٹر کے مضمون کی تصحیح کو ضروری جانتے ہوئے جہاں جہاں پکاسو لکھا تھا اسے حرف رے کے اضافے کے ساتھ پکا سور بنادیا ۔ کاپی پریس میں چلی گئی اور جب رسالہ چھپنے اور بائنڈنگ کے بعد واپس آیا تو ایڈیٹر پکاسو جیسے عالمی شہرت یافتہ مصور کے ساتھ حضرت کاتب کی کارستانی دیکھ کر بالکل اسی طرح سرپکڑ کر بیٹھ گیا جیسا کہ ہم اپنے کالم کا حشر دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوگئے اور قارئین کرام کی جانب سے یقینی نالائقی کی سند کے حصول کے خطرے میں پڑ گئے

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ

ایک وہ ہیں جنہیں تصویر بنا آتی ہے

دراصل اس میں تھوڑا بہت قصور ہمار ا بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر ہم جہاں جہاں عزیر بلوچ لکھا تھا وہاں انگریزی ہجے بھی لکھ دیتے تو شاید کمپوزر صاحب سے یہ غلطی نہ ہوتی ۔ اوروہ بھی پکا سو کو پکاسور بنانے والے کا تب کی طرح عزیر بلوچ کو عزیز بنا کر ہماری کم علمی کا برملا اعلان نہ فرماتے ۔ تاہم جہاں تک پرانے واقعے کی بات ہے تو ایک تو اس زمانے میں اخبارات اور رسالے ترقی کے مدارج طے نہیں کر پاتے تھے اور اکثر رسالے بلکہ ہفتہ وار اور سہ روزہ اخبارات بھی ایک ہی ایڈیٹر اور ایک ہی کاتب کے وجود سے قائم تھے ، جیسے کہ پشاور میں کسی زمانے میں ایک سہ روزہ اخبار ہوا کرتا تھا ’’آزادی ‘‘۔ اس کے ایڈیٹر مرزا چغتائی نام کے ہوا کرتے تھے ۔ جبکہ ان کے کاتب افغانستان سے بچہ سقہ کے دورمیں افغانستان سے ہجرت کرنے والوں میں سے تھے ، وہ بچپن ہی میں والدین کے ساتھ پشاور آکر آباد ہوئے تھے ۔ تعلیم واجبی سی تھی مگر خط بہت خوبصورت تھا ، کیرم بورڈ کے اعلیٰ پائے کے کھلاڑی بھی تھے ، خیر ، ہوا یوں کہ ایک دفعہ مرزا چغتائی عدالتوں میں نئی خبریں لینے گئے تھے ، وہیں سے فون کر کے اپنے کاتب آغہ جان کو ایک خبر لکھوائی جو یوں تھی کہ چارسدہ میں دیرینہ دشمنی پر قتل کرنے والے کو پھانسی کی سزا ہوگئی ، تفصیل بھی لکھوا کر ہدایت کی کہ کاپی مکمل کر کے جلد سے جلد پریس پہنچا دو ، آغہ جان نے خبر کی سرخی یوں جمائی ’’۴سدہ میں ۔۔۔‘‘ یعنی چارسدہ میں چار کو ہند سے ۴ میں تبدیل کر کے لفظ چارسدہ کی ہئیت ہی تبدیل کر دی ، اور جب اخبار چھپ کر آیا تو مرزا چغتائی کی کیا حالت تھی ، اس پر کوئی تبصرہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے ۔ تو گزشتہ روز ہمارے کالم کے ساتھ صرف ایک نقطے نے جو حشر کیا اس پر ہم کیا عرض کر سکتے ہیں ۔

متعلقہ خبریں