Daily Mashriq


بجلی کے خالص منافع کی بقایاجات سمیت ادائیگی کا وعدہ

بجلی کے خالص منافع کی بقایاجات سمیت ادائیگی کا وعدہ

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا حکومت کو پن بجلی کے سالانہ منافع 135ارب روپے کی ادائیگی پر عمل درآمد یقینی بنانے کا وعدہ بشرط ایفاء اور صوبائی حکومت کو پن بجلی کی مد میں بقایاجات ملنے کی اُمید صوبے کے عوام کیلئے خوشخبری ہے۔ امر واقع یہ ہے کہ گزشتہ تین سال کے دوران وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا کو پن بجلی کی مد میں بقایاجات کی ادائیگی نہیں کی گئی تھی جس کے باعث صوبے میں ترقیاتی منصوبے متاثر ہوئے۔ صرف سابق حکومت ہی پر کیا موقوف ہمارے صوبے کو بجلی کے خالص منافع کی رقم کی ادائیگی میں ہمیشہ سے مشکلات کا سامنا رہا ہے۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ صوبے اور مرکز میں ایسی حکومتیں کم ہی آئیں جن کے تعلقات پوری طرح سے استوار ہوں۔ یہ پہلی مرتبہ کا حسن اتفاق ہے کہ صوبے میں جس جماعت کی واضح اکثریت کیساتھ دوسری مرتبہ حکومت آئی ہے وفاقی حکومت میں آنے کیلئے بنیاد، تعاون اور اکثریت خیبر پختونخوا کے عوام کا عطا کردہ ہے جس کی بناء پر یہ وفاقی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ زیادہ نہیں تو وفاق کے ذمے صوبے کی بجلی کے خالص منافع کی بھاری رقم کی ادائیگی کا بندوبست کرے اور اس امر کو یقینی بنائے کہ سالانہ طور پر صوبے کا جو حق بنتا ہے اس کی ادائیگی میں تعطل نہ آنے دے۔ خیبر پختونخوا کا بجٹ پیش کرتے ہوئے ہر بار بجلی کے خالص منافع کی رقم شامل کی جاتی ہے جس کے نہ ملنے سے بعد میں پورے بجٹ کا حجم ایسا بگڑ جاتا ہے جسے پورا کرنے کیلئے کئے جانے والے جتن سے صوبائی میزانیہ کا توازن برقرار رکھنا پڑتا ہے جس کے اثرات سے باقی ماندہ معاملات متاثر ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر وفاقی حکومت بقایاجات کی ادائیگی کی ذمہ داری نبھائے اور تسلسل کیساتھ سالانہ خالص منافع کی خطیر رقم کی ادائیگی یقینی بنائی جائے تو صوبے میں کئی اہم منصوبے شروع کر کے ان کی تکمیل ممکن ہوگی، جس سے صوبے کے عوام کے کئی مسائل حل ہو سکیں گے اور صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے عندیہ ظاہر کرنے کے بعد یقینا صوبائی حکومت کی معاشی ٹیم اس رقم کے حصول کے عمل میں جت جانے کیساتھ ساتھ صوبے میں ایسی منصوبہ بندی بھی کی جائے گی کہ اس رقم کا زیادہ سے زیادہ نافع منصوبوں میں استعمال یقینی بنایا جائے۔

بے سہارا خواتین کے تحفظ اور پناہ کے مسائل

حکومتی ترجیحات مختلف ہونے اور نئے منصوبے شروع نہ کرنے کے فیصلے کے باعث خیبر پختونخوا میں تشدد، ہراساں اور دیگر مظالم کا شکار ہونے والی خواتین کیلئے ملتان کی طرز پر مجوزہ سنٹر کے قیا م کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ جانا ستم رسیدہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکامی کے مترادف امر ہوگا۔ مجوزہ سنٹر قائم کرنے پر 25کروڑ روپے لاگت آنی تھی اور اس سنٹر میں خواتین کو چار سہولیات فراہم کرنے کی تجویز تھی جن میں طبی، قانونی، نفسیاتی اور پولیس شامل تھیں۔ مجوزہ مرکز میں جن سہولیات کی فراہمی کا پروگرام بنایا گیا ہے محکمہ سماجی بہبود اس قسم کے دعوے کاغذوں کی حد تک تو کرسکتی ہے عملی طور پر اس کی کارکردگی صفر ہے۔ اس کے باوجود بہرحال صوبائی حکومت کیلئے پچیس کروڑ روپے کے منصوبے پر عملدرآمد زیادہ مسئلہ نہیں ہونا چاہئے۔ اسے ترقیاتی پروگرام میں شامل نہ کرنا اور اگلے سال کیلئے منصوبہ تجویز کرنا افسوسناک امر اس لئے ہے کہ دعوؤں اور وعدوں کے باوجود خیبر پختونخوا میں خواتین کی حالت زار بہتر بنانے اور خاص طور پر حالات کے ہاتھوں بے سہارا ہونے والی خواتین کے لئے سہولت بلکہ پناہ دینے کے اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ صوبے میں اس قسم کی خواتین کو صرف سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ان کو اچانک اپنے ہی قربت دارں سے زندگی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ اس ضمن میں جہاں محکمہ سماجی بہبود کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی چاہئے وہاں حکومت کو اس قسم کے مراکز صوبے کے مختلف اضلاع میں قائم کرنے میں تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔

متعلقہ خبریں