Daily Mashriq


مفاہمت متاثر نہ ہونے پا ئے

مفاہمت متاثر نہ ہونے پا ئے

وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار خان آفریدی کا یہ انکشاف حیرت انگیز ہے کہ دھرنے کے دوران جلاؤ گھیراؤ اور فساد کے واقعات میں پارلیمنٹ میں بیٹھی بعض ایسی سیاسی جماعتوں کے کارکن بھی ملوث تھے جو ہمیں ایوان میں مظاہرین کیخلاف طاقت استعمال نہ کرنے کا مشورہ دیتی تھیں۔ حکومت تحقیقات کرا رہی ہے، ہم ان میں سے کسی کو معاف نہیں کریں گے۔ قانون توڑنے والوں کیساتھ کوئی رعایت نہیں ہوگی، جلاؤ گھیراؤ کے ذمہ داروں کو نشان عبرت بنا دیں گے۔ جو قانون توڑے گا اور ریاست کی عمل داری کو چیلنج کرے گا اس کیخلاف سخت کارروائی ہوگی چاہے وہ کابینہ یا پارلیمنٹ کے ارکان ہی کیوں نہ ہوں۔ ہم نے تحریک لبیک کیساتھ پُرامن مذاکرات کئے اور انہوں نے معذرت بھی کی‘ نئے پاکستان میں ہم کسی پر گولی چلانے کے حق میں نہیں ہیں۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدرآصف زرداری کا کہنا ہے کہ حکومت نے فساد کے ذمہ داروں سے این آر او کر لیا۔ انہوں نے مولوی صاحبان کو چھوڑ دیا اوراب 1200غریبوں کو پکڑیں گے۔ لگتا ہے حکومت کی انڈر 14ٹیم کھیل رہی ہے، سیاست میں کبھی حالات گرم کئے جاتے ہیں تو کبھی ٹھنڈے شاید نواز شریف اور مریم نواز حالات ٹھنڈے کر رہے ہیں۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور وزیر مملکت برائے داخلہ کے بیان اور جوابی بیان کے بعد پارلیمنٹ میں حزب اختلاف کی جماعتوں اور حکومت کے درمیان جس واحد معاملے میں مفاہمت دکھائی دے رہی تھی اس کی ہنڈیا بھی بیچ چوراہے پھوٹ گئی ہے جس کے بعد حکومت اور حزب اختلاف کو ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے تصور کرنا غلط نہ ہوگا۔ اس مرتبہ پیپلز پارٹی کا لب ولہجہ مسلم لیگ(ن) کے لب ولہجے سے زیادہ گرجدار ہے۔ پیپلز پارٹی نے اس کا احساس کرتے ہوئے اس امر کا بھی عندیہ دیا ہے کہ مسلم لیگ(ن) بالحکمت اپنا لب ولہجہ ٹھنڈا رکھ رہی ہے اور وہ معاملات کو ٹھنڈا رکھنا چاہتی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے قائد نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت پر رہائی کے بعد جس خاموش حکمت عملی پر عمل پیرا ہیں اس کے تناظر میں ڈیل کے شبہات کو تقویت تو ملتی ہے لیکن عدالت سے رہائی کے معاملے کی اس قسم کی تشریح مناسب نہیں۔ بہرحال مسلم لیگ(ن) کی قیادت کی اپنی مجبوریاں اور معاملات ہیں لیکن دوسری جانب پیپلز پارٹی کی قیادت کو جو فوری خطرات درپیش تھے ایسا لگتا ہے کہ اس حوالے سے بھی معاملات میں کہیں نہ کہیں نرمی کی صورت پیدا ہوگئی ہے یا پھر ابھی مناسب وقت کا انتظار ہے اس کا تو وقت آنے پر ہی پتہ چلے گا۔ یہ بات بہرحال قابل ذکر ضرور ہے کہ سابق صدر زرداری نے ایسی کوئی بات نہیں کہی جس کا کوئی سر پیر نہ ہو۔ حکومت نے سڑکوں پر آکر عدالت سے عسکری قیادت تک سبھی کو للکارنے اور لعن طعن کرنے والوں سے معاہدہ ضرور کیا ہے جو خود وزیراعظم کی صاف گوئی کے مطابق ایسا نہ کیا جاتا تو ان کی حکومتوں کا خاتمہ ہو سکتا تھا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دھرنوں اور احتجاج سے حکومتوں کے مستعفی ہونے اور حکومت کے چلے جانے کا اب رواج باقی نہیں رہا۔ اب اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے والے ہر قیمت پر مدت اقتدار پورا کرتے ہی چلے جاتے ہیں۔ دھرنوں اور احتجاج سے اگر حکومتوں کا خاتمہ ممکن ہوتا تو پاکستان تحریک انصاف کے ایک سو چھبیس دن کا دھرنا لاحاصل قرار نہ پاتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے جن عناصر سے معاہدہ کر کے احتجاج ختم کروایا اس کے قائدین اور کارکنوں پر درج سنگین مقدمات کو آگے نہ بڑھانا حکومت کی معاہدے کے باعث مجبوری تو سمجھ میں آجاتی ہے مگر اس بات کی سمجھ نہیں آتی کہ وزیرمملکت برائے داخلہ اس احتجاج کے دوران تشدد کو اُلٹا ان جماعتوں پر کیسے تھوپ رہے ہیں جنہوں نے بھرے ایوان میں حکومت کو مدد وتعاون کا یقین دلا کر مشکور ہونے کا موقع دیا۔ ہمارے تئیں احتجاجی عناصر کا تعلق کسی بھی جماعت سے ہونے کا یہ مطلب نہیں لیا جانا چاہئے کہ وہ بطور سیاسی جماعت کے کارکنوں کے سیاسی مقاصد کیلئے احتجاج میں شریک تھے۔ ان کارکنوں کا تعلق خواہ جس سیاسی جماعت سے بھی تھا وہ اپنے تئیں سیاست سے جدا معاملے پر احتجاج کر رہے تھے۔ ممتاز قادری کسی سیاسی جماعت کے کارکن نہیں تھے بلکہ پولیس اہلکار تھے جنہوں نے ذاتی فیصلے کے تحت ہی گورنر پنجاب کو اس لئے قتل کیا کہ وہ ان کے عقیدے اور عقیدت کا سوال اور جذبہ تھا۔ ہمارے تئیں اس معاملے میں سیاسی جماعتوں کو یوں معتوب ٹھہرانا اور حکومت کا دوسری جانب احتجاج کرنے والے عناصر سے واضح معاہدہ‘ یقین دہانی اور عدم کارروائی قول وفعل کے تضاد کے زمرے میں آتا ہے جو مناسب نہیں۔ اس معاملے کو الزام تراشی وجوابی الزام تراشی کا ذریعہ نہ بنایا جائے اور معاملے کو ہوا دینے سے گریز کیا جائے۔ جو جو افراد ہنگاموں میں ملوث تھے حکومت ان کیخلاف ضرور کارروائی کرے مگر ان کو سیاست سے نہ جوڑے بلکہ فسادی عناصر ہی قرار دے۔ دوسری جانب حکومت کو یہ بھی ذمہ داری پوری کرنا ہوگی کہ وہ صرف کارکنوں اور پست سطح کے افراد ہی کیخلاف کارروائی نہ کرے اور نہ ہی بعض عناصر جن سے معاہدہ کیا گیا ان کے کارکنوں سے صرف نظر کرے۔ تقاضائے انصاف تو یہ ہے کہ حکومت احتجاجی عناصر کی مرکزی قیادت کیخلاف کارروائی سے آغاز کرے نہ کہ ان کیخلاف درج ایف آئی آر سیل کرکے مٹی پاؤ کا عمل دہرائے۔ جب تک بلاامتیاز کارروائی نہیں ہوتی حکومتی عناصر کی معاملے کو سیاسی جماعتوں کی طرف موڑنے کا عمل درست امر نہ ہوگا۔ جن لوگوں نے قومی طور پر حکومتی اقدامات کی حمایت کی ہے ان عناصر کو قصوروار گرداننا اور جنہوں نے ببانگ دہل ملکی قیادت وعدالت کو للکارا ہو ان سے عدم تعرض کی پالیسی اپنانا کسی طرح موزوں نہیں۔ حکومت کو سوچنا چاہئے کہ اس کی اس قسم کے دعوے خواہ اس میں حقیقت کا عنصر کتنا بھی ہو کبھی بھی قابل قبول نہیں بن سکتے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ حکومت اس ضمن میں ایک واضح لائحۂ عمل اختیار کرے گی اور راست اقدام کا فیصلہ کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں