Daily Mashriq


سعودی ولی عہد کے کریک ڈائون کا ردِ عمل کیا ہوگا ؟

سعودی ولی عہد کے کریک ڈائون کا ردِ عمل کیا ہوگا ؟

سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان سعودی بادشاہت میں اقتدار پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے میں کامیاب ہوگئے جس کے لئے انہوں نے ایسے اقدامات کئے ہیں جن کی مثال سعودی عرب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ ولی عہد کی جانب سے شاہی خاندان کے اہم اراکین کی گرفتاری کے بعد خاندان کے اندر خلفشار ، فوج اور نیشنل گارڈ کے دستوں میں اضطراب اورافواہوں کے گرم بازار( جس میں پرنس عبدالعزیز بن فہد کی مشکوک حالات میں موت کی افواہ سب سے زیادہ گرم ہے) سے صاف ظاہر ہے کہ ولی عہد کواقتدار پر اپنا قبضہ مضبوط کرنے کے لئے ابھی مزید اقدامات کرنے ہوں گے۔ اس بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ صورتحال اس وقت پرنس محمد بن سلمان کے قابو میں نظر آرہی ہے لیکن مستقبل میں حالات تبدیل بھی ہوسکتے ہیں۔ پرنس محمد بن سلمان یہ سمجھتے ہیں کہ اقتدار پر مکمل قبضے اور مطلق العنانی کے لئے ایسے سخت اقدامات اور مخالفین پرکریک ڈائون ضروری ہے۔ ایسے حلقوں اور لوگوں کی جانب سے ولی عہد کو مستقبل میں تنقید اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جن کے ذاتی مفادات کوولی عہد کی اصلاحات اور اقدامات سے خطرہ لاحق ہے ۔ اس کے علاوہ ولی عہد کو یمن جنگ مخالف حلقوں سے بھی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے ساتھ ساتھ انتہائی قدامت پسند روایات کے خلاف اقدامات بھی ولی عہد پر تنقید کا باعث بن سکتے ہیں۔متوقع مزاحمت اور تنقید کے تناظر میں دیکھا جائے تو پرنس عبدالعزیز کے بارے میں پھیلنے والی افواہیں بھی ولی عہد پر دبائو میں اضافے کاسبب بن رہی ہیں۔ پرنس عبدالعزیز ، شاہ فہد مرحوم کے صاحبزادے اور مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ کمپنی (ایم بی سی) کے بڑے حصہ داروں میں شامل ہیں۔ مڈل ایسٹ براڈ کاسٹنگ کمپنی العریبیا ٹیلی وژن نیٹ ورک چلاتی ہے جس کے دیگر بڑے حصہ داروں میں شاہ کے برادرِ نسبتی ، اور چند دن پہلے گرفتار ہونے والے، ولید بن ابراہیم الابراہیم بھی شامل ہیں۔پرنس عبدالعزیز سابق ولی عہد پرنس محمد نائیف کے حامی ہیں جنہیںاس سال کے اوائل میں منشیات کے عادی ہونے کی خبریں سامنے آنے کے بعد ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا ۔ اس وقت سے لے کر آج تک پرنس محمد نائیف اپنے گھر میں نظر بند ہیں۔ پرنس عبدالعزیز سابق لبنانی وزیرِ اعظم سعد حریری کے خاندان کی ملکیت ایک کمپنی سعودی اوگر میں حصہ دار بھی تھے جس سے انہوں نے پچھلے ہفتے استعفیٰ دے دیا تھا۔پرنس عبدالعزیز،مبینہ طور پر، اپنے مخالفین کے خلا ف کارروائی کرنے میں انتہائی حد تک جانے کے لئے بھی بدنام تھے ۔ سعودی شاہی خاندان کے بارے میں پھیلنے والی افواہوں کی وجہ سے اسے سوویت یونین دورکے کریملن سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اب تک سامنے آنے والی خبروں اور رپورٹس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ولی عہد کی جانب سے شاہی خاندان کے ان افراد پر کریک ڈائون کیا گیا ہے جن کا تعلق شاہ عبداللہ اور شاہ فہد سے تھا۔ اس کے علاوہ پرنس محمد بن نائیف کے والد اور اپنے وقت کے بارسوخ وزیرِ داخلہ پرنس نائیف بن عبدالعزیز السعود کا خاندان بھی اس حوالے سے نشانے پر ہے۔ ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے شاہی خاندان اور شہزادوں کے خلاف کئے جانے والے کریک ڈائون سے سعودی معاشرے کے وہ حلقے خوش دکھائی دیتے ہیں جو ایک طویل عرصے سے شاہی خاندان کے افراد کو بڑے بڑے ٹھیکے دینے اور شہزادوں کی جانب سے زمینوں پر قبضہ کرنے کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

1950ء کی دہائی تک سعودی عرب میں شاہی خاندان کوپبلک فنڈز کو اپنے ذاتی کاموں کے لئے استعمال کرنے کی اجازت حاصل تھی ۔ اس ہفتے انٹرنیشنل کنسورشیم آف انویسٹی گیٹیو جرنلسٹس (آئی سی آئی جے) کی جانب سے شائع ہونے والے پیراڈائز پیپرز میں دنیا کے بہت سے ممالک کے حکمرانوں اور اشرافیہ کے خفیہ کاروباروں اور آف شور کمپنیوں کا راز افشا کیا جس کے بعد سعودی شاہی خاندان کی ایک اور اہم شخصیت کے ولی عہد کے زیرِ عتاب آنے کے امکانات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ولی عہد محمد بن سلمان کے حالیہ کریک ڈائون کا نشانہ بننے والوں کی ایک بڑی تعداد کے نام پچھلے سال شائع ہونے والے پانامہ پیپرز میں بھی آئے تھے۔پانامہ پیپرز میں بہت سے سعودی شہریوںکے نام آئے تھے جن میں شاہی خاندان کی بن سلمان شاخ کے کئی افرادشامل تھے۔شاہی خاندان کے لئے مخصوص ایک لاکھ سپاہیوںپر مشتمل نیشنل گارڈ، جنہیں شاہ عبداللہ کے انتہائی قریب سمجھا جاتا تھا، نے اپنے گارڈ کمانڈر اور شاہ عبداللہ کے بیٹے پرنس مطائب بن عبداللہ کی گرفتاری اورنیوی کمانڈر وائس ایڈمرل عبداللہ بن سلطان بن محمد بن السلطان کی معطلی پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ نیشنل گارڈ کو ان اقدامات سے پہلے اعتماد میں لیا گیا تھا۔سعودی ولی عہد پرنس محمد بن سلمان کے حالیہ کریک ڈائون کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سراہا گیا ہے جس پر ایک سابق سی آئی اے آفیشل برو س ریڈل کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ خود کو ایک جذباتی نوجوان ولی عہد کے ساتھ منسلک کررہی ہے اورایسا دکھائی دے رہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ آنے والے خطرات سے غافل ہے لیکن ان خطرات میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔

(ترجمہ: اکرام الاحد )

متعلقہ خبریں